30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کے ذریعے ایذا دیناممکن ہے جبکہ ہاتھ کے ذریعےصرف موجود لوگوں کو ہی ایذادی جاسکتی ہےہاں یہ ممکن ہے کہ ایذا دینے کے معاملے میں زبان کے ساتھ لکھنے کو بھی شامل کر لیا جائے اگر چہ اس معاملے میں ہاتھ کا اثر بھی بڑا ہے۔ مسلمان پر جو حد قائم کرتے ہوئے یا تعزیراًہاتھ سے ماراجاتا ہے وہ صورت اس سے الگ ہے۔ حدیث پاک میں زبان کا لفظ استعمال فرمایا قول نہیں فرمایا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان سے جو کچھ مذاق کے طور پر بھی کہا جائے وہ بھی اس میں شامل ہو گااور ہاتھ کے علاوہ کسی اور حصے کا ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہو جائیں کہ جن کے ذریعے سے غیر کے حق کو نا حق طور پہ لیا جاتا ہے۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں مسلمانوں کو ہاتھ ، زبان اورہر قسم کی ایذا دینے کے ترک پر ابھارنا ہے ، اسی وجہ سے حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : نیک لوگ وہ ہیں جو چیونٹی یا اس سے بھی چھوٹی چیز کو ایذا نہیں دیتے۔ “ ([2])
عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّالرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت حضرت سیدنا ابو زنادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’ جب ہجرت منقطع ہو گئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے بعض اصحاب ہجرت کی فضلیت سے محروم ہونے پر غمگین تھے۔ اس پرسرکارمدینہ ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں بتایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا۔ ‘‘([3])
ہجرت کی دو قسمیں ہیں : (1)ظاہری(2)باطنی۔ باطنی ہجرت یہ ہے کہ بندہ ہر اس برائی کو چھوڑ دے جس کی طرف شیطان یا نفس اَمارہ بلائےاور ظاہری ہجرت یہ ہے کہ بندہ اپنے ایمان کو بچانے کے لئے فتنے کی جگہ سے کسی دوسری محفوظ جگہ چلا جائے۔ اِس حدیث پاک میں مہا جرین کو خطاب کیا گیا ہے تا کہ وہ صرف اپنے گھر سے نکلنے یعنی ظاہری ہجرت کرنے پر ہی اکتفا نہ کر لیں بلکہ شریعت کی طرف سے جن کاموں کو کرنے کا حکم ہے اس پر عمل کریں اور جن کاموں سے منع کیاگیا ہے اس سے باز رہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ہجرت منقطع ہو گئی تو وہ لوگ جو ہجرت میں شریک نہ ہو سکے ان کے دلوں کے اطمینان کے لئے یہ فرمایا گیا ہو کہ ہجرت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے منع فرمایا ہے پس یہ دو جملے : (1) کسی مسلمان کو ایذا نہ دینا اور(2)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑدینا اپنے معانی کے اعتبار سے کئی احکام کو شامل ہے۔ ‘‘([4])
فقیہ اعظم مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث بھی ان جوامع الکلم میں سے ہے جنہیں محدثین نے اُمُّ الاَحادیث میں شمار کیا ہے۔ غور کیجئے! چند الفاظ ہیں مگر ان میں معانی کے سمندر موجزن ہیں ۔ پہلا حصہ بندوں کی تمام حق تلفیوں سے بچنے اور تمام حقوق کی ادائیگی کی طرف رہنمائی کرتاہے اور دوسرا حصہ حُقُوقُ اللہ کی بجا آوری میں ہر قسم کی کوتاہی پر قد غن لگا رہا ہے ، اب ذرا سا غور کرنے پراس کی شرح میں ہر ذی علم دفتر پر دفتر تیار کر سکتا ہے ۔ اگر مسلمان ان دونوں حصوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا سماج (معاشرہ)امن کا گہوارا بن جائے ، اور انسان کا بھی ظاہر و باطن کُندہ ہو جائے۔ ‘‘([5])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جو لغۃً شرعاً ہر طرح مسلمان ہو وہ مومن ہے ، جو کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے گالی طعنہ چغلی وغیرہ نہ کرے کسی کو نہ مارے پیٹے نہ اس کے خلاف کچھ تحریر کرے۔ یہ حدیث اخلاق کی جامع ہے مسلمانوں کی سلامتی کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بعض صورتوں میں کفار سے لڑنا بھڑنا ، انہیں برا کہنا عبادت ہے۔ یہاں ظلماً غیبت واذیت مراد ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم مسلمان کافر ہے یا رحم دل کافر مسلمان ہے۔ ‘‘([6])
’’جبل نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
[1] فتح الباری ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۱ ، تحت الحدیث : ۱۰۔
[2] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۶۲۔
[3] شرح بخاری لابن بطال ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون ۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۶۲۔
[4] فتح الباری ، کتاب الایمان ، باب المسلم من سلم المسلمون۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۵۲ ، تحت الحدیث : ۱۰۔
[5] نزہۃالقاری ، ۱ / ۳۰۹۔
[6] مرآۃ المناجیح ، ۱ / ۲۹۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع