دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

والوں کے بہترین مال کو زبردستی لینا حرام ہے ، (ہاں اگر اپنی مرضی سے عمدہ مال دینا چا ہیں تو لے سکتا ہے)اسی طرح زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ میں گھٹیا  مال دینا حرام ہے ، بلک مُتَوَسِّطْ (درمیانہ)مال دینا اور لینا چاہئے۔ (7) کافروں کو مالِ زکوٰۃ دینا جائز نہیں اسی طرح غنی (مالک نصاب )کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ۔ ([1])

زکوٰۃ کے دیگر چند مسائل:

’’ان کے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر انہی کے فقراءپر لوٹا دی جائے۔ ‘‘اس کے تحت مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوٰۃ وصول کرکے مدینہ منورہ نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گےتا کہ تم سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھا نے کمانے کے لئے ہے بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر تمہارے ہی فقرا ء کو دے دی جائے گی۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ کافر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ دوسرے یہ کہ بلا سخت مجبوری ایک جگہ کی تمام زکوٰۃ دوسری جگہ منتقل نہ کی جائے۔ تیسرے یہ کہ مالدار صاحبِ نصاب زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ جیسا کہ لفظ فُقَرَاء اور ضمیر ھُمْ سے معلوم ہوا ۔ ضرورۃ ًزکوٰۃ کو منتقل کرنا با لکل جائز ہے جیسے کہ غنی کے اہل قرابت فقیر  دوسرے شہر میں  رہتے ہوں یا دوسری جگہ سخت فقر وتنگدستی ہو یا دوسری جگہ صدقے کا ثواب زیادہ ہولہٰذا اپنی کچھ زکوٰۃ مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بھجوانا جیسا کہ آج کل رواج ہے با لکل جائز ہے۔ خیال رہے کہ یہاں اَغنیاء سے مراد بالغ عاقل مالدار مراد ہیں کیونکہ نماز کی طرح زکوٰۃ بھی بچے اور دیوانے پر فرض نہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوٰۃ خود غنی ہی ادا کرےگا اورظا ہری مال جانور پیداوار کی زکوٰۃ حاکم اِسلام وصول کر کے اپنے انتظام سے خرچ کرےگا۔ زکوٰۃ میں ان کے بہترین مال نہ وصول کرو بلکہ درمیانی مال لو ، ہاں اگر خود مالک ہی بہترین مال  اپنی خوشی سے دے تو ان کی مرضی۔ لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔ اس جملے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ ہلاک شدہ مال کی زکوۃ نہ کی جائے گی کیونکہ اَمْوَالِھِمْ ارشاد ہوا۔ ‘‘([2])

زکوۃ کے تفصیلی مسائل جاننے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۱۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فتاویٰ اہلسنت‘‘ کتاب الزکوٰۃ  کا مطالعہ کیجئے۔

ظلم مطلقاً حرام ہے:

عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی’’مظلوم کی بدعا سے بچو۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ظلم سے بچو تاکہ تم مظلوم کی بدعا سے بچ سکو اور یہاں ظلم کی تمام اقسام سے منع کرنے پر تنبیہ ہےاور زکوٰۃ میں جو عمدہ مال لینے سے منع فرمایا ہے اس میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح سے مال لینا بھی ظلم ہے ۔ ‘‘([3])

تاقیامت حُکام کو عدل کی تعلیم ہے:

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان’’مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی اے معاذ! تم حاکم بن کریمن جار ہے ہووہاں کسی پر ظلم نہ کرنا ، نہ بدنی ظلم ، نہ مالی ، نہ زبانی کیونکہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی بہت جلد سنتا ہے ، اس میں درحقیقت تاقیامت حکام کو عدل کی تعلیم ہےورنہ صحابہ کرام ظلم نہیں کرتے ، حضرت سیدنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی چیونٹی نے کہا تھا : ’’لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُودُہٗ وَ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ یعنی کہیں تم اے چیونٹیو!حضرت سلیمان اور ا ن کے لشکر سے کچلی نہ جاؤ اورانہیں خبر بھی نہ ہو ۔ ‘‘معلوم ہوا چیونٹی کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ پیغمبرکے صحابہ چیونٹی پر بھی ظلم نہیں کرتے لہٰذا اِس حدیث سے صحابہ کا ظالم ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

’’ملتزم‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)کوئی بھی کافر اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ توحیدورسالت کا اِقرار نہ کرے۔

   (2)اِس حدیث پاک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو دعوت اِسلام دینے کا طریقہ ارشاد فرمادیا۔

   (3)مظلوم کی بدعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا یعنی مظلوم کی بدعا قبول ہونے میں دیر نہیں لگتی اس لئے ہمیں مظلوم  کی بدعا سے بچنا چاہیے۔

   (4)ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت کی ہراعتبار سے اِصلاح اور خیرخواہی  کا خیال رکھیں تاکہ بہتر سے بہتر فوائد وثمرات حاصل ہوں ۔

   (5)زکوٰۃ دینے والوں سے زبردستی اُن کے عمدہ مال لینا بھی ظلم ہے اور حدیث پاک میں اِس سے منع فرمایا گیا ہے ، لہٰذا حاکم کو چاہیے کہ اس سے پرہیزکرے اور زکوٰۃ دینے والوں کو یہ حکم ہے کہ وہ فقراء ومساکین کے لیے اپنے عمدہ مالوں سے ہی زکوٰۃ ادا کریں۔

 



[1]    شرح مسلم للنووی  ،  کتاب الایمان  ، باب الدعاء الی ا لشھادتین و شرائع الاسلام   ،  ۱ / ۱۹۷ ، الجزء الاول۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۳۔

[3]   فتح الباری ،  کتاب الزکوٰۃ  ،  باب اخذالصدقۃ من الا غنیاء ۔ ۔ ۔ الخ ،  ۴ / ۳۱۰  ،  تحت الحدیث : ۱۴۹۶۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۳ / ۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن