30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیے جائیں ۔
(3)قیامت کے دن جانوروں سے بدلہ لینا یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے انصاف پر دلیل ہےکہ اس دن کسی کے ساتھ بے انصافی نہ ہوگی ، جانوروں سے قصاص لینے کے بعد انہیں ہمیشہ کے لیے فنا کر دیا جائےگا۔
(4)حق دار کو اس کا حق دنیا میں ہی ادا کرنے میں عافیت ہے ، ورنہ کل بروز قیامت نیکیوں کی صورت میں دینا ہوگایا اس کے گناہوں کو لینا ہوگا ، اور یقیناً یہ بہت خسارے کا سودا ہے۔
(5)سب سے بڑا مفلس یعنی کنگال شخص وہ ہے جو کل بروزِ قیامت نامہ اعمال میں نیکیاں لے کر آئے گا مگر جن کے حقوق تلف کیے ہوں گے وہ اس کی تمام نیکیاں لے جائیں گے۔
(6)بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن حقوق العباد کے معاملے میں بہت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔
(7)شیخ طریقت ، امیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بچپن سے ہی حقوق العباد کے معاملے میں مدنی ذہن رکھتے تھے ، ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کا ابھی سے حقوق العباد کے معاملے میں مدنی ذہن بنائیں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے حقوق کی کما حقہ ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں حقوق العباد کے معاملے میں بھی احتیاط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 205 رسولُ اللہ کی صحا بہ کرام کو وَصِیّت
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَظْہُرِنَا وَلَا نَدْرِی مَا حَجَّۃُ الْوَدَاعِ حَتّٰی حَمِدَ اللَّہَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ ذَکَرَ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَاَطْنَبَ فِی ذِکْرِہِ وَقَالَ : مَا بَعَثَ اللَّہُ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَ اُمَّتَہُ اَنْذَرَہُ نُوحٌ وَالنَّبِیُّونَ مِنْ بَعْدِہِ وَاِنَّہُ اِنْ یَخْرُجْ فِیکُمْ فَمَا خَفِیَ عَلَیْکُمْ مِنْ شَاْنِہِ فَلَیْسَ یَخْفَی عَلَیْکُمْ اَنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَاِنَّہُ اَعْوَرُ عَیْنِ الْیُمْنٰی کَاَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ اَلَااِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَاءَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا اَلَا ہَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوْ : ا نَعَمْ! قَالَ : اللّٰہُمَّ اشْہَدْ ثَلاَثًا وَیْلَکُمْ اَوْ وَیْحَکُمُ انْظُرُوا : لَا تَرْجِعُوْا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ. ([1])
ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہےکہ ہم حجۃ الوداع کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تشریف لائے ، ہم حجۃ الوداع کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان فرمائی ، پھر دجال کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے بھیجے ہوئے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ، حتی کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَاماور اُن کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامنے بھی اپنی اُمتوں کو اِس سے ڈرایااور اگر دجال تم میں ظاہر ہو جائے تو اُس کا حال تم پر مخفی نہ رہے گا ( یعنی تم اُسے آسانی سے پہچان لوگے) کیونکہ تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ بے شک تمہارا ربّ عَزَّ وَجَلَّ کانا نہیں جبکہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا کہ اس کی وہ کانی آنکھ اُبھرا ہوا انگور ہے۔ سنو ! بیشک اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تم پر تمہارے خون اورتمہارے مال اس طرح حرام کردیئے ہیں جس طرح تم پر یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے۔ سنو !کیا میں نےتمہیں(اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا)پیغام پہنچادیا؟‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بار گاہ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّتو بھی اس پر گواہ ہو جا۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’تم پر افسوس ہے!دیکھو میرے بعد کافر وں کی طرح نہ ہو جاناکہ ایک دوسرے کی گرد نیں مارنے لگو۔ ‘‘
علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃ القاری میں مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حجۃ الوداع کے بارے میں لاعلمی کا اظہار اِس لیے فرمایا تھاکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حجۃ الوداع کا ذکر کیا تو وہ آپس میں با تیں کرنے لگے ، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ حجۃ الوداع سے کیا مراد ہے؟آیا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظاہری پردہ فرما جائیں گے یا اِس کے کچھ اورمعنیٰ ہے؟اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وصالِ ظاہری ہو گیا تو ظاہر ہو گیا کہ اِس سے مراد حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کارُخصت ہو جانا ہے ، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی وفاتِ ظاہری کے قریب لوگوں کو وصیتیں فرمائی تھیں ۔ ‘‘([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع