30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس آیتِ مبارکہ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حضرت سیدنا ھود عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے کلام کو ذکر فرمایا ہے۔تفسیر طبری میں ہے:’’یعنی تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے علاوہ معبودانِ باطلہ کو چھوڑ کر صرف اُس کی عبادت کا حکم دینے اور جو کچھ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ہاں سے تمہارے پاس لےکر آیا ان سب باتوں میں تمہیں اپنی رسالت کی تصدیق کی دعوت دینے میں تمہارا خیر خواہ ہوں، لہذا تم میری خیر خواہی قبول کرو۔ بے شک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحی کا امین ہوں اور جو رسالت اس نے مجھے بطور ِامانت دی ہے اس میں امین ہوں، نہ میں اس میں جھوٹ بولتا ہوں نہ اپنی طرف سے اضافہ کرتا ہوں اور نہ ہی اس میں ردّ و بدل کرتا ہوں بلکہ جس طرح مجھے حکم دیا گیا اور جس چیز کا حکم دیا گیا وہی پہنچاتا ہوں۔‘‘([1])
تفسیر خزائن العرفان میں ہے: ’’کفار کا حضرت ھود عَلَیْہِ السَّلَام کی جناب میں یہ گستاخانہ کلام کہ ’’تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں، جھوٹا گمان کرتے ہیں ۔‘‘انتہا درجہ کی بے ادبی اور کمینگی تھی اور وہ (کفار)اس بات کے مستحق تھے کہ انہیں سخت ترین جواب دیا جاتا مگر آپ نے اپنے اَخلاق و ادب اور شانِ حلم سے جو جواب دیا اس میں شانِ مقابلہ ہی نہ پیدا ہونے دیا اور نہ ان کی جہالت سے چشم پوشی فرمائی۔ اس سے دنیا کو سبق ملتا ہے کہ سفہاء (یعنی بے وقوف) اور بدخِصال( یعنی بُرے ) لوگوں سے اسی طرح مُخاطَبَہ(کلام) کرنا چاہیے۔‘‘([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر:181 دِین خیرخواہی کا نام ہے
عَنْ اَبی رُقَیَّۃَ تَمِیْمِ بْنِ اَوْسٍ اَلدَّارِیّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ : اَنَّ النَّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : الدِّینُ النَّصِیْحَۃُ قلْنَا : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلہِ وَلِکِتَابِہِ وَلِرَسُولِہِ وَلِأَئِمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِہِمْ. ([3])
ترجمہ:حضرتِ سَیِّدُنا تمیم داری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا :’’دِین خیر خواہی کا نام ہے۔‘‘ہم نے عرض کی:’’ کس کے لئے ؟‘‘ فرمایا: ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے، اُس کی کتاب ، اُس کے رسول،اَئمہ مسلمین اور عام مسلمانوں کے لئے ۔‘‘
(1)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے خیر خواہی:
علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی شرح صحیح مسلم میں فرماتے ہیں: ’’دِین کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات پہ ایمان رکھنا، اُس سے شرک کی نفی کرنا، اُس کی صفات میں عیب نہ نکالنا، اسے کمال اور بزرگی کی صفات سے متصف کرنا، اسے تمام عیبوں سے پاک ماننا ، اس کی فرمانبرداری کرنا،اس کی نافرمانی سے بچنا،اسی کے لیے محبت اور اسی کے لیے دشمنی رکھنا، اس کے فرمانبرداروں سے محبت اور اس کے نافرمانوں سے عداوت رکھنا، جو اس ذات ِباری تعالیٰ کا انکار کرے اس سے جہاد کرنا، اس کی نعمتوں کا اِعتراف اور اُن پر شکر بجا لانا، سچے دل سے اِن تمام اُمور کو ماننا، مذکورہ تمام اَوصاف کی طرف لوگوں کو دعوت دینا، اُن پر اُبھارنااور تمام لوگوں سے حتی الامکان نرمی کا برتاؤ کرنا۔‘‘
(2)کتاب اللہ کے لیے خیرخواہی:
دِین کا کتاب اللہ کے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ’’اِس بات پر ایمان لانا کہ بے شک یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا کلام ہے، اسی کا نازل کردہ ہے، مخلوق میں سے کسی کا کلام اس کے مشابہ نہیں ، نہ ہی مخلو ق میں سے کوئی اس جیسا کلام لانے پر قادر ہے، کتاب اللہکی تعظیم کرنا، کما حقہ اس کی تلاوت کرنا،اسے خوبصورت بنانا،جو کچھ اس میں ہے اس کی تصدیق کرنا، اس کے احکام پر عمل کرنا، اس کے علوم و امثال کو سمجھنا، اس کے عجائبات میں غور و فکر کرنا، احکام والی آیات پر عمل کرنا، متشابہ آیات پر ایمان رکھنا، اُس کےعموم خصوص ناسخ و منسوخ سے بحث کرنا،اس کے علوم کو پھیلانا اورقرآن اور اُس کی نصیحتوں کی جانب لوگوں کو بلانا ۔ ‘‘
(3)رسولُ اللہ کے لیے خیر خواہی:
دِین کے حضور نبی کریم، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے خیر خواہی ہونے سے مراد یہ ہے کہ ’’آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کی تصدیق کرنا اور جو کچھ آپ لے کر آئے اُس پر ایمان لانا،جس چیز کا حکم دیں اُس پر عمل کرنا اور جس چیز سے منع کریں اُس سے باز رہنا، حیاتِ ظاہری میں اور اُس کے بعدآپ کی مدد کرنا،آپ کے دشمنوں سے دشمنی اور دوستوں سے دوستی رکھنا، آپ کے حق کا لحاظ رکھنا، آپ کاادب واحترام اور تعظیم وتوقیربجالانا، آپ کے طریقے و سنت کو زندہ کرنا، آپ کی دعوت اور شریعت کو پھیلانا،آپ کی شریعت سے تہمت کی نفی کرنا، شریعت کے علوم سے فائدہ حاصل کرنا، اُس کے معانی میں گہری سمجھ بوجھ حاصل کرنا، لوگوں کو اُس کی طرف بلانا، اُس کے سیکھنے سیکھانے تعظیم و بزرگی میں نرم رویہ اختیار کرنا، اِن علوم کو پڑھتے وقت اُن کے اَدب کا خیال رکھنا، اگر علم نہ ہو تو اُس کے بارے میں کلام کرنے سے رکنا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع