30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(1)’’منافق کی تین علامتیں ہیں : !جب بات کرے تو جھوٹ بولے!جب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اور!جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو ، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔‘‘([1])(2)’’قیامت کے دن ہر خائن کے لئے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔‘‘([2])(3)’’مکروفریب اور خیانت جہنم میں لے جانے والے (اعمال) ہیں۔ ‘‘([3])
خائن کا ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس خیانت سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ خیانت والی شے اس کے مالک کو واپس کرنا یا اسے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’خیانت والی شے کو واپس کرنا یا اسے معاف کروانا صحت توبہ کے لیے شرط ہے۔ ‘‘ ([4])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بھی مسلمان بھائی کی امانت میں خیانت کرنا ناجائز وگناہ ہے ، خائن کے بارے میں “ شعب الایمان “ کی یہ روایت پڑھیےاورعبرت سے سردھنیے :
حضرت سیدنا زاذان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مرناامانت کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ بندے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اگرچہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا گیا ہواوراس سے کہاجائے گا : ’’اپنی امانت ادا کر۔ ‘‘وہ عرض کرے گا : ’’اے رب عَزَّ وَجَلَّ!کیسے ادا کروں حالانکہ دنیا توختم ہوگئی۔ ‘‘پس فرشتوں سےکہا جائے گا : ’’اسے جہنمی وادی ھَاوِیَۃ کی طرف لے جاؤ۔ ‘‘وہ اسے لے کر ھَاوِیَۃکی جانب چل دیں گے اور پھر اس کی امانت اس کے سامنے اسی حالت میں لائی جائے گی جس حالت میں دنیا میں اسے دی گئی تھی۔ تو وہ اسے دیکھتے ہی پہچان لے گا اور اس کے پیچھے جائے گا یہاں تک کہ اسے حاصل کر لے گا اور اپنے کندھے پر اٹھا لے گا حتی کہ جب اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ باہر آ گیا ہے تو وہ اس کے کندھے سے گر جائے گی اور اس طرح وہ ہمیشہ اس کے پیچھے جاتا ہی رہے گا۔ نمازایک امانت ہے ، وضو بھی امانت ہے ، وزن اور ماپ بھی امانت ہیں اور ان میں سخت ترین ودیعت ہے۔ ‘‘
حضرت سیدنازاذان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں : میں حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی : ’’کیاآپ نہیں جانتے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایساایساکہاہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا : ’’انہوں
نے سچ کہا ہے ، کیاآپ نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں سنا : ( اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-) (پ۵ ، النساء : ۵۸) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کردو۔ ([5])
حضرت علامہ ابن حجر مکی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جہاں تک امانتوں میں خیانت کرنے کامعاملہ ہے توہرایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکامات پرامین ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑاکرےگاکہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ پھراس بندے سے اس کے بارے میں پوچھے گا کہ اس نے شرعی اَحکام میں اس کی امانت کی حفاظت کی یا انہیں ضائع کر دیا؟ لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اِن اُخروی سوالات کے جوابات کی تیاری کرے کیونکہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّاِن احکام کے بارے میں اِستفسار فرمائے گا تو اُس دن انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان میں غور کیجئے : ( اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲) ) (پ۱۲ ، یوسف : ۵۲) ترجمۂ کنزالایمان : اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں چلنے دیتا۔ یعنی امانت میں خیانت کرنے والے کاکوئی حیلہ اسے ہدایت کے مقام پرفائزنہیں کرسکتا بلکہ اسے دنیا میں بھی راہِ ہدایت سے محروم کردیتا ہے اور آخرت میں بھی ساری انسانیت کے سامنے رسوا کرے گا۔ خیانت اگرچہ ہر چیزمیں قبیح ہے لیکن بعض چیزوں میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں زیادہ قبیح ہے ، کیونکہ جو شخص روپے پیسے کے معاملے میں تجھ سے خیانت کرے وہ اس شخص کی مثل نہیں ہو سکتا جوتیرے اہل وعیال کے معاملے میں خیانت کا مرتکب ہو۔ نیز اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے امانت کے معاملے کو انتہائی عظمت دی اور اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اس کی تاکید بیان کی ، چنانچہ ارشادہوتا ہے :
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲) (پ۲۲ ، الاحزاب : ۷۲)
[1] مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان خصال المنافق ، ص۵۰ ، حدیث : ۵۹۔
[2] مسلم ، کتاب الجھاد والسیر ، باب تحریم الغدر ، ص۹۵۵ ، حدیث : ۱۷۳۵۔
[3] مستدرک حاکم ، کتاب الاھوال ، باب تحشر ھذہ الآمۃ۔ ۔ ۔ الخ ، ۵ / ۸۳۳ ، حدیث : ۸۸۳۱۔
[4] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجھاد ، باب قسمۃ الغنائم والغلول فیھا ، ۷ / ۵۸۴ ، تحت الحدیث : ۴۰۱۲۔
[5] شعب الایمان ، باب فی الامانات ، ۴ / ۳۲۳ ، حدیث : ۵۲۶۶۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع