دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

حدیث نمبر : 179                                                                                                                                             چھوٹے بچے کا حج

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ اَ نَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِيَ رَكْبًا بِالرَّوْحَاءِ فَقَالَ مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالُوا الْمُسْلِمُونَ. فَقَالُوا مَنْ اَنْتَ ؟ قَالَ :  رَسُولُ اللَّهِ. فَرَفَعَتْ اِلَيْهِ امْرَاَةٌ صَبِيًّا فَقَالَتْ :  اَلِهٰذَا حَجٌّ ؟ قَالَ :  نَعَمْ وَلَكِ اَجْرٌ .‘‘([1])

ترجمہ : حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممقامِ رَوْحَاءپر ایک قوم سے ملےتو دریافت فرمایا : ’’تم کون ہو؟‘‘ ان لوگوں نے عرض کی : ’’ہم مسلمان ہیں۔ ‘‘ پھر ان لوگوں نے پوچھا : ’’آپ کون ہیں؟‘‘ تو  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا رسول ہوں۔ ‘‘ تو ایک عورت نے اپنے چھوٹے بچے کو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف بلند کرتے ہوئے عرض کی : ’’کیا اس کا حج ہو سکتا ہے؟‘‘ فرمایا : ’’ہاں ، اور تیرے لئے اجر ہے۔ ‘‘

مسلمانوں کا رسولُ اللہ کو نہ پہچاننے کی وجہ:

مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ مسلمانوں کے اس قافلے نے شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پہچانا۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے علامہ یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیعلامہ قاضی عیاضرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ممکن ہے یہ ملاقات رات میں ہوئی ہو جس کی وجہ سے وہ لوگ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نہ پہچان سکے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ  یہ ملاقات دن میں ہوئی ہو لیکن ان لوگوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو پہلے کبھی نہ دیکھا ہو کیونکہ انہوں نے ہجرت نہیں کی تھی اور وہ لوگ اپنے شہر میں ہی  اسلام لائے تھے۔ ‘‘([2])

نابالغ بچے کے حج کا حکم:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ حج کی شرائط میں سے ایک شرط عاقل ہونا بھی ہے ، اسی وجہ سے نابالغ بچے پر حج فرض نہیں ، یہی وجہ ہے کہ اس خاتون نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے یہ نہ پوچھا کہ ’’یارسولَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا اس بچے پر حج فرض ہے۔ ‘‘نابالغی کی حالت میں کیا ہوا حج نفلی حج کہلائے گا اور بالغ ہونے کے بعد اگر حج کی شرائط پائی گئیں تو حج فرض ہوگا۔ ([3])

حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کو حج کروانے والے کو بھی اس کا اجر وثواب ملے گا۔ وہ اجر  بچے کو حج کی تعلیم دینے کی وجہ سے ہے یا اگر بچہ سمجھدار ہے تو اسے حج کے ارکان سکھانے کی وجہ سے ہے اور اگر بچہ ناسمجھ ہے تو اس کی طرف سےاحرام باندھنے ، رمی کرنے ، وقوف کرنے اور سعی و طواف میں اسے اٹھانے کی وجہ سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے نابالغ بچوں کی تعلیم وتربیت کے حوالے سے اس بات کو بیان فرمایا ہے کہ انہیں نماز روزہ وغیرہ نیک اَعمال کا پابند بنانا چاہیے۔ ([4])

مدنی گلدستہ

’’غوث‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول

(1 )      حج اِسلام کا ایک اہم رُکن ہے ، اور یہ ہرعاقل بالغ صاحِبِ اِستطاعت مسلمان پر زندگی میں ایک بار فرض ہے۔

(2 )      نابالغ بچوں کا حج نفلی حج ہے ، اگر بالغ ہونے کے بعد حج کے فرض ہونے کی شرائط پائی گئیں تو حج فرض ہوگا ، اگرچہ نابالغی کی حالت میں کتنے ہی حج ادا کرچکا ہو۔

(3 )      نابالغ اولاد کے نیک اعمال کا ثواب اُن کے والدین یا جو بھی اُن کو کروائے اُسے بھی ملتا ہے لہذا اپنے بچوں کو نماز ، روزہ وغیرہ نیک اَعمال کا پابند بنانا چاہیے۔

اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہم سب کو حج کی سعادت نصیب فرمائے ، میٹھا مدینہ دیکھنا نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم 

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

حدیث نمبر : 180                                                                                             خزانچی کے لئے صدقے کا ثواب

عَنْ اَبِي مُوْسَى اَلْاَشْعَرِیِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّہ ُ قَالَ :  الْخَازِنُ الْمُسْلِمُ الْاَمِيْنُ الَّذِي يُنْفِذُ مَا اُمِرَ بِهِ فَيُعْطِيْهِ كَامِلًا مُوَفَّرًاطَيِّبَةً بِهِ نَفْسُهُ فَيَدْفَعُهُ اِلَى الَّذِي اُمِرَ لَهُ بِهِ اَحَدُ الْمُتَصَدِّقِيْنِ. ([5])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابوموسیٰ اَشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’وہ امانتدارمسلمان



[1]   مسلم ، کتاب الحج ،  باب صحۃ حج الصبی واجر من حج بہ  ، ص۶۹۷ ، حدیث : ۱۳۳۶۔

[2]   شرح مسلم للنووی ، کتاب  الحج ،  باب صحة حج الصبي وأجر من حج به ،  ۵ / ۹۹ ،  الجزء التاسع ۔

[3]   شرح الطیبی ،  کتاب المناسک ،  الفصل الاول ،  ۵ / ۲۴۴ ،  تحت الحدیث : ۲۵۱۰ ،  بہار شریعت ، ۱ / ۱۰۳۷ ، حصہ ۶۔

[4]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب المناسک ،  الفصل الاول ،  ۵ / ۳۸۴ ،  تحت الحدیث : ۲۵۱۰ ،  مرآۃ المناجیح ، ۴ / ۸۸۔

[5]   بخاری ، کتاب الزکاۃ ،  باب اجر الخادم اذا تصدق بامر صاحبہ غیر مفسد ، ۱ /  ۴۸۴ ، حدیث : ۱۴۳۸۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن