30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 208 دعوتِ اسلام کا طریقہ
وَعَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَادْعُہُمْ اِلَی شَہَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللَّہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ قَدِافْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذَلِکَ فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللَّہِ حِجَابٌ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا معاذرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے(یمن کی طرف حاکم بنا کر)بھیجاتو فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی طرف جارہے ہو ، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر یہ بات مان لیں توانہیں بتانا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے ، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقراء میں تقسیم کردی جائے۔ اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو (زکوٰۃ لیتے وقت) ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’جب شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۹ہجری کو غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُاور حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حاکم بناکر یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں اور اُن سے زکوٰۃ وصول کریں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یمن کو پانچ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پرتقسیم فرمایا تھا : سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو صنعاء کا حاکم بنا یا ، حضرت سیدنا مہاجر بن اَبی اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کندہ کا ، حضرت سیدنا زیاد بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرموت کا ، حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جندل کا اور حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو زبید ، عدن اور ساحل کا۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اَہل یمن کو دو چیزوں کی دعوت دینا : ایک یہ کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور دوسرا اس بات کی گواہی کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں۔ ‘‘([2])
حضرت سیدنا شیخ زین الدین عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’(مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ) لوگوں کو اسلام کی دعوت عقائدمیں ان کے مزاج کے حساب سے دی جائے(یعنی جو جس چیز کا منکر ہو پہلے اسی کی دعوت دی جائے)۔ اسی وجہ سے جباللہ1کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن بھیجا تو فرمایا کہ اہل یمن کو پہلے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وحدانیت کی دعوت دینا اور پھر رسالت کی ، کیونکہ یمن کے لوگ اہل کتاب تھے ، وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو مانتے تو تھے لیکن اس کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتے تھےجیسا کہ نصاریٰ حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بیٹا مانتے ہیں اور یہودی حضرت سیدنا عزیر عَلَیْہِ السَّلَام کو ، جبکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان باتوں سے پاک ہے ، اور سیِّد عالَم ، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ یہ ہماری طرف نہیں بھیجے گئے۔ ‘‘([3])
مذکورہ حدیث پاک سے اخذ کردہ چند مسائل:
علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے مذکورہ حدیث پاک سے درج ذیل مسائل اخذ فرمائے ہیں :
(1)خبر واحد کو قبول کرنا اورجو حکم اس سے ثابت ہو رہا ہو اس پر عمل کرناجائز ہے۔ (2)کفار سے جنگ کرنے سے پہلے انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّاس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے کی دعوت دینا سنت ہے ۔ (3)جب تک کوئی شخص زبان سے توحید ورسالت کا اقرار نہ کرے اس پر اسلام کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ (4)دن اور رات میں پانچ نمازوں کا پڑھنا فرض ہے۔ (5) اس حدیث میں شدت کے ساتھ ظلم کی حرمت کو بیان کیا ہے حاکم پر لازم ہے کہ وہ اپنے (ما تحت )حکام کو نصیحت کرے ، ظلم کے بارے میں ان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ڈرائے اور انہیں سختی کے ساتھ ظلم کرنے سے روکےاور ظلم پر آخرت کے عذاب کو بیان کرے۔ (6)زکوٰۃ وصول کرنے والے عاملین پر زکوٰۃ دینے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع