دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

یَومَ الْقِیَامَۃِ بِصَلَاۃٍ وَّصِیَامٍ وزَکاۃٍ وَ یَاْتِیْ وقَدْ شَتَمَ  ہٰذَاوقَذَفَ ہَذَا وَاَکَلَ مَالَ ہٰذَا وَسَفَکَ دَمَ ہٰذَا وَضَرَبَ ہٰذَا فیُعْطٰی ہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ وہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ اَنْ یُقْضٰی مَا عَلَیْہِ اُخِذَ مِنْ خَطَایَاہُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ. ([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے  مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و  دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے  پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘

حقیقی مفلس کی وضاحت:

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے معلوم ہو ا کہ حقوق العباد میں معافی اور شفاعت نہ ہو گی مگر یہ کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے توصاحب حق یعنی مظلوم کو راضی کردے  یعنی ان دونوں میں صلح کروادے ۔ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : “ حقیقی مفلس وہی ہے جس کا اِس حدیث پاک میں ذکر کیا گیا ورنہ وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو یا کم ہو اسے لوگ مفلس کہتے ہیں حقیقت میں وہ مفلس نہیں  کیونکہ یہ اِفلاس ہمیشہ نہیں رہتا کبھی موت سے اور کبھی زندگی میں خوشحالی سے دُور ہوجاتا ہےاِس کے برخلاف قیامت کے روز نیکیوں سے مفلس ہونے والے کے لیے تو مکمل ہلاکت ہے۔ ‘‘([2])

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ صلح کروادے گا:

حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ ایک روز سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف فرما تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبسم فرمایا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ نے کس لئے تبسم فرمایا؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’(کل بروزِ قیامت)میرے دو اُمتی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی بارگاہ میں دوزانو گر پڑیں گے ، ایک عرض کرےگا : ’’یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! اس سے میرا انصاف دلا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔ ‘‘ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مدعی(دعویٰ کرنے والے)سے فرمائے گا : ’’اب یہ بے چارہ کیا کرے ، اس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔ ‘‘مظلوم عرض کرے گا : ’’میرے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دے۔ ‘‘اتنا ارشاد فرما کر آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رونے لگے ، پھر فرمایا : ’’وہ دن بہت عظیم دن ہوگا کیونکہ اس وقت ہر ایک اس بات کا ضرورت مند ہوگا کہ اس کا بوجھ ہلکا ہو۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ مظلوم سے فرمائےگا : دیکھ !تیرے سامنے کیا ہے؟وہ عرض کرےگا : اے پروردگار عَزَّ  وَجَلَّ! میں اپنےسامنے  سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے محلات دیکھ رہا ہوں جو مو تیوں سے آراسۃ ہیں یہ اور عمدہ محلات کس پیغمبر یا صدیق یا شہید کے لئے ہیں؟اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرمائےگا : ’’یہ اُس کے لئے ہیں جو اِن کی قیمت ادا کرے ۔ ‘‘بندہ عرض کرےگا : ’’اِن کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائےگا : ’’تو ادا کر سکتا ہے۔ ‘‘وہ عرض کرےگا : ’’کس طرح ؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرما ئےگا : ’’اس طرح کہ تو اپنے بھائی کے حقوق معاف کردے ۔ ‘‘بندہ عرض کرےگا : ’’اے میرے ربّعَزَّ  وَجَلَّ!میں نے سب حقوق معاف کئے۔ ‘‘اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ اور دونوں اکھٹے جنت میں چلے جاؤ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرواؤ کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی بروزِ قیامت مسلمانوں میں صلح کروائے گا۔ ‘‘([3])

اَحکم الحاکمین کا عدل واِنصاف:

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دینے اور مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈالنے سے خدائے اَحکم الحاکمین جَلَّ جَلَالُہُ کا عقلاً و نقلاً عدل وانصاف ثابت ہو رہا ہے ، کیونکہ اگر ظالم کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو اُس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا جو کہ اُس کی برائیوں پہ غالب آ جائے گا ، اگر اِس سبب سے اُسے جنت میں داخل کر دیا جائے تو مظلوم کا حق باقی رہ جائے گااور اگر اُسے جہنم میں داخل کر دیا جائے تویہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے اِس فرمان کے منافی ہےجس میں اِرشاد فرمایا :

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲) (پ۱۸ ،  المؤمنون :  ۱۰۲)

ترجمۂ کنزالایمان : تو جن کی تولیں بھاری ہو لیں وہ ہی مراد کو پہونچے۔

 



[1]   مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب ،  باب تحریم الظلم  ، ص۱۳۹۴ ، حدیث : ۲۵۸۱۔

[2]   مرقاۃ المفاتیح ،  کتاب الآداب ،  باب الظلم  ،  ۸ /  ۸۵۰ ، ۸۵۱  ،  تحت الحدیث : ۵۱۲۷۔

[3]   مستدرک حاکم  ،  کتاب الاھوال ، ۵ /  ۷۹۵ ، حدیث  : ۸۷۵۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن