دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نہ کرے ۔  تمام چیزوں سے بڑھ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت کرنا ایمان کامل کی نشانی ہے ، لیکن غور کیجئے اس معزز ہستی یعنی حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قسمت پر جن سے خود حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم محبت فرماتے ہیں ، نہ صرف محبت فرماتے ہیں بلکہ اُن سے محبت کا اِظہار بھی فرماتے ہیں ۔  حضرت سیدنا معاذ بن جبل کو بارگاہِ رِسالت سے یہ بہت بڑا اِنعام واِکرام اور اِعزاز عطا ہوا جس پر دنیا کے تمام اِنعام واِکرام اور اِعزازات قربان ہوں ۔  عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  ’’حضرت سیدنامُعاذ بن جَبَل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوبارگارہِ نبوی میں اتنا عظیم  مرتبہ ملنا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی عظمت وفضیلت ، استقامت اور اُمُورِ  دِینیہ کے اہتما م کی  واضح دلیل ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

سیدنا معاذ بن جبل کی رسولُ اللہ سے محبت :

نسائی اور مسند احمد کی روایت میں یہ بھی ہے کہ جب حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا تو سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بھی عرض کی :  ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !  میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ۔ ‘‘ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اظہار محبت میں بہت زیادہ تاکید ہے ( کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لفظ ’’اِنَّ  ‘‘  اور لام تاکید کے ساتھ کلام فرمایا )  ۔ جبکہ حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے اظہار محبت میں تاکید نہیں ہے کیونکہ سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے یہ متصور اور ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے محبت نہ کریں ۔ ‘‘ ( [2] )

عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’بعض بزرگوں نے فرمایا  کہ حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کوحضور سرورِ دوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بہت  محبت  تھی ۔ چنانچہ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے  بھی اُن سے محبت  کا اظہار  تاکید  وقسم کے ساتھ فرمایا جیسا کہ کریموں کاطریقہ ہے اورمخلو ق میں آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے  بڑھ کر کوئی کریم نہیں ۔ ‘‘ ( [3] )

بارگاہِ رِسالت سے مزید اِعزازات :

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا شمار ایسے جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں ہوتا ہے جو بارگاہِ رِسالت کے علمی فیضان سے بھی بھرپور فیضیاب ہوتے تھے ۔  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو بارگاہ سے کئی اعزازات نصیب ہوئے ، جن میں سب سے بڑا اعزاز یہی تھا کہ خود تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا ۔  

اس کے علاوہ بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کئی اعزاز حاصل ہوئے جن میں سے چند یہ ہیں :  ( 1 ) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو حلال وحرام کا سب سے بڑا عالِم فرمایا ۔  ( [4] ) ( 2 ) حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو اچھا مرد ارشاد فرمایا ۔  ( [5] ) ( 3 ) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جن انصاری صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے بیعت عقبہ فرمائی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ان میں شامل تھے ۔  ( [6] ) ( 4 ) آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک ہوئے ۔  ( [7] ) ( 5 ) حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا :  ’’کل بروزِ قیامت معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ علما کے آگے ہوں گے ۔ ‘‘ ( [8] ) ( 6 ) سرکارِ دوعالَم نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چار آدمیوں سے قرآن پڑھنے کا حکم دیا اُن میں سے ایک حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ بھی ہیں ۔  ( [9] ) ( 7 ) حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود آپ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا ۔  ( [10] ) ( 8 ) جب رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو الوداع کیا تو یوں دعا دی :  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ تمہاری آگے ، پیچھے ، دائیں ، بائیں ، اوپر ، نیچے سے حفاظت فرمائے اور تم سے جن وانس کے شرور کو دور رکھے ۔ ‘‘ ( [11] )

ذِکر ، شکر اور اچھی عبادت سے مراد :

حضور نبی رحمت شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو ہر نماز کے بعد صبر وشکر اور حسن عبادت پر مدد کی دعا کی ترغیب ارشاد فرمائی ۔  ذکر ، صبر اورشکر سے کیا مراد ہے ؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ذکر قرآنِ پاک اور تمام اَذکار کو شامل ہے ، شکر  سے مرادتمام  ظاہری وباطنی ، دینی و دُنیوی نعمتوں  کا شکر ہے کہ جن کا اِحاطہ ممکن نہیں  اور اچھی  عبادت سے مراد تمام شرائط ، اَرکان ، سُننن ،  خشوع و خضوع ، اِخلاص ، دِل جمعی اور کامل توجہ سے   عبادت



[1]     دلیل الفالحین ، باب فی فضل الحب فی اللہ ، ۲ / ۲۵۷ ، تحت الحدیث : ۳۸۴ ۔

[2]     مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلاۃ ، باب الدعا فی التشھد ، ۳ / ۳۳ ، تحت الحدیث : ۹۴۹ ۔

[3]     دلیل الفالحین ، باب فی فضل الحب فی اللہ ، ۲ / ۲۵۷ ، تحت الحدیث : ۳۸۴ ۔

[4]     ترمذی ، کتاب المناقب ، مناقب معاذ بن جبل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۴۳۵ ، حدیث :  ۳۸۱۵ ۔

[5]     ترمذی ، کتاب المناقب ، مناقب معاذ بن جبل ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۴۳۷ ، حدیث :  ۳۸۲۰ ۔

[6]

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن