30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اورحقوق العباد کا معاملہ ایسا ہے کہ جسے اللہ عَزَّ وَجَلَّمعاف نہ فرمائےگا۔ (یعنی جب تک بندہ خود معاف نہ کردے اللہ عَزَّ وَجَلَّ معاف نہ فرمائے گا۔ ) پس ضروری تھا کہ اس کی نیکیاں لے کر (مظلوم )کو دی جائیں اور مظلوم کے گناہ اس کے پلڑے میں رکھے جائیں تا کہ میزان برابر ہو جائے ۔ پھر جہنم میں داخل کر کے اسے اتنا عذاب دیا جائے گا جتنے کا وہ مستحق ہے ، پھر اگر اس کی نیکیاں باقی ہوں گی تو اُن کے سبب اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا یا صرف اِیمان کی برکت سے ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ ‘‘([1])
ظالم کی نیکیوں اور مظلوم کے گناہوں کی وضاحت:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نےاس حدیث مبارکہ کے تحت ظالم کی مظلوم کو دی جانے والی نیکیوں اور مظلوم کے ظالم کو دیئے جانے والے گناہوں سے متعلق دو واہم وضاحتیں فرمائی ہیں : (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے نیکیوں میں اِضافہ فرماتا ہے ، بسا اَوقات ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک عطا فرماتا ہے ، بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے ، ظالم کی جو نیکیاں مظلوموں کو دی جائیں گی وہ اُسی اضافے میں سے ہوگا ، اس کی اصل نیکیوں میں سے ایک بھی نہیں چھینی جائے گی۔ یونہی روزہ قرض دار کو نہ دیا جائے گاکہ فرمایا جائے گا : ’’اَلصَّومُ لِیْ وَاَنَا اُجْزیٰ بِہٖ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا عوض ہوں ۔ ‘‘(2) نیکیاں ختم ہونے کی صورت میں مظلوم کے جو گناہ ظالم کے نامہ اعمال میں ڈال دیے جائیں گے اس سے مراد بُرے عقائد نہیں بلکہ بُرے اعمال ہیں ، نیز بُرے اعمال میں بھی فقط گناہ صغیرہ مراد ہیں لہٰذا اگر کسی مسلمان پر کافر کا قرض رہ گیا تو اس کا کفر یا زنا ، چوری وغیرہ اس پر نہ ڈالی جائے گی۔ ([2])
’’غارِ حرا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)حقیقی مفلس وہ ہےجو قیامت کے دن نماز ، روزہ دیگر اَعمالِ صالحہ لے کر آئے گالیکن اس نے لوگوں پر ناحق ظلم کیا ہو گاجس کی وجہ سے اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔
(2)روپے پیسے کی مفلسی عارضی ہےجو موت آنے پر بلکہ کبھی زندگی میں ہی دولت مل جانے پر ختم ہو جاتی ہےجبکہ اپنی نیکیاں دوسرے کو دے کر اُس کے گناہ اپنے سر لینا یہ ایسی حقیقی مفلسی ہے جو بروزِ قیامت بعض لوگوں کو ملے گی۔
(3)جب تک خود بندہ اپنے حقوق معاف نہ کردے اللہ عَزَّ وَجَلَّبھی حقوق العباد کو معاف نہیں فرمائے گا۔
(4)بروزِ قیامت اضافی ثواب مظلوموں کو دے دیا جائے گا اصل نیکیاں نہ دی جائیں گی ، اسی طرح نیکیاں ختم ہونے کی صورت کی میں مظلوموں کے بُرے اعمال اور ان میں بھی صغیرہ گناہ ظالم کے نامہ اَعمال میں ڈال دیے جائیں گے۔
(5)کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی اپنے بندوں کے درمیان صلح فرمائے گا ، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کروائیں۔
(6)بروزِ قیامت اپنے حقوق معاف کردینے والے اور جس کو معاف کیے دونوں کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ جنت میں داخلے کا حکم ارشاد فرمائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ دنیا وآخرت دونوں کی مُفلسی سے محفوظ فرمائے ، حقوق العباد کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بلا حساب بخش دے اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 219 جہنم کی آ گ کا ٹکڑا
وَ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ اِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ اَنْ يَكُونَ اَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَاَقْضِيْ لَهُ بِنَحْوِ مَا اَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ اَخِيْهِ فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ. ([3])
ترجمہ : حضرت سیدتنا اُمِّ سَلَمہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہےکہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں ایک بشر ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو ۔ شاید تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو زیادہ چرب زبانی سے پیش کرے تو میں اس کی بات کو سننے کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا جس کو میں اس کے بھائی کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع