30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی ایک کا لاکھ ہے ، اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایاکہ ’’جیسے یہاں کا گناہ دوسرے مقامات کے گناہ سے سخت تر ہے ایسے ہی مسلمان کے خون مال آبرو ظلماً برباد کرنا سخت تر ہے۔ ‘‘* حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی تبلیغ پر تمام کو گواہ بنایا ، اب بھی حجاج روضہ اقدس پر عرض کرتے ہیں یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمآپ نے پوری تبلیغ فرمادی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسرے تمام صحابہ کو احادیث کی تبلیغ کا حکم دیا۔ لہذا علماء کو چاہیے کہ دین کو نہ چھپائیں ، یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امانت ہے ، اسے امت کے حوالے کردیں ، تیسرے یہ کہ رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا ، چمن اسلام میں پھول کھلتے رہیں گے۔ رب نے اپنے حبیب کی اس بات کو کیسا سچا کیا ، سبحٰنَ ﷲ چاروں امام مجتہدین دیگر فقہاء صوفیاء بعد میں پیدا ہوئے جنہوں نے ان ہی احادیثِ مبارکہ سے قیمتی موتی نکالے اور اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے آسانی کرتے ہوئے دین کو واضح کردیا۔ ([1])
’’اسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ذوالقعدۃ ، ذوالحجۃ ، محرم الحرام اور رجب المرجب یہ چار وہ مہینے ہیں جن کا زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی بہت احترام کیا کرتے اور ان مہینوں میں جنگ نہ کرتے تھے۔
(2)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بارگاہِ رسالت کا حددرجہ ادب واحترام کیا کرتے تھے کہ جواب معلوم ہونے کے باوجود بھی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
(3)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ذکر کے ساتھ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ذکر خیر کرنا کوئی ناجائز وممنوع کام نہیں بلکہ عین ایمان ہے اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔
(4)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے احادیث مبارکہ کو امت مسلمہ تک پہنچانے کا حکم فرمایا۔
(5)علم دِین پھیلانے کا حکم خود سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیا ہے لہٰذا علمائے دین کو چاہیے کہ عام لوگوں تک علم دین کو پھیلاتے رہیں ، یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امانت ہے ، ائمہ مجتہدین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے بھی اپنا فریضہ ادا کیا اور قرآن وسنت سے مسائل کا اِستخراج کرکے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے لیے دِین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا آسان بنایا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم دِین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 214 جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا حق مارنا
عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اِیَاسِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْحَارِثِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلّی اللہ ُعَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ بِیَمِیْنِہِ فَقدْ اَوْجَبَ اللہُ لَہُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ رَجُلٌ : وَ اِنْ کَانَ شَیْئًا یَسِیْرًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ؟ فَقَالَ : وَ اِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِنْ اَرَاکٍ.([2])
ترجمہ : حضرت سیدناابو اُمامہ اِ یاس بن ثَعْلَبہ حارِثی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے لئے دوزخ کولازم اور جنت کو حرام کر دے گا ۔ ‘‘ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!اگر چہ تھوڑی سی چیز ہو؟‘‘ فرمایا : ’’اگر چہ پیلو کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
مال پر قبضے کا ذکر نہ کرنے کی وجہ:
علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیشرح مسلم میں فرماتے ہیں : حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مسلمان کے حق پر قبضے کا ذکر فرمایا ہے ، مال پر قبضے کا ذکر نہیں فرمایا اس میں یہ نکتہ ہے کہ یہ حکم اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں مسلمان کا مال نہ ہو بلکہ حق ہو مثلاً مردار کی کھال اور گوبرکہ یہ نجس ہے اس لئے مال نہیں لیکن اس سے نفع اٹھا یا جا سکتا ہے اس لئے وہ مسلمان کا حق ہے۔ اسی طرح اپنی ازواج میں باریوں کی تقسیم کہ یہ بھی مال نہیں لیکن مسلمان (یعنی ازواج )کا حق ہے لہٰذا جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کے حق کو مارنا چاہے گا وہ بھی اس وعید میں داخل ہوگا۔ ([3])
لزوم جہنم اور حرمت جنت کی وجوہات:
حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمان کہ اس پر جہنم لازم ہے اور جنت حرام۔ تو اس کی دو وَجہیں ہوسکتی ہیں : پہلی تو یہ کہ اس شخص نے یہ کام یعنی جھو ٹی قسم کھانا اور مسلمان کا حق مارنا حلال سمجھ کر کیا ہو اور اسی پر وہ مر گیا تو وہ کافر مرا ، اس لئے اس پر جہنم لازم۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ جھوٹی قسم کھانے والا جہنم کا مستحق تو ہے لیکن اس کے لئے معافی کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع