ظالم کی نیکیوں اور مظلوم کے گناہوں کی وضاحت
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

وجہ سے ہےلیکن جہاد کے افضل ہونے کے لئے یہ بھی   ضروری ہے کہ اس میں نماز کی پابندی کی جائے ورنہ نماز کے بغیر صرف جہاد کی کوئی فضیلت نہیں۔ ‘‘([1])

کون سا قرض معاف نہ ہوگا؟

دَین ( قرض )سے مراد وہ قرضہ ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو۔ علامہ توربشتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہاں دَین سے مرادمسلمانوں کے وہ تمام  حقوق ہیں جن کی ادائیگی اُس کے ذمہ باقی ہو۔ “ علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : “ میں کہتا ہوں دریا میں شہید ہونے والے کے تمام گناہ اور قرض  معاف کردئیے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہےکہ دریا میں شہید ہونے والے کی  روح اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قبض فرماتا ہےاور اسے ملک الموت کے حوالے نہیں کرتا۔ ‘‘([2])

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قرض کے متعلق شارحین کے کئی اقوال ہیں : بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے تلف کیے ہوئے حقوق ہیں ، چوری ، خیانت ، غصب ، قتل وغیرہ۔ بعض نے فرمایا کہ قرض سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو ، اگر ادا کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہیدہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا۔ ‘‘([3])

دوبارہ سوال کرنے کی وجہ:

اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگرچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس شخص کا سوال ایک بار سن چکے تھے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لئے دوبارہ سوال کیاتاکہ اسے دوبارہ جواب دیں اور اس میں قرض کا ذکر بھی کر یں۔ ‘‘([4])

وحی کے متعلق دو اہم باتیں:

’’جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ‘‘اس کے تحت مُفَسِّر شہِیر مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’یعنی ابھی وحی الہی آئی جس میں مجھ سےیہ فرمایاگیا۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی ، اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے ، بعض وقت اُن حضرات نے وحی آتے دیکھی ، بلکہ بعض اوقات جبرائیل امین کو بھی دیکھا اور بعض اوقات کچھ بھی نہ دیکھا۔ ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔ اِس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں ، ورنہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے ، دوبارہ  بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔ ‘‘([5])

مدنی گلدستہ

’’صدیق‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول

   (1)اچھی نیت اورا ِخلاص کے بغیرنیک اَعمال کا بھی ثواب نہیں ملتا ۔

   (2) قرض ادا کرنے کی نیت ہو لیکن کسی وجہ سے ادا نہ کرسکا اور شہیدکر دیا گیا   تو وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گاالبتہ جس قرض کو ادا کرنے کی نیت ہی نہ تھی وہ معاف نہ ہوگا۔

   (3)جہاد کرنے والے شخص کے لئے ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ حقوق العباد کے علاوہ اُس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔

   (4)دریا اور سمندر میں شہید ہونے والے کےتمام گناہوں کی معافی کے ساتھ  اُس کا قرضہ بھی معاف ہوجاتا ہے ، اور اُس کی رُوح بلاواسطہ خود اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قبض فرماتا ہے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر نیک اور جائز کام اچھی نیت اور اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، حقوق العباد کی ادائیگی خصوصاً مقروض ہونے کی صورت میں جلدازجلد قرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔              آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 218                                                                                                حقیقی مُفْلِس کون ہے ؟

وَعَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا :  الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لَا دِرْہَمَ لَہُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ : اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِی مَنْ یَاْتِی



[1]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الجھاد ،  الفصل الاول ،  ۷ / ۳۷۰ ،  تحت الحدیث :  ۳۸۰۵۔

[2]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الجھاد ،  الفصل الاول ،  ۷ / ۳۷۰ ،  تحت الحدیث :  ۳۸۰۵ملتقطاً۔

[3]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۴۲۲ماخوذاً۔

[4]   شرح الطیبی ،  کتاب الجہاد ،  الفصل الاول  ،  ۷ /  ۳۳۴ ،  تحت الحدیث : ۳۸۰۵۔

[5]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۴۲۲۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن