دجال کی آنکھ کے بارے میں مختلف اقوال
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

طرح عبادت کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا ، رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذاکھا تااور نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا۔ اِنتقال کے بعد اُس کے ایک دوست نے اُسے خواب میں دیکھا توپوچھا : ’’مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے آپ کے ساتھ کیا معا ملہ فرمایا؟جواب دیا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے حساب لیا ، پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خلال کر لیا تھا اور وہ معاف کر وانا رہ گیا تھا اس کی وجہ سے مجھےجنت میں جانےسے روک دیا گیا ۔ ‘‘([1])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حقوق العباد کا معاملہ بہت حساس ہے ، عافیت اسی میں ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے جتنے بھی حقوق العباد جانے انجانے میں تلف ہوئے ان کو معاف کروالیا جائے۔ بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی اس معاملے میں حددرجہ احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ،

آدھاسیب معاف کروانے کے لیے بلخ کاسفر:

دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’ظلم کا انجام‘‘ صفحہ ۱۰پر ہے : حضرت سیدنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ایک نہر میں سیب دیکھا ، اُٹھا یا اور کھا لیا ۔ مگر یہ خیال آتے ہی پریشان ہو گئے کہ یہ میں نے کیا کیا ؟ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھالیا۔ چنانچہ مالک کو  تلاش کرتے ہوئے باغ تک پہنچے۔ معلوم ہوا کہ باغ کی مالکہ ایک خا تون ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے بلا اجازت سیب کھانے کی معذرت طلب کی۔ اس نے عرض کی : ’’حضور!یہ میرا اور بادشاہ کا مشترکہ باغ ہے ، میں تو اپنا حق معاف کردیتی ہوں لیکن بادشاہ کا حق معاف کرنے کا مجھے کوئی اختیار نہیں ۔ ‘‘بادشاہ کی رہائش مشہور شہر بلخ میں تھی۔ لہٰذا سیدنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے آدھا سیب معاف کروانے کیلئے بلخ کا سفر اختیار کیا اور بادشاہ سے معاف کر وا کر ہی دم لیا ۔

اس حکایت میں بغیر پوچھے دوسروں کی چیزیں ہڑپ کرجانے والوں ، سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیوں سے چپ چاپ کچھ نہ کچھ اٹھا کر اپنی ٹوکری میں ڈال لینے والوں کے لیے عبرت ہی عبرت ہے ، بظاہر معمولی نظر آنے والی شے بھی اگر بغیر اجازت استعمال کرڈالی اور قیامت کے روز پکڑے گئے تو کیا بنے گا؟

امیراہلسنت اورحقوق العباد :

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخ طریقت ، امیرِ اہلِسنّت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہجہاں حُقُوقُ اللہ کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش فرماتے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے ہیں وہیں حُقوق ُ العباد کے معاملے میں بھی بے حد احتیاط فرماتے ہیں۔ چنانچہ حقوق العباد کے متعلق فکر آخرت سے بھرپور مدنی ذہن دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’حُقُوقُ اللہ اگر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ چاہے تواپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ مگر حُقوق ُ العِباد کا معاملہ سخْت تر ہے کہ جب تک وہ بندہ جس کا حق تَلَف کیا گیاہے مُعاف نہیں کرےگا اللہ عَزَّ  وَجَلَّبھی مُعاف نہیں فرمائے گا ، اگرچہ یہ بات اللہ عَزَّ  وَجَلَّپر واجب نہیں مگر اس کی مرضی یہی ہے کہ جس کا حق تَلف کیا گیا ہے ، اُس مظلوم سے مُعافی مانگ کر راضی کیا جائے۔ ‘‘ایک مرتبہ دوران ِگفتگو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے متعلقین کی ترغیب کیلئے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّ و رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فضْل و کرم سے حُقوق العباد کی ادائیگی کا خوف بچپن ہی سے میرے دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ جب میں چھوٹا اور تقریبًا ناسمجھ تھا ، یتیمی اور غربت کا دور تھا۔ حُصولِ مُعاش کے لئے بھنے ہوئے چنے اورمونگ پھلیاں چھیلنے کے لئے گھرمیں لائی جاتی تھیں۔ ایک سير چنے چھیلنے پر چار آنے ، ایک سیر مونگ پھلیاں چھیلنے پر ایک آنہ مزدوری ملتی۔ ہم سب گھر والے مل کر اُسے چھیلتے۔ میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار چند دانے منہ میں ڈال لیتا لیکن پھر پریشان ہوکر والدہ محترمہ سے عرْض کرتا : ’’ ماں! مونگ پھلی والے سے مُعاف کرالینا۔ ‘‘چنانچہ والدہ محترمہ سیٹھ سے کہتیں کہ’’بچے دو دانے منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ ‘‘ جواباً وہ کہہ دیتا : ’’کوئی بات نہیں۔ ‘‘یہ سن کر میں سوچتا کہ میں نے تودو دانے سے زیادہ کھائے ہیں مگر ماں نے تو صرف دو دانے مُعاف کروائے ہیں؟ بعد میں جب شُعور آیا تو پتا چلا کہ ’’دو دانے‘‘ مُحاورہ ہے اور اس سے مُراد تھوڑے دانے ہی ہیں اور میں کبھی تھوڑے دانے کھا لیتا تھا۔ ‘‘([2])

مدنی گلدستہ

’’بیت اللہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول

   (1)حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی حساس ہے ، کل بروز قیامت اللہ عَزَّ  وَجَلَّ جسے چاہے اپنے تمام حقوق فرمادے گا مگر بندوں کے جوحقوق تلف کیے ہیں جب تک وہ بندے معاف نہیں کریں گے تب تک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ بھی معاف نہیں فرمائے گا۔

   (2)بروز قیامت مال ودولت نہ ہوں گے لہٰذا کسی کو بدلہ دلانے کی صورت فقط یہی ہوگی کہ اس کو اتنی نیکیاں دی جائیں یا اس کے گناہ حق تلف کرنے والے کے نامہ اعمال میں ڈال



[1]   تنبیہ المغترین ،  ص۵۱۔

[2]   تعارف امیر اہلسنت ص۶۹۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن