30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھائی کی مددونصرت حاصل نہ ہو تو وہ کوئی بھی اچھا کام کرنے پر قادر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اپنے مخالف کا سامنا کرسکتا ہے اور ایسی صورت میں دِین ودُنیا کا نظام کبھی مکمل نہیں ہوگااور وہ مؤمن ہلاک ہونے والوں میں سے ہوجائے گا۔ ‘‘([1])
مسلمانوں میں بعض کے بعض پر حقوق:
مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان مرآۃ المناجیح میں مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی مؤمنوں کے دنیاوی اور دینی کام ایک دوسرے سے مل جل کر مکمل ہوتے ہیں جیسے مکان کی دیوار ایک دوسرے سے مل کر مکان مکمل کرتی ہے۔ (آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے)ایک ہاتھ شریف کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں داخل کردیں یعنی گتھا دیں یہ سمجھانے کے لیے کہ جیسے یہ انگلیاں ایک دوسرے میں داخل ہوگئیں ، ایسے ہی مسلمان ایک دوسرے میں گتھے ہوئے ہیں کہ یہ کبھی بے تعلق نہیں ہو سکتے۔ گتھانے والے یا تو راوی حدیث حضرت سیدنا ابو موسٰی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں یا حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود ہیں۔ یہ مثال یہ بتانے کے لیے ہے کہ مسلمانوں کے بعض کے بعض پر حقوق ہیں۔ ‘‘([2])
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’اس میں کچھ شک نہیں کہ حقیقی قوی وہ ہے جو کسی ضعیف کو سہارااور اُسے تقویت دےتو حدیث پاک کا ماحصل یہ ہوا کہ مؤمن اپنے بھائی کی معاونت سے ہی مضبوط اور طاقتور ہوتا ہے جیسے عمارت کے بعض حصے دوسرے حصوں کو مضبوط بناتے ہیں۔ ‘‘([3])
گناہ والے کاموں میں تعاون کی ممانعت:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں ایک مؤمن کو دوسرے مؤمن کی مدد ونصرت پر اُبھارا گیا ہے لیکن اِس مدد ونصرت کا نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ہونا شرط ہے کیونکہ برائی اور گناہ والے کاموں پر مدد کرنے سے خود ربّ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ، چنانچہ اِرشاد ہوتا ہے :
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى ۪-وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ۪- (پ۶ ، المائدۃ : ۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اورنیکی اورپرہیزگاری پرایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر باہم مدد نہ دو۔
شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث کے تحت فرماتے ہیں : ’’تمام مسلمان عمارت کی طرح ہیں جو باہم ایک دوسرے سے تقویت پاتے ہیں ۔ البتہ اگر یہ تعاون و مدد حرام ومکروہ کاموں میں ہو توگناہ کا باعث بن جائے گا۔ ‘‘([4]) علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کے حقوق کی تعظیم کا ذکر ہےاور اُس میں ایک دوسرے پر رحم کرنے ، نرمی کرنے اور مشکل میں مدد کرنے پر اُبھارا گیا ہے جبکہ وہ کام(جن میں مدد کی جارہی ہے) گناہ والے نہ ہوں۔ ‘‘([5])
انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی پیروی :
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذی الْجَلَالفرماتے ہیں : اس حدیث کی رُو سے مومنین کا ایک دوسرے کے ساتھ دُنیاوی کاموں میں تعاوُن کرنا مستحب ہےاور یہ اچھے اَخلاق میں سے ہےجیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں ہے : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّاُس وقت تک بندے کی مدد فرماتاہے جب تک وہ اپنے بھائی کی مدد کرتارہتاہے۔ ‘‘لہٰذا مؤمنین کو چاہیے کہ اپنے انبیاء عَلَیْھِمُ السَّلَام کے آداب پر عمل کریں اور شفقت ونصیحت جیسے وہ اَوصاف جن سے مومنین کو موصوف کیا گیاہے اِن میں اُن کی اقتدا ءکریں۔ ‘‘ ([6])
’’حدیث‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)تمام مؤمنین آپس میں دینی رشتے کے سبب ایک دوسرے کے معاون ومددگار ہیں۔
(2)نیکی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور برائی وگناہ والے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
(3)اسلام ایک عمارت کی طرح ہے اور تمام مؤمنین اس کی اینٹیں ہیں ، جس طرح عمارت کی اینٹیں ایک دوسرے کو مضبوط کرتی ہیں اسی طرح تمام مسلمان ایک دوسرے کی مدد
[1] دلیل الفالحین ، باب تعظیم حرمات المسلمین الخ ، ۲ / ۶ ، الحدیث ۲۲۳۔
[2] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۴۹۔
[3] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الشفقہ و الرحمۃ علی الخلق ، ، ۸ / ۶۸۶ ، تحت الحدیث : ۴۹۵۵۔
[4] اشعۃ اللمعات ، کتاب الآداب ، باب الشفقۃ والرحمۃ علی الخلق ، ۴ / ۱۲۵۔
[5] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الادب ، باب الشفقہ و الرحمۃ علی الخلق ، ، ۸ / ۶۸۶ ، تحت الحدیث : ۴۹۵۵
[6] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الادب ، باب تعاون المومنین بعضہم بعضا ، ۹ / ۲۲۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع