30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
گنجائش بھی ہے کہ ابتدامیں اسے نیک لوگوں کے ساتھ جنت میں جانے سےروک دیا جائے اور سزا پوری ہونے کے بعد اسے جنت میں داخل کر دیا جائےگا ۔ ‘‘ ([1])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ وعید یعنی جہنم کا لازم ہونا اور جنت کا حرام ہونا اس وقت ہے کہ جب وہ شخص توبہ کئےبغیر مَرجائےاور اگر اس نے سچے دل سے توبہ کرلی اس فعل پر نادم بھی ہے اور حق دار کو اُس کا حق ادا بھی کر چکا ہے تو یہ وعید اُس سے ساقط ہو جائے گی۔ ‘‘([2])
حدیث نمبر : 215 خیانت کرنے والا عامل
عَنْ عَدِیِّ بن عُمَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ کَانَ غُلُولًا یَاْتِیْ بِہِ یَومَ الْقِیَامَۃِ فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ اَسْوَدُ مِنَ الْاَنْصَارِکَاَنِّی اَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہ اِقْبَلْ عَنِّی عَمَلَکَ قَالَ : وَمَا لَکَ ؟قَالَ : سَمِعْتُکَ تَقُولُ کَذَا وکَذَاقَالَ : وَاَنَا اَقُولُہُ الْآنَ : مَنِِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِیء ْ بقَلِیْلِہِ وَکَثِیرِہِ ، فَمَا اُوتِیَ مِنْہُ اَخَذَوَمَا نُہِیَ عَنْہُ انْتَہٰی([3]).
ترجمہ : حضرت سیدنا عدی بن عمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ہم تم میں سے جسے کسی کام پر مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے زائد کوئی چیز چھپا ئے تو یہ خیا نت ہے ، جسے وہ قیا مت کے دن لائےگا ۔ ‘‘ایک سیاہ فام انصاری آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف کھڑا ہوا ، (راوی کہتے ہیں )گویا کہ میں اس کی طرف اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے مجھے جس کام پر مقرر کیا ہے ، مجھ سے وہ کام واپس لے لیجئے۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ تمہیں کیا ہوا؟‘‘عرض کی : ’’میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِس اِس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پرمقرر کریں تو اسے تھوڑااور زیادہ سب کچھ لانا چاہیے۔ پھر اُس میں سے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے رُک جائے۔ ‘‘
معمولی شے کی خیانت بھی گناہِ کبیرہ ہے:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِی فرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک میں خیانت کرنے والے عامل کے لئے بہت سخت وعید بیان کی گئی ہے ، اگر چہ خیانت معمولی سی چیز کی ہی کیوں نہ ہو تب بھی یہ گناہِ کبیرہ ہےاور خیانت کرنے والے کے لئے توبہ کے ساتھ ساتھ اِس چیز کو واپس کرنا بھی ضروری ہے۔
امام قرطبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ عامل اُس مال میں سے اُجرت کے طور پر کچھ بھی نہیں لے سکتا نہ اپنے لئے نہ ہی کسی اور کے لئے ۔ ہاں اگر وہ حاکم اُسے اجازت دے جس کی اطاعت اُس پر لازم ہے تو لے سکتا ہے ۔ ‘‘([4])
’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)قیامت کے دن خیانت کرنے والے کو نہایت ہی ذِلَّت ورُسوائی کا سامنا ہوگا۔
(2)عامل بلا اجازتِ شرعی مالِ غنیمت میں سے ایک سوئی برابربھی کوئی شے نہیں لے سکتا۔ جو چیز اُسے حاکم کی طرف سے دی جائے فقط اُسے لے۔
(3)کل بروزِقیامت تمام حقوق معاف ہوسکتے ہیں لیکن حقوق العباد معاف نہ ہوں گے جب تک بندہ خود معاف نہ کرے۔
(4)یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی معاملے کی ذمہ داری سونپی جائے تو اُسے دیانت داری سے انجام دینا چاہیے بصورتِ دیگر وہ ذمہ داری نہ لینا ہی بہتر ہے جیسا کہ اُس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنی ذمہ داریرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو واپس کرنے کا ارادہ ظاہر فرمایا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے قبیح اور بُرے فعل سے محفوظ فرمائے ، ہمیں ہرطرح کے گناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 216 خیانت کرنے والا جہنم میں
وعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ اَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقَالُوا:فُلاَنٌ شَہِیْدٌ وَفُلانٌ شَہِیْدٌ حَتّٰی مَرُّوْاعَلَی رَجُلٍ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَہِیْدٌ
[1] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب وعید من اقتطع حق مسلم الخ ، ۱ / ۱۶۱ ، الجزء الثانی ۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی تحریم الظلم ، ۱ / ۵۳۵ ، تحت الحدیث۲۱۵۔
[3] مسلم ، کتاب الامارۃ ، باب تحریم ھد ایا العمال ، ص۱۰۲۰ ، حدیث : ۱۸۳۳۔
[4] دلیل الفالحین ، باب فی تحریم الظلم ، ۱ / ۵۳۶ ، ۵۳۷ ، تحت الحدیث : ۲۱۶ملتقطاً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع