30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّرِ قرآن عَلَّامَہ اِسْمَاعِیْل حَقِّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں اس بات کا بیان ہے کہ کفار کے لئے کوئی شفاعت نہیں کیونکہ یہ آیت ان کی مذمت میں وارد ہوئی ہے۔ آیت میں کفار کے بجائے ظالم کا لفظ کہا گیا اور ظالم کا لفظ عام ہے ، اس میں کافر وگناہ گار مسلمان سب شامل ہوسکتے ہیں لیکن یہاں کافر ہی مراد ہیں اور ایسا اس لئے کیا تاکہ یہ ثابت ہو کہ حقیقی ظالم کافر ہی ہیں اور ان کے لئے مددگار اور مہربان کی نفی ہوجائے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ گناہ گار مسلمانوں کے لئے مددگار ہوں گے اور ایسے شفیع ہوں گے جن کی سفارش قبول ہوگی اور وہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، تمام انبیاء و مرسلین ، اولیائے کاملین اور ملائکہ اجمعین ہیں۔ ‘‘([1])
(2)ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ(۷۱) (پ۱۷ ، الحج : ۷۱)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ستم گاروں کا کوئی مدد گار نہیں۔
مُفَسِّرِ قرآن اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیاِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’بتوں کو پوجنے والے کافروں کے لئے کوئی ایسا مددگار نہ ہوگا جو قیامت کے دِن اُن کی مدد کر سکے اور اُن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عذاب کو دُور کرسکے اور جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ اُن کی پکڑ کا اِرادہ کرے تو انہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پکڑ سے بچاسکے۔ ‘‘([2])
حدیث نمبر : 203 ظُلْم اور بُخْل سے بچو
عَنْ جَابِرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اِتَّقُوا الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتُ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَاِنَّ الشُّحَّ اَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَہُمْ عَلَی اَنْ سَفَکُوْا دِمَاء َہُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ. ([3])
ترجمہ : حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ظلم سے بچو !کیونکہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں سےہےاور بخل سے بچو کیونکہ بخل ہی نے تم سےپہلے لوگوں کو ہلاک کیا اوراُنہیں اِس بات پر اُبھارا کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور محرمات (یعنی حرام کئے گئے کاموں) کو حلال سمجھیں۔ ‘‘
ظالم کے لئے قیامت کے دن اندھیراہوگا:
عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’قیامت کے دن ظلم ظالم کے لئے اندھیرا ہوگا جس کے سبب ظالم ہدایت نہیں پا سکے گا جبکہ مؤمنین کا نور اُن کے آگے اور دائیں طرف دوڑتاہوگا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے سے مراد قیامت کی آفات ہوں جیسا کہ قرآنِ مجید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے :
قُلْ مَنْ یُّنَجِّیْكُمْ مِّنْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (پ۷ ، الانعام : ۶۳)
ترجمۂ کنزالایمان : تم فرماؤ وہ کو ن ہے جو تمہیں نجات دیتا ہے جنگل اور دریا کی آفتوں سے۔
یعنی جنگل اور دریا کی آفات سےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اندھیرے سے مراد قیامت کی بیڑیاں اور جہنم کا عذاب ہو۔‘‘([4])
ظلم کا لغوی معنی ہے : ’’وَضْعُ الشَّیْءِ فِیْ غَیْرِ مَحَلِّہٖ یعنی کسی بھی شے کو غیر محل میں رکھنا ظلم کہلاتا ہے۔ ‘‘ اسی وجہ سے قرآن پاک میں شرک کو سب سے بڑا ظلم قرار دیاگیا ہے کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات ہی اس بات کی حق دار ہے کہ اس کے ساتھ عبادت میں کسی کوشریک نہ ٹھہرایا جائے ، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا یعنی شرک کرنا سب سے بڑا ظلم قرار دیا گیاہے۔ مگر ظلم کا غالب استعمال مخلوق پر زیادتی و شرارت میں ہوتا ہے۔ ظلم کا لفظ گناہوں کی تمام اقسام کو شامل ہے۔ اسی وجہ سےحدیث میں لفظ ’’ظلم‘‘ کے بعد اگلے جملے میں لفظ ’’ظلمات‘‘ جمع آیا ہے۔ یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ ایک ظلم بھی قیامت کے دن بہت سی تہہ بہ تہہ ہولناک تا ریکیوں اور شدتوں کا سبب بنے گا۔ بخل اورکنجوسی سے بچنا اس لئے ضروری ہے کہ یہ بھی ظلم کی اقسام اور اس کی شدید ترین انواع میں سے ہیں کیونکہ حُبِ دنیا اور نفسانی شہوات کا نتیجہ یہی ظلم ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے جن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے یعنی گناہ کے کام اور خطا ئیں انہیں حلال ٹھرانے کا سبب بھی یہی بخل ہے ، یہی بخل خونریزی اور حرام کو حلال کرنے کا باعث بناجبکہ اس کی ضد یعنی راہ خدا میں مال خرچ کرنا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع