دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 4 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد چہارم

تیرا باپ احمق ہے ، یہ ہے سب ، کسی سے کہا :  تیرا باپ زانی ہے ، حرامی ہے ، یہ ہے شتم ۔  مطلب یہ ہے کہ کسی کے بزرگوں کو تم بُرا نہ کہو تاکہ وہ تمہارے بزرگوں کو بُرا نہ کہے ، یہی حکم اولاد و عزیزوں کے متعلق ہے تم کسی کی بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دو تاکہ وہ تمہاری بیٹی بہن بھانجی کو گالی نہ دے ۔  جیسے کہو گے ویسی سنو گے بہت اعلیٰ اخلاق کی تعلیم ہے ۔ ‘‘ ( [1] )

ماں کو گالی دینے والے کا عبرت ناک انجام :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو !  ماں باپ کے نافرمان کے لیے سخت عذاب ہے اور کبھی کبھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے عذاب کو دنیا والوں پر ظاہر بھی فرمادیتا ہے تاکہ لوگ عبرت پکڑیں ۔ چنانچہ شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ اپنے رسالے  ” سمندری گنبد“ صفحہ 17 پرایک روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں :  حضرتِ سَیِّدُنا عوام بن حوشب عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّب ( جوکہ تبع تابعی بزرگ گزرے ہیں اور انہوں نے ۱۴۸ھ میں وفات پائی ) فرماتے ہیں :  ایک مرتبہ میں کسی محلے سے گزرا ، اُس کے کنارے پر قبرستان تھا ، بعدِ عصر ایک قبر شق ہوئی ( یعنی پھٹی ) اور اُس میں سے ایک ایسا آدمی نکلا جس کا سر گدھے جیسا اور باقی جسم انسان کا تھا ، وہ تین بار گدھے کی طرح رَینکا ( یعنی چیخا ) پھر قبر میں چلا گیا اور قبر بند ہوگئی ۔  ایک بڑی بی بیٹھی ( سوت ) کات رہی تھیں ، ایک خاتون نے مجھ سے کہا : ’’ بڑی بی کو دیکھ رہے ہو؟  ‘‘   میں نے کہا :  ’’اس کا کیا معاملہ ہے ؟   ‘‘  کہا  : یہ قبر والے کی ماں ہے ، وہ شرابی تھا ، جب شام کو گھر آتا ، ماں نصیحت کرتی کہ اے بیٹے اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈر ، آخر کب تک اس ناپاک کو پئیے گا !  یہ جواب دیتا :  ’’تو گدھے کی طرح ڈھیچوں ڈھیچوں کرتی ہے ۔ ‘‘ اس شخص کا عصر کے بعد انتقال ہوا ، جب سے فوت ہوا ہے ہر روز بعدِ عصر اس کی قبر شق ہوتی ہے اور یوں تین بار گدھے کی طرح چلاکر پھر قبر میں سَما جاتا ہے اور قبر بند ہوجاتی ہے ۔   ‘‘ 

والدین کو گالی دینے والے کی قبر میں انگارے :

اسی رسالے کے صفحہ نمبر21 پر ہے کہ منقول ہے کہ جس نے اپنے والدین کو گالی دی اس کی قبر میں آگ کے اتنے انگارے اُترتے ہیں جتنے ( بارش کے ) قطرے آسمان سے زمین پر آتے ہیں ۔   ‘‘  اَلْاَمَانْ وَالْحَفِیْظ

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہمیں والدین کو سب وشتم کرنے سے محفوظ فرمائے ، آمین ۔  والدین کا ادب و احترام اور اُن کے حقوق کے بارے میں جاننے کے لیے شیخ طریقت امیر اہلسنت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃ کے رسالے  ” سمندری گنبد“ کا مطالعہ فرمائیں ۔

مدنی گلدستہ

’’حطیم  ‘‘  کے 4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اُس

 کی وضاحت سے ملنے والے 4مدنی پھول

(1)   کسی کے ماں باپ کو گالی نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ اپنے ماں باپ کو گالی دلوانے کا سبب ہے ۔

(2)   ماں باپ کو گالی دینے والا عبرت ناک انجام سے دوچار ہوتا ہے ۔

(3)   ماں باپ کو اذیت پہنچانے کا سبب بننا بھی ان کی نافرمانی ہے ۔

(4)   جو شخص والدین کے حقوق جانتا ہو وہ ہمیشہ اُن کی تعظیم کرے گا ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے والدین کو سب وشتم کرنے یا اس کا سبب بننے سے محفوظ فرمائے ۔   

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !                   صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 339                                                                                                                                                                                                                                  رشتے توڑنے والا جنتی نہیں

عَنْ اَبِیْ مُحَمَّدٍ جُبَيْرِ بْن مُطْعِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :  لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعٌ. قَالَ سُفْيَانُ فِی رِوَایَتِہِ :  يَعْنِي قَاطِعَ رَحِمٍ. ( [2] )

   ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو محمد جبیر بن مُطْعِم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا :  ” توڑنے والاجنت میں داخل نہیں ہوگا ۔ “ حضرتِ سَیِّدُنا سفیان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنی روایت میں فرماتے ہیں : ’’یعنی خونی رشتوں کو توڑنے والا ۔   ‘‘ 

جنت میں داخل نہ ہونے کا مطلب :

مذکورہ حدیث میں فرمایا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا حالانکہ حدیث میں ہے کہ جو شخص اس حال میں مرا کہ اس نے شرک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا ۔  تو پھر اس حدیث کا کیا جواب ہے ؟ شارحین نے اس کے مختلف جوابات دئیے ہیں ۔  چنانچہعَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’علامہ کرمانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ مؤمن بندہ گناہ کرنے سے کافر نہیں ہوتا لہذا وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا ( لیکن مذکورہ حدیث پاک میں قطع کرنے والے کے بارے میں آیا ہے کہ وہ جنت میں نہیں جائے گا ) پھر خود ہی اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ جو قطع رحمی کو حلال سمجھے وہ کافر ہوجائے گا ( لہٰذا وہ جنت میں نہیں جائے گا ) یا پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے جنت میں



[1]      مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۱۹ ۔

[2]      مسلم ، کتاب البر والصلۃ و الآداب ، باب صلۃ الرحم و تحریم قطعیتھا ، ص۱۳۸۳ ، حدیث : ۲۵۵۶ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن