30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بوجھ اٹھانا پڑے گا ۔
یادرکھئے!مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی پر ظلم کرے ، ناحق کسی کا مال غصب کرے اور دھمکیاں دے کر لوگوں سے رقم کا مطالبہ کرے اور نہ دینے پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کرے۔ بندوں کی حق تلفی آخرت کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا احمد بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’کئی لوگ نیکیوں کی کثیر دولت لئے دنیا سے مالدار رخصت ہوں گے مگر بندوں کی حق تلفیوں کے باعث قیامت کے دن اپنی ساری نیکیاں کھو بیٹھیں گے اور یوں غریب و نادار ہوجائیں گے۔ ‘‘([1])
’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)دوسروں کا اِحترام اور اُن کے حقوق کالحاظ رکھنا تعلیماتِ اسلام میں سے ہے ، لہذااگر کہیں کسی کی حق تلفی ہوجائے تو اُس سے معافی مانگنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
(2)ہمارے اَعمال کا تعلق فقط ہماری ظاہری حیات تک سے ، جب موت آگئی تو پھر نہ کسی عمل کے کرنے کی مہلت اور نہ کسی کے حق کی ادائیگی کا موقع میسر آئے گا۔ کسی سے قصداً یا بلاقصد کوئی زیادتی ہوئی ہو تو اسے چاہیے کہ دنیا میں ہی مظلوم سے حق معاف کروالے۔
(3)حق کی ادائیگی میں دوصورتیں ہوسکتی ہیں یاتو مظلوم کا حق اداکردیا جائے یاپھر مظلوم سے عرض کرکے اس سے وہ حق معاف کروالیاجائے ، اسی میں ہمار ی بھلائی اور نجات ہے۔
(4)کئی لوگ نیکیوں کی کثیر دولت لئے دنیا سے مالدار رخصت ہوں گے مگر بندوں کی حق تلفیوں کے باعث قیامت کے دن اپنی ساری نیکیاں کھو بیٹھیں گے اور یوں غریب و نادار ہوجائیں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے نیک بندوں کی صحبت ، حُقُوقُ اللہ اورحقوق العبادکی ادائیگی کی توفیق سے بہر مندفرمائے ۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 211 کامِل مسلمان کون؟
عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ وَالمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللہُ عَنْہُ. ([2])
ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدے۔ ‘‘
عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میں مسلمان سے مراد افضل مسلمان ہے جو کہ مکمل طور پہ حُقُوقُ اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث پاک میں مسلمان کی وہ علامت بیان کر دی گئی ہو جس سے اس کے مسلما ن ہو نے پر استدلال کیا جائے اور وہ علامت اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچانا ہےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن معاملہ کی طرف اشارہ ہوکیونکہ جب بندہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو اپنے ربّ کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ حُسنِ معاملہ کرےگا۔ ‘‘([3])
ایذاءِمسلم سے بچنے کی اشد تاکید:
واضح رہے کہ یہاں حدیث پاک میں مسلمان کا ذکر غلبہ کے طور پر کیا گیا ہےکیونکہ مسلمان کی حفاظت کرنے اور اس کو تکلیف پہنچانے سے باز رہنے پر اشد تاکید کی گئی ہے ، اگرچہ کفار کو بھی اذیت دینا منع ہے لیکن بعض صورتوں میں کفار کے ساتھ جنگ و قتال کرنا بھی جائز ہے اور مردوں کا ذکر یہ بھی غلبہ کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ مسلمان عورتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ خاص طور پہ زبان کا ذکر اس لئے کیا کیا کیونکہ انسان اپنے دل کی بات کو زبان سے ہی تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح ہاتھ کا ذکر بھی کیونکہ اکثر اَفعال اسی کے ذریعہ ہوتے ہیں اور حدیث پاک میں مطلقاًزبان کی طرف نسبت کی گئی ہے نہ کہ ہاتھ کی طرف کیونکہ زبان کے ذریعے گزرے ہوئے موجودہ اور آئندہ لوگوں کے بارے میں بات کرنا یعنی غیبت وغیرہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع