دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

مُفَسِّرِ قرآن عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  ’’اس آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ کفار کے لئے کوئی شفاعت نہیں کیونکہ یہ آیت ان کی مذمت میں وارد ہوئی ہے۔ آیت میں کفار کے بجائے ظالم کا لفظ کہا گیا اور ظالم کا لفظ عام ہے ، اس میں کافر وگناہ گار مسلمان سب شامل ہوسکتے ہیں  لیکن یہاں کافر ہی مراد ہیں اور ایسا اس لئے کیا تاکہ یہ ثابت ہو کہ حقیقی ظالم کافر ہی ہیں اور ان کے لئے مددگار اور مہربان کی نفی ہوجائے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ گناہ گار مسلمانوں کے لئے مددگار ہوں گے اور ایسے شفیع ہوں گے جن کی سفارش قبول ہوگی اور وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، تمام انبیاء و مرسلین ، اولیائے کاملین اور ملائکہ اجمعین ہیں۔ ‘‘([1])

(2)ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ(۷۱)  (پ۱۷ ،  الحج :  ۷۱)

ترجمۂ کنزالایمان : اور ستم گاروں کا کوئی مدد گار نہیں۔

مُفَسِّرِ قرآن اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :  ’’بتوں کو پوجنے والے کافروں کے لئے کوئی ایسا مددگار نہ ہوگا جو قیامت کے دِن اُن کی مدد کر سکے اور اُن سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے عذاب کو دُور کرسکے اور جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُن کی پکڑ کا اِرادہ کرے تو انہیں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پکڑ سے بچاسکے۔ ‘‘([2])

حدیث نمبر : 203                                                                                                ظُلْم اور بُخْل سے بچو

عَنْ جَابِرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ :  اِتَّقُوا الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتُ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَاِنَّ الشُّحَّ اَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَہُمْ عَلَی اَنْ سَفَکُوْا دِمَاء َہُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ. ([3])

ترجمہ : حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ظلم سے بچو !کیونکہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں سےہےاور بخل سے بچو کیونکہ بخل ہی نے تم سےپہلے  لوگوں کو ہلاک کیا اوراُنہیں اِس بات پر اُبھارا کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور محرمات (یعنی حرام کئے گئے کاموں) کو حلال سمجھیں۔ ‘‘

ظالم کے لئے قیامت کے دن اندھیراہوگا:

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ  حدیث پاک کے تحت علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن ظلم ظالم کے لئے اندھیرا ہوگا جس کے سبب ظالم ہدایت نہیں پا سکے گا جبکہ مؤمنین کا نور اُن کے آگے اور دائیں طرف دوڑتاہوگا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے  سے مراد قیامت کی آفات  ہوں جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :

قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ                                               (پ۷ ،  الانعام :  ۶۳)

ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ وہ کو ن ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے۔

یعنی جنگل اور دریا کی آفات  سےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے  سے مراد قیامت کی بیڑیاں اور جہنم کا عذاب ہو۔‘‘([4])

ظلم کی تعریف اور اُس کا وبال:

ظلم کا لغوی معنی ہے : ’’وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ یعنی  کسی بھی شے کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ ‘‘ اسی وجہ سے قرآن پاک میں شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیاگیا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی ذات ہی اس بات کی حق دار ہے کہ اس کے ساتھ عبادت میں کسی کوشریک نہ ٹھہرایا جائے ، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یعنی شرک کرنا سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیاہے۔ مگر ظلم کا غالب استعمال مخلوق پر زیادتی و شرارت میں ہوتا ہے۔ ظلم کا لفظ گناہوں کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اسی وجہ سےحدیث میں لفظ ’’ظلم‘‘ کے بعد  اگلے جملے میں لفظ ’’ظلمات‘‘ جمع آیا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ ایک ظلم بھی قیامت کے دن بہت سی تہہ بہ تہہ ہولناک تا ریکیوں اور شدتوں کا سبب بنے گا۔ بخل اورکنجوسی سے بچنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ بھی ظلم کی اقسام اور اس کی شدید ترین انواع میں سے ہیں کیونکہ حُبِ دنیا اور نفسانی شہوات کا نتیجہ یہی ظلم ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے یعنی گناہ کے کام اور خطا ئیں انہیں حلال ٹھرانے کا سبب بھی یہی بخل ہے ، یہی بخل خونریزی اور حرام کو حلال کرنے کا باعث بناجبکہ اس کی ضد یعنی راہ خدا میں مال خرچ کرنا



[1]   روح البیان ،  پ۲۴ ،  المؤمن  ،  تحت الایۃ : ۱۸ ،  ۸ / ۱۷۰۔

[2]   تفسیر طبری ،  پ۱۷ ،  الحج  ،  تحت الایۃ : ۷۱ ،  ۹ / ۱۸۸۔

[3]    مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب  ،  باب تحریم الظلم ، ص۱۳۹۴ ، حدیث : ۲۵۷۸۔

[4]   شرح مسلم للنووی ، کتاب  البرو الصلۃ والاداب ،  باب تحریم الظلم  ،  ۸ /  ۱۳۴ ،  الجزء السادس عشر ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن