30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دوست کی محبت بڑھانے کا اہم ذریعہ :
دوست کی محبت بڑھانے میں یہ بات سب سے اہم ہے کہ اُس کی عدم موجودگی میں جب کوئی اس کی برائی بیان کرے یا صراحتاً یا اشارتاً اس کی عزت کے درپے ہوتو اس کا دفاع کیا جائے ، اپنے دوست کی مدد وحمایت کے لیے کمربستہ ہوجائے ۔ اس بدگو کو خاموش کرادیا جائے اور اس سے سخت کلام کیا جائے ۔ ایسے وقت میں خاموش رہنا سینے میں کینہ اور دل میں نفرت پیدا کرتا ہے اور بھائی چارے کے حق میں کوتاہی ہے کیونکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دو مسلمانوں کو دو ہاتھوں کے ساتھ اس وجہ سے تشبیہ دی کہ ان میں سے ایک دوسرے کو دھوتا ہے لہٰذا مسلمان کو چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرے اور اس کا قائم مقام بنے ۔ ( [1] )
مدنی گلدستہ
’’مسلمان ‘‘ کے 6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور
اس کی وضاحت سے ملنے والے 6مدنی پھول
(1) حضورنبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنی اُمت پر کمالِ شفیق اور مہربان ہیں ، آپ جب ا پنے کسی اُمتی کے لئے کوئی فائدہ مند چیز دیکھتے تو فوراً اُس کی طرف رہنمائی فرما دیا کرتے تھے ۔
(2) جب کوئی اپنے مسلمان بھائی سے رضائے الٰہی کے لئے محبت کرے تو چاہیے کہ اسے بتا دے کہ میں آپ سے رضائے ا لٰہی کے لئے محبت کرتا ہوں کہ ا س سے اس کے دل میں بھی محبت پیدا ہوجائے گی نیز مشکل وقت میں دونوں ایک دوسرے کے معاون بنیں گے ۔
(3) ایک دوسرے کے لئے دعا کرنے سے بھی محبت میں اضافہ ہوتاہے ۔
(4) اپنے مسلمان بھائی کو سلام کرنا ، اس کے حق میں دعا کرنا ، اس کے لیے مجلس میں جگہ کشادہ کرنا ، اسے پسندیدہ نام سے پکارنااور اس کی خوبیوں کو بیان کرنا یہ تمام امور محبت میں اضافے کا باعث ہیں ۔
(5) اپنے مسلمان بھائی کی بُرائی سن کر اس کا دفاع کرنا بھی محبت بڑھانے کا ایک بہترین نسخہ ہے ، ایسے موقع پر خاموش رہنے سے دل میں کینہ اور نفرت پیدا ہوتی ہے ۔
(6) اپنے مسلمان بھائی سے محبت بڑھانے کے تمام طریقوں میں اس بات کو ضرور ملحوظِ خاطررکھے کہ نہ تو اس میں جھوٹ ہو اور نہ ہی ناجائز مبالغہ ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں سے رضائے الٰہی کے لیے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔
٭…٭…٭…٭
حدیث نمبر : 384 اللہ کی قسم ! میں تم سے محبت کرتا ہوں
عَنْ مُعَاذٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : اَنَّ رَسُولَ الله صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخَذَ بِيَدِهِ وَقالَ : يَا مُعَاذُ ! وَاللهِ اِنِّي لَاُحِبُّكَ ثُمَّ اُوْصِيْكَ يَا مُعَاذُ ! لَا تَدَ عَنَّ في دُبُرِ كُلِّ صَلاَةٍ تَقُولُ : اَللّٰهُمَّ اَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ. ( [2] )
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ان کا ہاتھ پکڑ کر ارشادفرمایا : ” اے معاذ ! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم ! میں تم سے محبت کرتا ہوں ۔ پھر تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا ہرگز نہ چھوڑنا : ’’اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ ! اپنے ذکر وشکر اور اچھی عبادت پر میری مدد فرما ۔ ‘‘
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی محبت کا اظہار فرمایا ۔ معلوم ہوا کہ اَزراہِ شفقت ومحبت کسی کا ہاتھ تھام کر گفتگو کرنا شرعاً جائز بلکہ سنت سے ثابت ہے ۔ نیز حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ انہیں مانوس کرنے اور ان پر لطف کرنے کے لیے پکڑا ۔ چنانچہ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’حضور نبی اکرم نورِ مجسمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ بطورِ شفقت اور انہیں مانوس کرنے کے لیے اپنے دستِ اقدس میں لیا ۔ ‘‘ ( [3] ) عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’حضور نبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حضرت سیدنا معاذ بن جبل رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ پکڑ کر اپنی محبت کا اظہار فرمانا گویا ان کے ساتھ عقد محبت تھا اور گویا یہ بیعت محبت تھی ۔ ‘‘ ( [4] )
بارگاہِ رسالت کا عظیم الشان انعام :
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی آل ، اولاد ، مال اسباب ، گھروالوں ، بیوی بچوں بلکہ اپنی جان سے بھی زیادہ حضور نبی کریم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع