30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حق فیصلہ کر کےدے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں ۔ ‘‘
رسولُ اللہ کے ظاہری وباطنی فیصلے:
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہر کے مطابق فیصلہ فرمانے کا ذکر ہے ، واضح رہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ظاہر اور باطن دونوں پر فیصلہ کرنا کا اختیار ِکلی عطا فرمایا ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس کے لیے چاہیں اس کے ظاہری احکام کے مطابق فیصلہ فرمادیں اور جس کے لیے چاہیں اپنے خداداد باطنی علم کے ذریعے فیصلہ فرمادیں۔ امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک ظاہری وباطنی فیصلوں کے متعلق ایک رسالہ بنام ’’اَلبَاھِرُ فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ‘‘ تحریر فرمایا ہے ، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ نے اس کا ترجمہ بنام ’’مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے روشن فیصلے‘‘ شائع کیا ہے ، اس رسالے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہری ، باطنی اور ظاہری وباطنی تینوں طرح کے فیصلوں کی تفصیل ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔
شارحین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اِس کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں :
(1) علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اِس سے مراد یہ ہے کہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بتائے بغیرذاتی طور پر علم غیب نہیں جانتا ، ہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے بتائے سے علم غیب جانتا ہوں۔ ‘‘([1])
(2) علامہ ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے بھی یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ ([2])
(3)مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’میں ایک بشر ہوں یعنی خدایا یا خدا کا جزء یا فرشتہ یا جن نہیں ہوں خالص اِنسان ہوں۔ یہ حصر اِضافی ہے لہٰذا اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں صرف بشر ہوں ، نہ نبی ہوں ، نہ رسول ، نہ نور ، نہ رحمۃ اللعالمین وغیرہ۔
اللہتعالیٰ نے حضور کو لاکھوں صفات بخشی ہیں مگر حضور ہیں جنس بشر سےجیسے( اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-) کے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہی اِلٰہہے ، یہ مطلب نہیں کہ وہ اُلُوہیت اور وحدانیت کے سواء کسی صفت سے موصوف نہیں ، نہ کریم ہے ، نہ غفار ، نہ ستار ، نہ مالک الملک وغیرہ۔ اِس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہم ہیں بشر اور بشر سے بھول ، خطا اِجتہادی غلطی بھی ہوسکتی ہے اور وہ دھوکا بھی دیا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض جھوٹے مدعی اپنے کو سچا ظاہر کریں ، ہم اُن کی گواہی پر اعتماد کرکے اسے سچا مان لیں۔ خیال رہے کہ حضراتِ انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام) گناہ ، بدعقیدگی اور اِن کے اِرادوں سے معصوم ہیں۔ خطا ئےاِجتہادی سے معصوم نہیں۔ ‘‘([3])
جو شخص حق پر نہ ہو وہ فیصلہ قبول نہ کرے:
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے مذکورہ حدیث پاک سے دو مسئلے بیان فرمائے ہیں :
(1) قاضی یا حاکم یا ہر وہ شخص جس کو کسی مقدمے کا فیصلہ کرنے پر مامور کیا گیا ہے وہ اس بات کا پابند ہے کہ فقط فریقین کے دعوے وغیرہ سن کر ظاہری طور پر جو بھی حکم بنتا ہو اس کے مطابق فیصلہ کردے۔
(2) جس شخص کے حق میں فیصلہ ہو اوہ بخوبی جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے یا نہیں اگر وہ حق پر نہ ہو تو قاضی کے فیصلے کے مطابق اپنے بھائی کے حق میں سے کچھ نہ لے۔ ‘‘([4])
رسولُ اللہ ظاہر پر فیصلہ فرماتے:
عَلَّامَہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بھی بیان کیا گیا ہےکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کے درمیان قسم اور گواہوں کے ذریعے فقط ظاہر پر ہی فیصلہ صادر فرماتے اور آپ کو اسی کا مکلف کیا گیا ہے۔ اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے تو آپ کو فریقین کے باطنی معاملے پر بھی مطلع فرمادے اور آپ قسم وگواہی کے بغیر ہی یقینی فیصلہ فرمادیں لیکن جب اللہ عَزَّ وَجَلَّنے آپ کی اُمَّت کو آپ کے اَفعال واَقوال و اَحکام کی پیروی کا حکم دیا ہے تو آپ کے لئے بھی ظاہری اَحکام جاری فرمائے
[1] عمدۃ القاری ، کتاب الاحکام ، باب موعظۃ الامام للخصوم ، ۱۶ / ۴۲۰ ، حدیث : ۷۱۶۹ ۔
[2] شرح مسلم ، کتاب الاقضیۃ ، باب بیان ان الحکم الحاکم لا یغیر الباطن ، ۶ / ۵ ، الجزء الثانی عشر ، ملخصاً ۔
[3] مرآۃالمناجیح ، ۵ / ۳۹۴۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب الاحکام ، باب موعظۃ الامام للخصوم ، ۱۶ / ۴۲۰ ، حدیث : ۷۱۶۹ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع