دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

دو‘‘اسی لئے انہوں نے  کہا تھا کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا۔ ([1])

مسلمانوں کی خیر خواہی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں مسلمانوں کی خیر خواہی کا کس قدر جذبہ ہوا کرتا تھا وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کے فائدے اور نقصان کے بارے میں کس قدر سوچتے تھےاور پھر وہ کام کرتے جس میں دوسرے مسلمان کا فائدہ ہو جیسا کہ مذکورہ حدیث میں حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ لوگوں سے امانت لیتے وقت کہہ دیتے کہ یہ مجھ پر قرض ہے ۔ چنانچہ علامہ عینی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : حضرتِ سَیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر اتنا قرض ہونے کی وجہ یہ تھی  کہ جب لوگ آپ کے پاس امانت رکھوانے آتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اُن سے کہتے کہ یہ میرے پاس امانت نہیں بلکہ قرض ہے ، وہ ایسا اس لئے کرتے تھے کہ اگر مال ضائع ہوگیا تو لوگ یہ گمان کریں گے کہ انہوں نےاس کی حفاظت میں کوتاہی کی ہے(کیونکہ امانت اگر ضائع ہوجائے تو مالک مطالبہ نہیں کرسکتا)اور اگر مال بطورِ قرض رکھا ہو تو ضائع ہونے  کی صورت میں بھی  واجب الادا( مالک کو اتنا مال دینا لازم) ہوگا  اور یہ صاحبِ مال کے لئے زیادہ محفوظ ہے۔ ‘‘([2])

قرض کےمعاملے میں احتیاط:

صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان امانت اور قرض کے معاملے میں کس قدر احتیاط فرمایا کرتے تھےکہ جب حضرتِ سَیِّدُنازبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یوم جمل اپنی شہادت کا گمان ہوا تو انہوں نے اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو اپنے قرض کے بارے میں وصیت کی کہ تم سب سے پہلے میرے مال سے میرا قرض ادا کردینا۔ چنانچہ مذکورہ حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں بھی چاہیے کہ جس کا قرض یا امانت  ہو جلد از جلد اسے ادا کر دیں اور اگر ابھی مال نہ ہو تو اس قرض اور امانت کے بارے میں اپنے ورثاء کو بتا دیں کہ مجھ پر اتنا اتنا اور فلاں فلاں کا قرض یا امانت ہے وہ ادا کردینا کیونکہ موت کا کیا معلوم کب کس وقت آجائے اور ہم قرض کا بار اپنے ساتھ لے کر اس دنیا سے چلے جائیں ۔

حضرت سیدنا زبیر بن عوام کی مختصر حیاتِ طیبہ:

حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پھوپھی حضرت سیدتنا صفیہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے فرزند ہیں ، اس لیے یہ رشتے میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پھوپھی زاد بھائی ، حضرت سیدنا خدیجہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے بھتیجے ، حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے دامادہیں۔ سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عشرہ مبشرہ یعنی ان دس خوش نصیب صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے ہیں جن کو حضور نبی رحمت شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جنتی ہونے کی خوشخبری عطا فرمائی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی آنکھیں نیلی ، شانے قدرے جھکے ہوئے ، بال خوب گھنے ، رخسار اور ریش مبارک ہلکی اور پتلی ، رنگت گندمی اور قد طویل تھا۔ سب سے پہلے سرکار نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی حفاظت وحمایت میں تلوار اٹھانے کی سعادت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی کو حاصل ہوئی ، حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سب سے کم سن مہاجر تھے ، نہایت ہی بہادر تھے ، کئی جنگوں میں اپنی بہادری کے جوہر دکھائے ، غزوۂ خیبر کے موقع پر ایک دیوہیکل یہودی پہلوان کو واصل جہنم کیا۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے کانوں سے حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا کہ ’’طلحہ اور زبیر جنت میں میرے پڑوسی ہوں گے۔ ‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یہ بھی سعادت حاصل ہوئی کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کے لیے ارشاد فرمایا : ’’فِدَاکَ اَبِیْ وَاُمِّیْ یعنی اے زبیر! تم پر میرے ماں باپ قربان۔ ‘‘ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ارشاد فرماتے ہیں : ’’اگر میں کسی سے کوئی عہد کرتا یا اپنا مال واسباب چھوڑتا تو زبیر بن عوام کو ان کا حق دار بتانا کیونکہ وہ دین کا ایک ستون ہیں۔ ‘‘معاشی حوالے سے انتہائی دیانتدار اور کامیاب تاجر تھے ، مگر سخی ایسے تھے کہ بسااوقات اپنا سارا مال راہِ خدا میں صدقہ کردیا کرتے تھے ، رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ کو اپنا حواری ارشاد فرمایا۔ الغرض آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ذاتِ مبارکہ کئی خصوصیات ومبارک اَوصاف کی حامل ہے۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سیرتِ طیبہ کی مزید تفصیل کے لیے دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ 72صفحات پر مشتمل رسالہ’’حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔

حضرت سیدنازبیر بن عوام کی شہادت:

حضرتِ سَیِّدُنا زبیربن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کے بارے میں مختلف اقوال ہیں ۔ مشہور قول یہ ہے کہ حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ وادی سباع میں سورہے تھے وہاں عَمرو بن جرموز پہنچ گیا اس نے آپ کو سوتے میں شہید کردیا اور آپ کا سر لے کر امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا علی  المرتضیٰ شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی بارگاہ میں پہنچ گیا ۔ حضرت سیدنا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو بتایا گیا کہ ابنِ جرموز حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا سر لے کر آیا ہے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’حضرت  زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے قاتل کو



[1]    شرح بخاری لابن بطال ،  کتاب فرض الخمس ،  باب برکۃ الغازی فی مالہ حیا ومیتا۔ ۔ ۔  الخ ،   ۵ / ۲۹۰۔

[2]    عمدۃ القاری ،  کتاب الخمس ،  باب برکۃ الغازی فی مالہ حیا و میتا ،  ۱۰ / ۴۶۶ ، تحت الحدیث : ۳۱۲۹ ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن