30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)صاحب منصب لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے تحائف لینے میں احتیاط برتیں کہ ممکن ہے کہ یہی دیاگیاتحفہ لینے والے کے لیے رشوت بن جائےاور رشوت لینے اوردینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
(5)ہرانسان کامیاب ہونا چاہتاہےاورحقیقی کامیابی کا دارومدار اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے اُصولوں کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم حقیقی کامیابی کو اَحکامِ شرع کی مخالفت اور گناہوں میں تلاش کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حرام کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، رشوت لینے اور دینے دونوں سے محفوظ فرمائے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 210 ظلم کی آج ہی معافی حاصل کرلے
عَنْ اَبی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ اَوْ مِنْ شَیْء ٍفَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قبْلَ اَنْ لَا یَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ اِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَمِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِہِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہِ فَحُمِلَ عَلَیہِ.([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ جس کا اپنے مسلمان بھائی پراس کی عزت یا کسی اور چیز کے حوالے سے کوئی ظلم ہوتو اسے چاہیے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے۔ اگر اس ظالم کے پاس اچھا عمل ہوگا تو اُس ظلم کے برابر اس سے لے لیا جائے گا ، اگراس ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تومظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔ ‘‘
دوسرے کا بوجھ کوئی نہ اٹھائے گا:
حدیث پاک میں ہے کہ ’’ظلم کرنے والے کے پاس مظلوم کو دینے کے لئے نیکیاں نہیں ہوں گی تو اس صورت میں مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔ ‘‘حالانکہ قرانِ مجیدمیں ہے :
وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ- (پ۸ ، الانعام : ۱۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
اس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ آیت ِقرآنی میں جو بوجھ اُٹھانے کا ذکر کیاگیاہے وہ اس طورپرہے کہ محض رشتہ داری و دوستی کی بنیاد پر کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گابلکہ جس پر ہوگاوہی اُٹھائے گاجبکہ حدیث میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ اس طورپرہے کہ وہاں ظلم کی وجہ سے ظالم نے جو مظلوم کا حق اداکرناہے اس کی ادائیگی کے لیے نیکیاں نہیں تو ایسے میں مظلوم کے گناہ کا بار ظالم پر ڈال دیاجائےگا۔ ([2])
ظالم مظلوم سے کس طرح معافی مانگے؟
حقوق العباد کی معافی کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے کیے گئے ایک سوال اور اس کے جواب کا خلاصہ کچھ یوں ہے :
سوال : “ ایک عورت نے مرنے سے قبل(مرض الموت میں)اپنے شوہر سے لوگوں کی موجودگی میں اس کے جملہ حقوق اور کوتاہیوں کی معافی مانگی اور اپنے تمام حقوق شوہر کو معاف کردیے اور حق مہر کی تفصیل بیان کرکے اسے بھی معاف کردیا۔ اس کے شوہر نے بھی اسے اپنے تمام حقوق اور کوتاہیاں معاف کردیں تو کیا اس صورت میں ان دونوں میاں بیوی پر کسی قسم کا مواخذہ عندﷲ باقی رہا یا نہیں؟نیزیہ الفاظ تمام حقوق اور کوتاہیوں کی معافی کے لیے کافی تھے یا علیحدہ علیحدہ ہرخطا اورحق کی وضاحت ضروری تھی اور کیا شوہر حق مِہر سے بَری ہوگیا؟
جواب : عام حقوق کی معافی جوشوہر نے بیوی کو اوربیوی نے شوہر کو کی ان میں بیوی کے مالی حقوق مثلاً حق مہر ودیگر دُیُون کی معافی توبیوی کے ورثا کی اجازت پرموقوف رہے گی ان کے علاوہ بیوی کے غیر مالی حقوق اور شوہر کے مالی وغیر مالی حقوق جو کچھ بیوی کے علم میں تھے وہ سب معاف ہوگئے اور جو علم میں نہ تھے مگروہ حق جو معمولی اور آسان تھے کہ بیوی کو معلوم ہوتا تو معاف کردینے میں کوئی اندیشہ نہ ہوتا وہ بھی معاف ہوگئے اور ایسے بڑے حقوق کہ اگران کی تفصیل بتائی جائے توحقدار معاف نہ کرے ، اِن عام اور مجمل الفاظ سے اُن حقوق کے معاف ہوجانے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک ظاہر ی الفاظ کی وجہ سے سب معاف ہوجائیں گےاور بعض کے نزدیک بالخصوص اُن کی تفصیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع