دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

تاکہ اُمَّت بھی باطن کی  طرف متوجہ ہوئے بغیر ظاہر پر بخوشی آپ کی پیروی کرے۔ ‘‘([1])

ظاہر پر فیصلہ فرمانے کی حکمت:

مُفَسِّر شہِیر ،  حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے اکثر و بیشتر فیصلے ظاہر پر ہوتے تھے نہ کہ حقیقت پر تاکہ قیامت تک اُمَّت کے حکام (یعنی قاضی وغیرہ) فیصلوں میں  حضور کی اِس سنت پر عمل کریں کہ اُمَّت کے پاس وحی ، اِلہامِ شرعی اور غیب پر اِطلاع نہیں ، اگر حضورِ اَنور کے فیصلے سارے اِلہام وغیرہ پر ہوتے تو اُمت کیسے عمل کرتی ۔ ‘‘([2])

 جھوٹی گواہی پر ہونے والا فیصلہ:

حدیثِ پاک میں فرمایا : ’’جس کو میں اس کے بھائی کا حق فیصلہ کر کےدے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں ۔ ‘‘اِس کے تحت “ مرآۃ المناجیح “ میں ہے : “ یعنی میرا جو فیصلہ گواہی یا  اِقرار یا قسم سے اِنکار پر ہوگا وہ ظاہر پر ہوگا اگر واقعہ اِس فیصلے کے خلاف ہو اور فریق دوم کو معلوم ہو تو اُس کے لیے اِس فیصلے سے وہ چیز حلال نہ ہوجائے گی حکم حاکم حرام کو حلال نہیں کرسکتا لہٰذا اگر حاکم جھوٹی گواہی پر مال یا خون یا طلاق کا غلط فیصلہ کردے تو مدعی اپنے مقابل کا نہ مال لے نہ قصاص نہ طلاق کی جھوٹی گواہی پر اُس کی عورت سے نکاح کرے۔ خیال رہے کہ جھوٹی گواہی وغیرہ سے جو فیصلہ ہوگا وہ فیصلہ حق ہوگا مگر اِس فیصلے میں حاکم گنہگار نہ ہوگا ، فریقین اور گواہ گنہگار ہوں گے لہٰذا اِس حدیث پاک پریہ  اعتراض نہیں کہ حضرات انبیاء کرام خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہتے ، ربّ تعالیٰ انہیں مطلع فرمادیتا ہے تو اِس غلط فیصلے پر حضور کیوں قائم رہتے تھے بذریعہ وحی مطلع کیوں نہ کیے جاتے تھے؟  کیونکہ خطاء اجتہادی فیصلہ ہی غلط ہوتا ہے اگرچہ اس غلطی پر گناہ نہیں بلکہ ثواب ہوتا ہے اوریہاں فیصلہ حق ہے کیونکہ دلیل پر مبنی ہے۔ ‘‘([3])

مدنی گلدستہ

’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ظاہرو باطن دونوں پر فیصلے کرنے کا اختیار عطا فرمایا ہے لیکن آپ اکثر فیصلے ظاہر پر ہی فرماتے ہیں۔

   (2)ظاہر پر فیصلے کرنے میں یہ حکمت ہے کہ آئندہ آنے والے قاضی وغیرہ آپ کے فیصلوں کی اتباع کرتے ہوئے اُن کے مطابق فیصلے کرسکیں۔

   (3)جو شخص حق پر نہ ہواور اُس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے تواُس پر لازم ہے کہ وہ اس فیصلہ کو قبول نہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کا حق نہ لے۔

   (4)اگر کسی قاضی نے گواہی یا قسم پر ظاہر کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کردیا مگر گواہوں یا فریقین میں سے کسی ایک نے جھوٹی قسم کھائی تھی تو قاضی پر کوئی گناہ نہ ہوگا بلکہ جھوٹی قسم کھانے والا گنہگار ہوگا۔

   (5)ظاہری دلیل کی بنا پر حاکم اِسلام نے اگر کوئی فیصلہ کردیااوروہ فیصلہ حقیقت کے خلاف ہوتو حکم حاکم سےوہ حرام شے حرام ہی رہے گی حلال نہ ہوگی ۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بالکل صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان بھائی کا حق جھوٹی قسم  کے ذریعے تلف کرنے سے محفوظ فرمائے۔

                                                          آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 220                                                                                                   قتلِ ناحق کی نحوست

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُمَا قَالَ  : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  صَلیَّ اللہُ  عَلَیْہِ  وَسَلَّمَ  لَنْ یَّزَالَ الْمُوْمِنُ   فِیْ فُسْحَۃٍ  مِنْ دِ یْنـِہِ  مَا لَمْ    یُصِبْ دَمًا حَرَامًا.([4])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا  : ’’مومن ہمیشہ اپنے دِین کی  وُسعت اور کشادگی میں رہتاہےجب تک کہ وہ ناحق قتل نہ کرے ۔ ‘‘

ناحق قتل کرنے تک دِین میں وُسعت:

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس کےدو معنی ہیں : (1) جب کوئی شخص کسی جان کو ناحق قتل کردےتو جان بوجھ کر قتل کرنےکی وعید کے سبب اُس کا دِین اُس پر تنگ ہوجاتا ہے ، قتل سے قبل اُس کا دِین اُس پر وسیع ہوتاہے۔ (2) ناحق قتل کرنےوالا شخص اپنے اس گناہ کی وجہ سے تنگی میں رہتا ہے ، ناحق قتل کرنے



[1]   شرح مسلم للنووی ، کتاب  الاقضیۃ ،  باب بیان ان الحکم الحاکم لا یغیر الباطن ،  ۶ / ۵ ،  الجزء الثانی عشر ، ملخصاً ۔

[2]   مرآۃالمناجیح ، ۵ / ۳۹۴۔

[3]   مرآۃالمناجیح ، ۵ / ۳۹۵۔

[4]   بخاری ،  کتاب الدیات  ، باب قول اللہ تعالٰی :  ومن یقتل مومناً۔ ۔ ۔ الخ ، ۴ / ۳۵۶ ، حدیث : ۶۸۶۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن