30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4)دجال کا فتنہ اتنا شدید ہوگا کہ پچھی امتوں کے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامبھی اس کے فتنے سے اپنی امتوں کو ڈراتے تھے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اُمت مُسْلِمَہ کو ایمان پر قائم رہنے ، اَعمالِ صالحہ کرنے ، ظلم سے بچنے اور مسلمانوں کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ مسلمانوں کو باہم محبت وبھائی چارہ سے رہنے کی توفیق عطافرمائے ، ہمیں تقویٰ وپرہیزگاری کی توفیق عطافرمائے ، ناحق قتل جیسے بڑے گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 206 سات زمینوں کا طوق
عَنْ عَا ئشَۃَ رضی اللہ عنہا فَاِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : مَنْ ظَلَمَ قِیْدَ شِبْرٍ مِنَ الاَرْضِ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ. ([1])
ترجمہ : اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ظلماً قبضے میں لی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ ‘‘
عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا کہ اِس حدیث کے دو معنیٰ ہیں : ایک یہ ہے کہ ظلماً زمین پر قبضہ کرنے والے کو اس بات کا حکم دیا جائے گا کہ وہ اس زمین کو اٹھا کر محشر کی طرف لے جائےتو وہ اس کے گلے میں طوق کی طرح ہو جائے گی۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ اس کو سات زمینوں تک دھنسا نے کی سزادی جائے گی۔ ‘‘([2])
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’طوق ڈالنے کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ سات زمینیں اٹھا کر اس کے گلے میں ڈال دی جا ئیں گی تو وہ اس کے گلے میں طوق کی طرح ہو جائیں گی یا ان زمینوں کو اس کے گلے میں طوق کی طرح کر دیا جائے گا جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ- (پ۴ ، ال عمرن : ۱۸۰)
ترجمۂ کنزالایمان : عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔
اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی گردن کو اتنا ہی لمبا کر دےگا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’کافر کی داڑھ اُحد پہا ڑ کی طرح ہوگی۔ ‘‘([3])
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص کسی زمین کا مالک ہو تو وہ زمین کے نیچے سے لے کر اس کی انتہا یعنی اوپر نیچے تک اس کا مالک ہوتا ہے ، اور اس مالک ِزمین کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی زمین کے نیچے کسی کوگڑھا ( سرنگ )یا کنواں نہ کھودنے دے ، خواہ اس سے اس کی زمین کو ضرر ہویا نہ ہو۔ اسی طرح مالک زمین کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ زمین میں جہاں تک چاہے گڑھا (سرنگ )کھودے یا زمین کے اوپر جہاں تک چاہے بلندی میں عمارت بنائے جبکہ اس(گڑھا کھودنے یا عمارت بنانے )سے کسی دوسرے کو ضرر نہ ہو ۔ ‘‘([4])
زمین پرظلماً قبضہ زیادہ سخت ہے:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین کے سات طبقےاوپر نیچے ہیں ، صرف سات ملک نہیں۔ پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا۔ لہذاجن احادیث میں ہے کہ اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔ یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔ ﷲتعالیٰ اس غاصب (ظالم قابض)کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی (گردن کی ہڈی)اس میں آجائے گی۔ معلوم ہوا کہ زمین کا غضب دوسرے غصب سے سخت تر ہے۔ ‘‘([5])
[1] بخاری ، کتاب المظالم والغصب ، باب اثم من ظلم شیئا من الارض ، ۲ / ۱۲۹ ، حدیث : ۲۴۵۲ ۔
[2] عمدۃ القاری ، کتاب المظالم والغصب ، باب اثم من ظلم شیأ من الارض ۹ / ۲۰۲ ، تحت الحدیث ۲۴۵۲۔
[3] شرح مسلم ، کتاب المساقاۃ ، باب تحریم الظلم وغصب الارض وغیرھا ، ۶ / ۴۸ ، الجزءالحادی عشر ۔
[4] عمدۃ القاری ، کتاب المظالم و الغصب ، باب اثم من ظلم شیأا من الارض ، ۹ / ۲۰۳ ، تحت الحدیث : ۲۴۵۲۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۴ / ۳۱۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع