30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اوراس سے ڈر گئے اورآدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔ ([1])
’’ولی ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)مالِ غنیمت ہو یا کوئی اور مال کسی بھی امانت میں بلا اجازتِ شرعی خیانت کرنا حرام اور گناہ ہے۔
(2)خائن کے لیے قرآن وسنت میں بہت سخت وعیدیں آئیں ہیں ، لہذا اگر کسی کے مال میں خیانت کی ہے تو معلوم ہونے کی صورت میں یاتو اسے یا اس کے ورثاء کو واپس کریں یا اس سے معافی کی ترکیب بنائیں ، اور اگر معلوم نہ ہو تو اس سے توبہ کریں اور جس کے مال میں خیانت کی ہے اس کی طرف سے صدقہ کردیں ۔
(3)دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کےرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت ہی میں ہے ، بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا رہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدعاہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے مہلک مرض سے محفوظ فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 213 خون ، مال اور عِزَّتُوں کی حُرمَت
عَنْ اَبِي بَكْرَةَ نُفَیْعِ بْن الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِيْ بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ اَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ : اَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَ يُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا بَلٰى. قَالَ : فَاِنَّ دِمَاءَكُمْ وَاَمْوَالَكُمْ وَاَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْاَلُكُمْ عَنْ اَعْمَالِكُمْ اَلَا فَلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ اَنْ يَّكُوْنَ اَوْعٰى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ : اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ:اللّٰہُمَّ اشْھَدْ . ([2])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو بکرہ نفیع بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’زمانہ اپنی اس دن کی اصل حالت پر واپس آگیا جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّنے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں : تین تو ایک ساتھ ہیں ذوالقعدہ الحرام ، ذوالحجہ الحرام اور محرم الحرام اور مُضَرْ والوں کا رجب جو کہ جمادی الآ خر اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ ‘‘ پھر استفسار فرمایا : ’’ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے تو ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اس مہینے کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : ’’کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا شہر ہے؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر یہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس شہر کا کوئی اورنام رکھ دیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’کیا یہ شہرِ حرام نہیں ؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا دن ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر وہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : “ کیا یہ یومِ نحر یعنی قربانی کا دن نہیں؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’بے شک تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسےتمہاراآج کا دن تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملاقات کروگے ، وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ، خبردار! میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ، جو حاضر ہیں انہیں چاہیے کہ وہ غائب تک میری یہ باتیں پہنچادیں ۔ ہوسکتا ہے جنہیں بات پہنچائی جائے اِن میں سے بعض زیادہ یاد رکھنے والے ہوں ، بعض سننے والوں سے۔ ‘‘پھردوبار ارشاد فرمایا : ’’سنو! کیا میں نےتبلیغ کردی؟ سنو !کیا میں نے تبلیغ کردی؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ توبھی گواہ ہوجا۔ ‘‘
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع