بنی اسرائیل کا حرام کاموں کو حلال ٹھہرانا
دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

آگ کے عذاب کی خوشخبری دو۔ ‘‘([1])جنگ جمل سن ۳۶ ہجری میں حضرت سیدنا طلحہ بن عُبَیْدُاللہ ، حضرت سیدنا زبیر بن عوام ، اُمُّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا  کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمکے مابین واقع ہوئی ، اِن کے درمیان جو اختلاف واقع ہوا وہ حضرت عثمانِ غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے قصاص  کے سبب تھا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضی شیرخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماس معاملے میں حق پر تھے جبکہ دیگر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اجتہادی خطا پر تھے۔ اور مجتہد سے اجتہاد کرتے ہوئے اگر خطا واقع ہو تو اسے اس پر بھی ثواب دیا جاتا ہے۔ لہذا یہ تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ماجور ہوئے۔ اس لیے صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے درمیان رونما ہونے والے اختلافات کے بارے میں خاموش رہنا واجب ہے کیونکہ اہل سنت کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرا م رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ عادل ہیں اور ان کے درمیان جو اختلاف ہوا اسے اجتہاد پر محمول کیا جائے۔ لہذا ان جنگوں کے سبب صحابہ کرام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ پر طعن کرنا اور انہیں سب و شتم کرنا حرام ہے۔ ([2])

مدنی گلدستہ

’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

(1)   قرض اور امانت کی ادائیگی کی اسلام میں بہت اہمیت ہے ، حتی کہ جلیل القدر صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بھی قرض اور امانت کے معاملے میں بہت احتیاط فرمایا کرتےتھے۔

(2)   صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اپنے دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ بہت خیر خواہی فرمایا کرتے تھے۔

(3)   اپنے مسلمان بھائیوں کو ساتھ ایسا معاملہ کرنا جس میں ان کا فائدہ ہو یہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت مبارکہ ہے۔

(4)   موت کا کوئی بھروسہ نہیں کسی بھی وقت آسکتی ہے لہذا اگر ہم پر کسی کا قرض ہو یا کسی کی امانت ہو تو اس کی ادائیگی کی وصیت کردینی چاہیے تاکہ وصال کے بعد ورثاء اس کی ادائیگی کردیں۔

(5)   حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قطعی جنتی صحابی تھے کہ خود رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں جنت کی خوشخبری عطا فرمائی تھی مگر اس کے باوجود قرض اور امانت کے معاملے میں بہت محتاط تھے ، ہمیں بھی چاہیے کہ ان کی سیرت طیبہ پر عمل کرتے ہوئے قرض اور امانت وغیرہ حقوق العباد کے معاملے میں احتیاط سے کام لیں۔

اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں بھی صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان جیسا خیر خواہی کا عظیم جذبہ عطا فرمائے ، قرض اور امانت کے معاملے میں احتیاط کرنے کی توفیق عطافرمائے ، اگر ہم مقروض ہیں یا کسی کی امانت ہمارے پاس ہے تو اس کی جلد از جلد ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔                              آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

با ب نمبر : 26                                                                                               ظُلم کی حُرمَت کا بیان

ظُلم کی حُرمَت اور ظُلماً لی ہوئی اَشیاء کو واپس کرنے کاباب

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ظلم ایک ایسا قبیح یعنی بُرا کام ہے کہ جسے اِنسانی عقل وفِطرت قطعاً قبول نہیں کرتی۔ اِس کی بُرائی کا اندازہ اِس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دنیا کا کوئی ملک ، کوئی صوبہ ، کوئی شہر ، کوئی علاقہ بلکہ دنیا میں رہنے والا کوئی بھی شخص اِسے پسند نہیں کرتا۔ ہرشخص ظلم کو قابل نفرت ہی سمجھتا ہے ، بلکہ اگر ظالم سے بھی ظلم کے بارے میں رائے لی جائے توشاید وہ بھی اس کی مذمت ہی کرے گا اگرچہ وہ خود اس میں ملوث ہے۔ ظلم کی مذمت اور ظلم کے خلاف جتنا شعور اِسلام نے پیدا کیا اتنا کسی اور نے نہیں کیا۔ یہ ظلم ہی تو ہے کہ جس سے ہرفرد ، ہرگھر ، ہرمعاشرہ ، ہر ملک آتش داں بن جاتا ہے ، ظلم سے حق و صداقت ، امانت ودیانت کی عمارت مسمار ہوجاتی ہے ، امن و سکون کی فضاء غبار آلود ہوجاتی ہے ۔ وحشت وبربریت کی سیاہ بدلیاں چھاجاتی ہیں ، ہنستے مسکراتے چہرے ظلم و زیادتی کی وجہ سے مُرجھاجاتے ہیں ۔ بہرحال ظلم کسی طرح بھی قابل تعریف نہیں ، کسی صورت بھی جائز نہیں۔ ریاض الصّالحین کایہ باب بھی ظلم کی حرمت  اور ظلماً لی ہوئی اشیاء کو واپس کرنے کے بارے میں ہے۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس باب میں 2آیات اور 19اَحادیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہیں۔ پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔

(1)ظالم کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے :

مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ حَمِیْمٍ وَّ لَا شَفِیْعٍ یُّطَاعُؕ(۱۸) (پ۲۴ ،  المؤمن :  ۱۸)

ترجمۂ کنزالایمان : ظالموں کا نہ کوئی دوست نہ کوئی سفارشی جس کا کہا مانا جائے۔

 



[1]    عمدۃ القاری ،  کتاب الخمس ،  باب برکۃ الغازی فی مالہ حیا و میتا ،  ۱۰ / ۴۶۳ ، تحت الحدیث : ۳۱۲۹ ۔

[2]   نبراس شرح شرح عقائد ،  ص۳۲۹ ،  الیواقیت والجواھر ،  ص۳۳۳ ، دس عقیدے ، ص۱۳۵۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن