30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ورَحمت کے بارے میں ہے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں 4 آیات اور 18 اَحادیث مبارکہ بیان فرمائی ہیں ، پہلے آیات اور اُن کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1)رب تعالیٰ کی حُرمتوں کی تعظیم کرنا
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖؕ- (پ۱۷ ، الحج : ۳۰)
ترجمۂ کنزالایمان : اورجو اللہ کی حرمتوں کی تعظیم کرے تو وہ اس کے لئے اس کے رب کے یہاں بھلاہے۔
مُفَسِّرِ قرآن عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’حُرُمَات حُرْمَۃ کی جمع ہےیعنی ہر وہ شے جس کی ہتک(بے عزتی ، بے حرمتی) حرام ہو اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے احکام فرائض وسنن اور وہ تمام اُمور مُراد ہیں جن کی توہین حرام ہےجیسے کعبۃُ اللہ ، مسجدِ حرام ، بلدِ حرام اور شہر حرام۔ اُن کی تعظیم کا معنیٰ یہ ہے کہ اُن کی عظمت کے وجوب کا عقیدہ رکھاجائےاوررب تعالیٰ کی طرف سےاُن کے متعلق جو حکم دیا گیا ہےاُس پر عمل کیا جائے تو یہ اُس کے لیے بھلا ہے یعنی آخرت میں رب تعالیٰ کے ہاں معظم اَشیاء کی تعظیم ثواب کے اِعتبار سے بہتر ہے ۔ اِس آیتِ مبارکہ میں اِس بات کی طرف اِشارہ ہے کہ معظم اشیاءکی تعظیم کرنا یہ حقیقت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی تعظیم کرنا ہے کہ جس کام سے اُس نے منع کیا ہے اُسے چھوڑ دیا جائے اور جس کام کے کرنے کا حکم دیا ہے اُسے کر لیا جائے۔ منقول ہے کہ نیکی سے جنت ملتی ہے اور معظم اشیاء کی تعظیم سےربّ تعالیٰ۔ اسی لئے فرمایاکہ فَھُوَخَیْرٌ لَّہُ یعنی قرب الٰہی کے حصول میں بندے کے لیے اطاعت کرکے تقرب حاصل کرنے کے مقابلے میں معظم اشیاء کی تعظیم کرکے تقرب حاصل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ کہا گیا ہے کہ خدمت کو ترک کردینا عقوبت یعنی سزا کا سبب ہے جبکہ تعظیم کو ترک کردینا ہجر و فراق یعنی جدائی کا سبب ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اَحکام کی مخالفت سے معافی کی امید ہے لیکن تعظیم کو ترک کرنے سے معافی کے امکانات بھی ختم ہوجاتے ہیں اور اس (یعنی شعائراللہ کی تعظیم نہ کرنے والے) بے ادب کا اِیمان و اَسلام اور توحیدسب خطرے میں پڑ جاتے ہیں۔ ‘‘([1])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’جن چیزوں کا اِحترام ہے اُن کا ادب کرنا ضروری ہے ، اِس میں خانہ کعبہ ، قرآن شریف ، ماہ رمضان ، مسجد حرام ، مدینہ منورہ کے درودیوار کا ادب ، حضور کی تمام سنتوں کی حُرمت سب ہی داخل ہیں۔ اُن کی تعظیم رب کی تعظیم ہے۔ معلوم ہوا کہ اللہ کی چیزوں کی تعظیم عبادت کی جڑ ہے۔ اگر دل میں تعظیم ومحبت ہے تو عبادت قابل قبول ہے ورنہ نہیں۔ شیطان کی عبادات اِسی لیے برباد ہوئیں کہ اس کے دل میں آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی تعظیم نہ تھی۔ ‘‘([2])
مذکورہ آیت کی باب کے ساتھ مناسبت:
اِس آیتِ مبارکہ میں اِس بات کا بیان ہے کہ جوشخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حُرمتوں اورجن چیزوں کے ادب واحترام اور تعظیم کا اُس نے حکم ارشاد فرمایا ہے ، اُن کی تعظیم کرے گا ، اُس کے تمام اَحکام فرائض وواجبات وغیرہ کی بجاآوری کرے گاتو یہ اُس کے رب کے ہاں اُس کے لیے بھلا ہے اور مسلمانوں کی عزت وحرمت اور اُن کے ادب واحترام کا حکم بھی رب تعالیٰ نے ہی فرمایا ہے اِس لیے یقیناً مسلمانوں کی حرمت کی تعظیم کرنا بھی اُس کے حکم کی بجاآوری ہے۔ اِسی لیے علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے یہ آیت اِس باب میں ذکر فرمائی۔
(2)شَعَائِرُاللہ کی تعظیم دِلوں کا تقویٰ ہے
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآىٕرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ(۳۲) (پ۱۷ ، الحج : ۳۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے۔
مُفَسِّرشہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان اِس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’معلوم ہوا کہ عبادتِ ظاہری تو ظاہرجسم کا تقویٰ ہیں اور دل میں بزرگوں اور اُن کے تبرکات کی تعظیم ہونا دلی تقویٰ ہے ، اللہ نصیب کرے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ جس جانور یا پتھر کو عظمت والے سے نسبت ہو جائے وہ شعائرُاللہ بن جاتا ہے۔ قرآن نے ہدی (حج کی قربانی)کے جانورکو کعبہ کی نسبت سے اور صفا مروہ پہاڑ کو کعبہ والی ہاجرہ (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)کی برکت سے شعائرُاللہ فرمایا۔ تفسیر روح البیان میں فرمایا کہ بزرگوں کی قبریں بھی شعائرُاللہ ہیں اور جن لوگوں کو اللہ کے پیاروں سے نسبت ہوجائے وہ سب شعائرُ اللہہیں ۔ ‘‘([3])
مذکورہ آیت کی باب کے ساتھ مناسبت:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع