حقیقی مفلس کی وضاحت
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

   (1)مالِ غنیمت میں خیانت کرنا  چاہے کم مال کی ہو یا زیادہ دونوں ہی سخت حرام ہے۔

   (2)مالِ غنیمت میں سے جس چیز کو خیانت کرکے لیا اسے واپس لوٹانا واجب ہے ۔

   (3)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا میں رہتے ہوئے عالم  برزخ یعنی قبر وغیرہ کے معاملات بھی ملاحظہ فرما رہے ہیں۔

   (4)خیانت ایک ایسا گناہ ہے کہ خیانت کرنے والا مؤمن اگرچہ شہید بھی ہوجائے اوّلاًجنت میں جانے سے محروم رہے گا۔ اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا کے بعد بالآخر جنت میں ہی جائے گا۔

اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے قبیح گناہ سے محفوظ فرمائے۔    آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 217                                                 قرض کے سوا سب  گناہ معاف

عَنْ اَبِی قَتَادَةَ الْحَارِثِ بِنْ رِبْعِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ اَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللَّهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ :  يَا رَسُولَ اللَّهِ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟  فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ؟  قَالَ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :  نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ  اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذٰلِكَ. ([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا ابو قتادۃ حارث بن ربعیرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ تمام کاموں سے افضل اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر ایمان لانا ہے۔ ‘‘ ایک شخص کھڑا ہوااور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹا دئیے جائیں گے؟‘‘ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ہاں !اگر تم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’تم نے کیا پوچھا تھا؟‘‘ اس نے عرض کی : ’’مجھے یہ ارشاد فرمائیے کہ اگر میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے؟‘‘ فرمایا : اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ مگریہ کہ قرض معاف نہ ہوگا۔ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ‘‘

حقوق العباد کی اہمیت:

عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اِس حدیث میں مجاہدِ اسلام کے لئے ایک بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہےاور وہ یہ کہ  حقوق العباد کے سوا اُس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں گےاور اُس کے گناہوں کا مِٹ جانا کچھ چیزوں کے ساتھ مَشروط ہے وہ یہ کہ جب وہ شہید کیا جائے تو وہ صابر ہو ، ثواب کی امید رکھتا ہو ، آگے بڑھنے والا ہو اور بزدلی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے والا نہ ہو۔ اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اَعمال  نیک نیت اور اِخلاص کے بغیر فائدہ مند نہیں۔ مُحْتَسِبْ( یعنی ثواب کی امید رکھنے والا) وہ ہے جو اِخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے( کفار سے ) لڑے پس  اگر وہ عصبیت( یعنی طرف داری) کے لئے یا مالِ غنیمت کے لئے یا شہرت کے لئے جنگ کرتا ہے تو اُس کے لئے کسی قسم کا کوئی ثواب نہیں۔ حضور نبی کریم ، رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا : ’’لیکن قرض معاف نہ ہوگا۔ ‘‘اس میں تمام حقوق العبادکی حُرمت پر تنبیہ ہےکہ جہاد ، شہادت اور اِس جیسے دیگر نیک اعمال سے بھی حقوق العباد معاف نہیں ہوں گےصرف حُقُوقُ اللہ ہی معاف ہوسکتے ہیں۔ ‘‘([2])

جہاد سب سے افضل یا نماز؟

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِیْ قَارِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیْ فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے   کہ بیشک ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں  جہاد کرنا جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے افضل ہے ، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں فرمایا کہ نماز تمام اَعمال سے افضل ہے اور مذکورہ حدیث میں ہے کہ جہاد تمام اَعمال سے افضل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے ہر ایک کی افضلیت کسی نہ کسی خاص وجہ سے ہے۔ مثلاًنمازکی افضلیت ہمیشہ پڑھتے رہنے کی وجہ  سے ہے اور جہادکی افضلیت اس کی مشقت کی



[1]   مسلم ،  کتاب الامارۃ ،  باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ الا الدین ،  ص۱۰۴۶ ،  حدیث : ۱۸۸۵۔

[2]   شرح مسلم للنووی ،  کتاب الامارۃ ،  باب من قتل فی سبیل اللہ کفرت خطایاہ الا الدین  ،  ۷ / ۲۹ ،  الجزء الثالث عشر ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن