دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ اِلَی اَہْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَاء ِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ. ([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ ‘‘

روزِقیامت جانوروں کا حشر:

مذکورہ حدیث پاک کے آخری حصے میں اس بات کا بیان ہے کہ ’’بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بروز قیامت بدلہ دلایاجائے گا۔ ‘‘اس کے تحتعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرما تے ہیں : ’’حدیث پاک  میں یہ تصریح ہے کہ قیامت کے دن جانوروں کو اسی طرح زندہ کیا جائے گا جس طرح مکلف انسا نوں کو دوبارہ زندہ کیا جا ئے گا ۔ اسی طرح بچوں ، مجنونوں اور جن لوگوں کو اسلام کی دعوت نہیں پہنچی اُن کوبھی  زندہ کیا جائے گا ۔ قرآنِ پاک اور احادیث  مبارکہ میں  اس پر دلائل قائم ہیں چنانچہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵) (پ۳۰ ،  التکویر :  ۵)

ترجمۂ کنزالایمان : اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔

علما ئےکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ قیامت کے دن جانوروں کا حشر اور دوبارہ زندہ کرنےکے لئے یہ ضروری نہیں کہ اُن کو جزا ، سزا یا ثواب دیا  جائےاور یہ جو سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کابدلہ لیا جائے گا وہ ایسا بدلہ نہیں ہے جیسا انسانوں سے لیا جائےگاکیو نکہ جانورمکلف(یعنی احکام شریعت کے پابند)نہیں  ہیں اور یہ بدلہ فقط صورتاً ہوگا۔ ([2])(بدلہ دلانے کے بعد ان کومٹی کردیا جائے گا۔ )

سب سے بڑامفلس کون۔۔۔؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے شروع میں ظلم کا بدلہ دلائے جانے کا بیان ہے کہ کسی کے حق کو تلف کرلینا یہ بھی ایک ظلم ہے اور کل بروز قیامت حق دار کو اس کا حق ظالم سے دلوایا جائے گا۔ عام طور پر لوگ حقوق العباد  یعنی بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے۔ حالانکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی سنگین ہے۔ بلکہ ایک حیثیت سے دیکھا جائے توحُقُوقُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکے حقوق سے زیادہ حقوق العبادیعنی بندوں کے حقوق سخت ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن یعنی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔ وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق معاف فرما دے گا مگر بندوں کے حقوق کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس وقت تک نہیں معاف فرمائے گا جب تک بندے اپنے حقوق خود معاف نہ کردیں۔ لہٰذا بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا معاف کرالینا بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت میں بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔    حدیث پاک میں ہے کہاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک مرتبہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے استفسارفرمایا : ’’ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی : ’’جس شخص کے پاس درہم اور دوسرے مال وسامان نہ ہوں وہی مفلس ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ میری اُمَّت میں اعلیٰ درجے کا مفلس وہ شخص ہے کہ جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کی نیکیوں کولے کر میدان حشر میں آئے گا مگر اس کا یہ حال ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، کسی کا مال کھالیا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگایا  کسی کو مارا ہوگا ، تو یہ سب لوگ اپنے اپنے حقوق اس سے طلب کریں گےاوراللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کی نیکیوں سے تمام حق داروں  کو ان کے حقوق کے برابرنیکیاں دلائے گااور اگر اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کے حقوق نہ ادا ہو سکے بلکہ نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہ گئے تو  اللہ عَزَّ  وَجَلَّحکم دے گا کہ تمام حقوق والوں کے گناہ اس کے سر پر لاد دو۔ چنانچہ سب حق داروں کے گناہوں کو یہ سر پر اٹھائے گا پھر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘([3])

دنیا میں مال سے، قیامت میں اَعمال سے بدلہ:

مُفَسِّرشہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اگر  دنیا میں تم نے لوگوں کے حقوق ادا نہ کئے تو لامحالہ (یعنی ہر صورت )قیامت میں ادا کرو گے ، دنیا میں مال سےوہاں اَعمال سے۔ ( لہٰذا) بہتر ہے کہ یہاں ہی اداکردو ورنہ پچھتاؤگے۔ ‘‘([4])

بلااجازت خلال کرنے کا وبال:

مشہور تابعی بزرگ حضرت سیدنا وہب بن منبہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے اپنےسابقہ تمام گنا ہوں سے توبہ کی ، ستر سال تک لگا تار اس



[1]   مسلم ، کتاب البر والصلۃ والاداب  ،  باب تحریم الظلم ، ص۱۳۹۴ ، حدیث : ۲۵۸۲۔

[2]   شرح مسلم ،  کتاب البر والصلۃ والاداب  ،  باب تحریم الظلم ، ۸ / ۱۳۶ ،  الجزء السادس عشر۔

[3]    مسلم  ،  کتاب البروالصلۃ  ،  باب تحریم الظلم ،  رقم ۲۵۸۱ ، ص۱۳۹۴۔

[4]   مراۃ المناجیح ، ۶ / ۶۷۳۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن