دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

حرمت والے مہینوں میں رَدّوبدل:

زمانہ جاہلیت میں عرب والے  اَشہُرِحُرُم(یعنی ذوالقعدہ ، ذو الحِجّہ ، محرم ، رَجَب) کی حرمت و عظمت کے معتقِد تھے کہ ان مہینوں میں جنگ و جدال نہیں کرتے تھے تو جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ حرمت والے مہینے آجاتے تو  یہ ان پر بہت شاق گزرتا۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حُرمت دوسرے مہینے  کی طرف منتقل کرنے لگے ، محرم کی حرمت صَفَر کی طرف منتقل کرکے محرم میں جنگ جاری رکھتے اورمحرم  کے  بجائے صَفَر کو ماہِ حرام بنا لیتے اور جب کبھی اس سے بھی حرمت منتقل کرنے کی ضرورت سمجھتے تو اس میں بھی  اپنے لئے جنگ حلال کر لیتے اور  اس کے بجائے ربیع الاوّل کو ماہِ حرام قرا ر دیتے ۔ اس طرح حرمت سال کے تمام مہینوں میں گھومتی رہتی  اور ان کے اس طرح کرنے سے ماہ ِحرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہتی(کہ کونسا مہینہ حرمت والا ہے )۔ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجَّۃُ الْوَداع میں اعلان فرمایا کہ نَسِی(  یعنی ماہ محرم کی حرمت کو صفر کی طرف بڑھا دینے) کے مہینے زمانہ کے گزرنے کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ اب مہینوں کے اوقات کار اپنی اسی  اصل وضع  پر آچکے ہیں کہ جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّنے زمین و آسمان کو پیدا کرتے ہوئے مہینوں کو مقرر کیا تھا ۔  ([1])

رجب کو قبیلہ مُضَر کی طرف مَنسوب کرنے کی وجہ:

عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’رجب کے مہینے کو قبیلۂ مُضَر کی طرف منسوب اس لیے کیا کیوں کہ مُضَرْ والے عرب میں سب سے زیادہ رجب کی حرمت کی تعظیم کرتے تھے۔ عرب میں کوئی بھی شخص رجب میں جنگ کرنے کو حلال نہیں جانتا تھا۔ اہلِ عرب حرمت والے مہینوں کو حلال کردیتے تھے اور ان کی جگہ دوسرے مہینوں کو حرام کردیتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے حرمت والے مہینوں کی تخصیص کو چھوڑدیا تھا پس وہ پورے سال میں سے کوئی سے بھی چار مہینوں کو حرام کردیتے تھے اور کبھی کبھی تو وہ اتنی زیادتی کر بیٹھتے تھے کہ بارہ مہینوں کے بجائے تیرہ یا چودہ مہینوں کا سال بنادیتے تھے۔ ‘‘([2])

صحابہ کرام اورتعظیم نبی:

علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کاحضور نبی کریم رؤ ف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یہ عرض کرنا کہ  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں اصل میں بارگاہِ رسالت کے ادب کی وجہ سے تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ  جو بات ہمارے علم میں ہے وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم میں بھی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یہ بھی جانتے تھے  کہ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہم سے اس طرح پوچھنا فقط کسی بات کی خبر دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ یقیناً اس کے پیچھے کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جواب میں عرض کیا  کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘([3])

حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاننےمراٰۃُ المناجیح میں مذکورہ حدیث کی شرح کے ضمن میں کئی مسائل اور مفید باتیں ذکر فرمائی ہیں ، خلاصہ پیش خدمت ہے :

* زمانہ مطلق وقت کو کہتے ہیں لیکن یہاں حدیث پاک میں قمری یعنی اسلامی سال مراد ہے۔ *  اہل عرب زمانہ جاہلیت میں دو حرکتیں کرتے تھے ایک تو کبھی سال کو تیرہ ماہ کا بنادینا ، کبھی تو جنگ کی وجہ سے مہینوں کوتبدیل کردیتے جس سے بقر عید بھی تبدیل ہوجاتی ، یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی والدہ ماجدہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حاملہ ہوئیں اسی سال رجب کو بقر عید مان کر حج کیا گیا تھا اسی لیے روایات میں آتا ہے کہ جناب آمنہ کا حاملہ ہونا ایام منٰی میں ہوا ، جس سال حضور انور نے حج کیا اسی سال حسن اتفاق سے سال بارہ ماہ کا ہوا اور ہر مہینہ اپنے اصل پر منایا گیا۔ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ جب استقرار حمل شریف ایام حج میں ہوا اور ربیع الاول میں ولادت مبارک ہوئی تو نو ماہ کیسے پورے ہوئے؟ معلوم ہوگیا کہ وہ ماہ رجب تھا جسے بقر عید بنا کر حج کیا گیا تھا۔ * رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خاموش رہنا اہتمام کے لیے تھا کیونکہ جو بات انتظار کے بعد معلوم ہو وہ خوب یاد رہتی ہے۔ * صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس فرمان کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں واضح ہوا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ ذکر کرنا ناجائز وممنوع نہیں بلکہ عین ایمان ہے۔ * صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاموشی پر یہ گمان کیا کہ شاید آپ نام تبدیل فرمادیں گے ، معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نام تبدیل کرنے کا بھی اختیار ہے۔ * حدود حرم میں جیسے نیکی ایک کی ایک لاکھ بن جاتی ہے ، ویسے ہی گناہ



[1]   تفسیر خازن ،  پ۱۰ ،  التوبۃ  ، تحت الآیۃ :  ۳۶ ،   ۲ / ۲۳۸ ، ۲۳۷۔

[2]   عمدۃ القاری ،  کتاب بدء الخلق ،  باب ما جاء فی ارض سبعین ،  ۱۰ / ۵۴۹ ،  حدیث :  ۳۱۹۷۔

[3]   شرح مسلم للنووی  ، کتاب القسامۃ  ،  باب تغلیظ تحریم الدماء۔ ۔ ۔  الخ ،  ۶ /  ۱۶۹ ،  الجزء  احد عشر۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن