دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

کبھی ٹیکس کی وصولی پر مامور ہوئے ، نہ کبھی کسی عہدہ پر فائز ہوئے ، البتہ غزوات میں رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا حضرت ابو بکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے ساتھ شریک ہوئے۔ میں  نے حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جو قرض تھا اس کا حساب لگایا تووہ بائیس ۲۲ لاکھ درہم تھا۔ حضرت حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ مجھ سے ملے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا : اے میرے بھتیجے! میرے بھائی (حضرت زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ)پر کتنا قرض ہے؟ تو میں نےان سےچھپاتے ہوئے سارا قرض بیان نہ کیا بلکہ فقط ایک لاکھ بیان کیا تو وہ فرمانے لگے : ’’ خدا کی قسم تمہارے پاس اتنا مال نہیں کہ جو اُن کا قرض اتار سکے۔ ‘‘ سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواباً عرض کیا : ’’اگر سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر ۲۲بائیس لاکھ قرض ہو تو آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ سیدنا حکیم بن حزام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’میں نہیں سمجھتا کہ تم اس قرض کو اتارنے کی طاقت رکھتے ہولہٰذا  اگر تم قرض نہ اتار سکو تو مجھ سے مدد طلب کرنا۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر  ہزار میں خریدی تھی۔ اسے حضرت سَیِّدُنَا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے سولہ لاکھ میں فروخت کیاپھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ’’سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ پر جس کا بھی قرض ہے وہ ہم سے غابہ میں آکر لے لے۔ ‘‘ ان کے پاس حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ آئے ، حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر ان کا چار لاکھ قرض تھا ، انہوں نے حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں اس قرض کو معاف کر دیتا ہوں ۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا : ’’ نہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا : ’’اگر تم چاہو تو میں تمہیں مہلت دے دیتا ہوں ۔ ‘‘ کہا : ’’نہیں۔ ‘‘ تو انہوں نے پھر کہا : ’’مجھے (زمین کا)ایک حصہ دے دو۔ ‘‘حضرت سیدنا ابنِ زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے  کہا : ’’یہاں سے لیکر یہاں تک  تمہارا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےمکانات  اور غابہ کی زمین میں سے کچھ فروخت کرکے اپنے والد کا سارا قرضہ اتار دیا۔ اب غابہ کی زمین کے ساڑھے چار حصے باقی تھےچنانچہ وہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آئے ، اس وقت ان کے پاس عَمرو بن عثمان ، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ بیٹھے ہوئے تھے۔ سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے پوچھا : ’’غابہ کی کیا قیمت طے ہوئی ہے؟‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے جواب دیا : ’’ہر حصہ ایک لاکھ کا ہے۔ ‘‘سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پوچھا : ’’کتنے حصے باقی ہیں؟‘‘ کہا : ’’ساڑھے چار حصے۔ ‘‘منذر بن زبیر نے کہا : ’’میں نے ایک حصہ ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘عَمرو بن عثمان نے کہا : ’’میں نےبھی ایک حصہ ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘ پھر حضرت سیدنا ابنِ زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے کہا : ’’ایک حصہ میں نے بھی ایک لاکھ میں خریدا۔ ‘‘پھر حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے پوچھا : ’’اب کتنا حصہ باقی رہ گیا ہے؟‘‘ کہا : ’’ڈیڑھ حصہ۔ ‘‘فرمایا : ’’میں نے وہ ڈیڑھ لاکھ میں خریدا۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنا حصہ حضرت سیدنا معاویہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا۔

جب حضرت سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قرض کی ادائیگی سے فارغ ہوگئے توحضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی اولاد نے ان سے کہا : ’’اب ہماری میراث ہم میں تقسیم کرو۔ ‘‘ حضرت سیدنا عبداللہ نے کہا : ’’میں ہر گز تمہیں تقسیم نہیں کروں گا جب تک کہ چار سال تک حج کے ایام میں یہ اعلان نہ کروں کہ جس کا بھی حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُپر قرض ہے وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے دیں گے۔ ‘‘ پھر حضرت سیدنا عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہر سال حج کے ایام میں یہی اعلان کرتے ، جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مال اُن کے ورثاء میں تقسیم کردیا ۔ حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی چار اَزواج تھیں(قرضہ ادا کرنے کے بعداور)ایک تہائی علیحدہ کرنے کے بعد ہر زوجہ کو 12لاکھ ملے ، یوں حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا کل تَرکہ 52لاکھ ہوا۔

علامہ نووی اس حدیث کوامانت کے باب  میں لے کر آئے کیونکہ اس میں امانت کی حفاظت کا ذکر ہے کہ حضرتِ سَیِّدُنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس لوگ امانت رکھواتے تھے تو آپ اس مال کی حفاظت کی غرض سے اس مال کو بطورِ قرض لیتے تھے۔

ظالم و مظلوم سے کیا مرادہے؟

حدیث پاک میں ہے کہ حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’ آج کے دن ظالم یا مظلوم قتل ہوگا ۔ ‘‘اس کی وضاحت کرتے ہوئے عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ ذیالْجَلَال فرماتے ہیں : ’’اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے مخالف کے نزدیک ظالم ہے اوراپنے نزدیک مظلوم  اگر قتل کردیا جائے۔ حضرت سیدنا زبیر بن عوام رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی مراد یہ ہےکہ  صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا  آپس میں قتال کرنا باغیوں اور تعصب پرستوں کے قتال کی طرح نہیں جس میں قاتل و مقتول دونوں ظالم ہوتے ہیں جیسا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمان ہے کہ “ جب دو مسلمان تلوار لے کر لڑیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں۔ “ کیونکہ ان میں سے کسی کے پاس کوئی ایسی تاویل نہیں ہوتی جو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ہاں عذر بن سکےلہذا ان میں کوئی بھی مظلوم نہیں دونوں ظالم ہیں۔ حضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے بیٹے سیدنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرمایا : ’’ میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا۔ ‘‘ کیونکہ انہوں نے جنگ کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا اسی لئے جب دونوں لشکر آپس میں ملے تو وہ وہاں سے لوٹ گئے ، پس ابن جرموز نے ان کا پیچھا کیا اور راستے میں انہیں بغیر کسی قتال کے شہید کردیا۔ ممکن ہےکہ حضرت زبیر نے نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ قول سن لیا ہو کہ’’صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنم کی خوشخبری

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن