30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں قبضہ مافیا اور ایسے تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز طریقے سے قبضہ کرلیتے ہیں ، رِشوتوں کے ذَرِیعے دوسروں کی جگہوں پر قبضہ کر کے عمارتیں بنانے والوں ، لوگوں کی طرف سے ٹھیکے پر ملی ہوئی زَرعی زمینیں دبالینے والے کِسانوں ، وَڈَیروں اورخائِن زمین داروں کو گھبراکر جھٹ پٹ توبہ کرلینی چاہئے اور جن جن کی زمینیں دبائی ہیں وہ انہیں واپس کرکے ان سے معافی بھی مانگنی چاہیے۔
’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)دوسروں کی حق تلفی کرنا ، ظلماً کسی کی زمین پر قبضہ کرلینا قابل مذمت ہے ، جس میں معاشرتی نقصان کے ساتھ ساتھ اُخروی نقصان بھی ہے ۔
(2)اسلام میں ظلماً کسی کی زمین وغیرہ پر قبضہ کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے ، کیونکہ اسلام مسلمانوں کی جان ، مال ، آل اولاد سب چیزوں کا تحفظ فراہم کرتا ہے ۔
(3)اپنی ملکیت میں ہر طرح کے تصرف کی اجازت ہے مگر دوسروں کے مال یا زمین وغیرہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا خلاف شرع ہے ، اسلام میں اس کی سختی سے ممانعت ہے۔
(4)دنیا میں دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ یہی زمین کل بروز قیامت ان کے گلے کا طوق بن جائے گی۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضوں سے محفوظ فرمائے ، ہمیں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہرطرح کے اُخروی عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 207 اللہ تعالٰی ظالِم کو مُہْلَت دیتا ہے
عَنْ اَبِی مُوسَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللَّہَ لَیُمْلِی لِلظَّالِمِ فاِذَا اَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ ثُمَّ قَرَاَ : ( وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) ) ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب اسے پکڑتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :
وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) (پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پربیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ( سخت )ہے ۔
مظلوم کے لئے تسلی ،ظالم کے لئے وعید :
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث میں مظلوم کے لئے تسلی اور ظالم کے لئے وعید ہے تاکہ وہ ظالم اُس مہلت اور ڈھیل سے دھوکہ نہ کھائے جیسا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے فرمایا :
وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ۬ؕ -اِنَّمَا یُؤَخِّرُهُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْهِ الْاَبْصَارُۙ(۴۲) (پ۱۳ ، ابراھیم : ۴۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ہرگزاللہ کو بے خبر نہ جاننا ظالموں کے کام سے انہیں ڈھیل نہیں دے رہا ہے مگر ایسے دن کے لئے جس میں آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ ([2])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یہاں ظالم میں تین احتمال ہیں : یا اس سے مراد لوگوں کے حقوق مارنے والا ہے یا مراد مطلقاً گنہگار یا کافر ، پہلے معنیٰ زیادہ قوی ہیں۔ وہ بندہ خوش نصیب ہے جو پہلے گناہ پر ہی پکڑا جائے ، وہ بہت ہی بدنصیب ہے جس کو گناہ پر نعمتیں ملتی رہیں ، گناہ پر جلدی پکڑ نہ ہونا ربّ تعالیٰ کا غضب ہے کہ انسان اس سے دھوکہ کھا جاتا ہے ۔ ‘‘([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع