30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کرنا ہے ۔ ‘‘ ( [1] )
مدنی گلدستہ
سیدنا ’’معاذ بن جبل ‘‘ کے 9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 9مدنی پھول
(1) کسی کااَزراہ ِشفقت ومحبت ہاتھ پکڑ کر کلام کرنا بالکل جائز اور سنت سے ثابت ہے ۔
(2) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے آپ سے مانوس رکھا کرتے تھے ۔
(3) حضور نبی اکرم شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے پیارے صحابی حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے بہت زیادہ محبت تھی بلکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنی اس محبت کا اظہار بھی فرمایا ۔
(4) رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ پکڑ کر گویا ان سے عقد محبت اور بیعت محبت فرمائی ۔
(5) جب کسی سے رضائے الٰہی کے لیے محبت ہوجائے تو محبت کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ جس سے محبت کرتا ہے اسے بتادے تاکہ دونوں میں مزید محبت والفت بڑھ جائے ۔
(6) حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے لیے یہ بہت بڑے اعزازکی بات ہے کہ آپ سے خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم محبت فرمایا کرتے تھے ۔
(7) حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بارگاہ رسالت سے کئی اعزازات حاصل ہوئے ۔
(8) اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ہم پر اتنی عنایتیں اور نعمتیں ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا نا ممکن ہے ، لہذا ہمیں اس کی نعمتوں کا ہر دم شکر ادا کرنا چاہیے ۔
(9) اچھی عبادت وہ ہے جوتمام شرائط وارکان ، سنن ، خشوع وخضوع ، اخلاص و دل جمعی اور کامل توجہ کے ساتھ ادا کی جائے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بھی اپنے مسلمان بھائیوں سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بھی حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سچی پکی محبت نصیب فرمائے ، حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے صدقے ہمیں بھی اپنے سچے ذکر ، شکر اور عبادت کرنے کی توفیق عطاد فرمائے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 385 جس سے محبت کرتے ہواس کو بتادو
عَنْ اَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَجُلًا كَانَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ رَجُلٌ بِهِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ الله اِنِّي لَاُحِبُّ هَذَا فَقَالَ لَهُ النَّبيّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَاَعْلَمْتَهُ؟ قَالَ : لَا قَالَ : اَعْلِمْهُ ! فَلَحِقَهُ فَقَالَ : اِنِّي اُحِبُّكَ فِي اللهِ فَقَالَ : اَحَبَّكَ الَّذِي اَحْبَبْتَنِيْ لَهُ. ( [2] )
ترجمہ : حضرت سیدناانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ میٹھے میٹھے آقا ، مکی مدنی مصطفے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں ایک شخص حاضر تھا کہ وہاں سے ایک اور شخص کاگزر ہوا تو بارگاہ رسالت میں موجود شخص نے کہا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! بے شک ! مجھے اس سے محبت ہے ۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’کیا تم نے اسے بتا دیا ہے ؟ ‘‘ عرض کی : ’’نہیں ۔ ‘‘ فرمایا : ’’اسے بتا دو ۔ ‘‘ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا اور کہا : ’’مجھے محض رضائے الٰہی کے لئے تم سے محبت ہے ۔ ‘‘ یہ سن کر اس نے کہا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ تجھ سے محبت فرمائے جس کی رضا کے لئے تمہیں مجھ سے محبت ہے ۔ ‘‘
صحابہ کرام کی بارگاہِ رسالت میں حاضری :
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعلم کائنات ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب کی تربیت فرمائی اور پھر ان کے ذریعے پورے عالَم میں اسلامی اَحکامات کی ترویج واِشاعت ہوئی ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ وہ ہر وقت حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں اسلامی تعلیم وتربیت کے لیے حاضررہا کرتے تھے ، یہی وجہ ہے کہ آج ہم تک صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے واسطے سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ طیبہ کا ہر ہر پہلو بالکل واضح ہو کر پہنچا ہے ، یقیناً یہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا اُمَّتِ مسلمہ پر احسان عظیم ہے ۔
صحابہ کرام ذاتی اُمور بھی بتادیتے تھے :
حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی اُمَّت کے تمام اَحوال سے واقف ہیں ، جو لوگ آپ کے پاس موجود ہوتے یا غائب ہوتے تمام کے ظاہری وباطنی اَحوال سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو مطلع فرمایا ہے لیکن صحابہ کرام آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بہترین راہنمائی لینے کے لیے اپنے ذاتی معاملات بھی بتادیا کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں بھی صحابی نے اپنا ذاتی معاملہ بارگاہِ رسالت میں پیش کیا تاکہ بہتر راہنمائی ملے اور پھر ویسا ہی ہوا کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں اپنی محبت اپنے مسلمان بھائی کو بتانے کا حکم دیا جو ان
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع