30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’امانت اور رحم کو پل صراط پر بھیجا جائے گا ۔ ‘‘ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’امانت اور رحم کے عظیم ہونے اور دنیا میں اُن کے کثرت سے وقوع پذیر ہونے کی وجہ سے اُن کو پل صراط پر بھیجا جائے گا۔ یہ دونوں اِنسانی شکل میں آئیں گے جیسا اللہ عَزَّ وَجَلَّ چاہے گا اور اس کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ دونوں پل صراط کے کناروں پر کھڑے ہوں گےتاکہ ہر گزرنے والے سے اپنا حق طلب کریں پس جس نے ان کا حق ادا کیا ہوگا یہ پل صراط سے گزرنے میں اس کی مدد کریں گے اور جس نے ان کا حق ادا نہ کیا ہوگا تو یہ اُسے چھوڑ دیں گے یعنی اُس کی مدد نہیں کریں گے۔ ‘‘([1])
پل صراط سے بجلی کی طرح گزرنے والے:
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے حضور نبی اکرم ، نورِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پوچھاکہ ’’بجلی کی طرح کوئی چیز کیسے گزر سکتی ہے؟‘‘ تو فرمایا : ’’ کیا تم نے بجلی کو نہیں دیکھا وہ کس طرح گزرتی ہے ؟‘‘یعنی تیزی سے اور پلک جھپکنے سے پہلے لوٹ آتی ہے۔ اس کے تحت عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’میرے نزدیک یہ تشبیہ صرف گزرنے سے نہیں بلکہ تیزی سے گزرنے اور روشنی کے ظاہر ہونے سے ہےتاکہ یہ نُوْرٌ عَلٰی نُوْر ہوجائے اور اس سے بدن اور روح ، ظاہر وباطن اور کمیت و کیفیت کی طرف اِشارہ ہوجائے۔ جس طرح سائل کے سوال میں گزرنے کا ذکر ہے تو ضروری تھا کہ جواب میں کچھ زائد بیان کیا جائے۔ ظاہر یہ ہے کہ اس سے مراد انبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں (یعنی وہ بجلی کی سی تیزی سے گزر جائیں گے) اور ایک احتمال یہ بھی ہے کہ اس سے مراد اِس اُمُّت کے صوفیاء ہیں۔ ‘‘([2])
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جب لوگ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوکرآپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے فریاد کریں گے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم عرش کے نیچے کھڑے ہوں گے اور سجدے میں گر جائیں گے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر حمد کے ایسے دروازے کھولے جائیں گے جو اس سے پہلے آپ پر نہیں کھولے گئے ، جس کے ذریعے آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد بیان کریں گے۔ پھر آپ عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام کو شفاعت کی اجازت دی جائے گی۔ ‘‘([3])
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’حضور کو کلام کرنے عرض و معروض پیش کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ شفاعت کی اجازت تو اَزل سے دی جا چکی ، یہ سہرا اُن کے سر پر باندھا جاچکا ۔ آپ کا لقب شَفِیْعُ الْمُذْنِبِیْن(گناہگاروں کی شفاعت فرمانے والے) ہوچکا ہے ، اعلیٰ حضرت(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے فرمایا :
جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا بندھا
اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام
شفاعت کبریٰ حضور(صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) ہی کریں گے۔ دروازہ شفاعت کھل جانے کے بعد پھر دوسرے لوگ دوسری چیزیں شفاعت صغریٰ کریں گی۔ ‘‘([4])
پل صراط سے گزرنے والوں کی رفتار میں فرق کیوں؟
حدیث پاک میں ہے کہ’’ قیامت کے دن کچھ لوگ پل صراط سے بجلی کی تیزی سے گزر جائیں گے جبکہ کچھ لوگ پرندوں کی رفتار کی طرح اور کچھ اپنے گھٹنوں کے بل گزریں گے۔ ‘‘ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ ان کی رفتاروں میں یہ فرق ان کے نیک اعمال اور اخلاص کے فرق کی وجہ سے ہوگا۔ جیسا عمل جیسا اخلاص ، ویسی وہاں کی رفتار ، یہاں اشعۃ اللمعات نے فرمایا کہ اعمال سببِ رفتار ہیں اورحضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نگاہِ کرم اصلی وجہ رفتار کی ہے جتنا کہ حضور سے قُرب زیادہ اتنی رفتار تیز ۔ (نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پل صراط پر کھڑے دعا فرما رہے ہوں گے : اے رب سلامتی کے ساتھ گزار) ظاہر یہ ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پل طراط کے اس محشر والے کنارہ پر قیام فرما ہوں گے۔ اپنے گرتوں کو سنبھالتے ہوں گے( حتی کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے) یعنی آخر میں وہ لوگ آئیں گے جن کو اعمال چلا نہ سکیں گے ، یا تو ان کے پاس اعمال نیک ہوں گے ہی نہیں یا ان میں اِخلاص وغیرہ نہ ہوگا۔ عمل میں قوتِ پرواز اِخلاص سے ہوتی ہے۔ (اور پل صراط پر جو لوہے کےآنکڑے لٹکے ہوئے ہونگے)اس طرح کہ جنہیں زخمی کردینے کا حکم ہے انہیں زخمی کرکے چھوڑ دیں گے اورجنہیں دوزخ میں گرانے کا حکم ہے انہیں چھید کرگرادیں گے۔ خدا کی پناہ (جہنم کی گہرائی ستر سال کی مسافت کے برابر ہے) لہٰذا جو دوزخ میں گرایا جائے گا وہ ستر سال میں اپنے ٹھکانے پر پہنچے گا۔ ‘‘([5])
[1] شرح الطیبی ، کتاب احوال القیامۃ ، باب الحوض والشفاعۃ ، ۱۰ / ۲۴۵ ، تحت الحدیث : ۵۶۰۸ ۔
[2] مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الفتن ، ۹ / ۵۷۳ ، تحت الحدیث : ۵۶۰۸ ۔
[3] دلیل الفالحین ، باب فی الامر باداء الامانۃ ، ۱ / ۵۰۱ ، تحت الحدیث : ۲۰۲ ۔
[4] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۴۷۳ملتقطاً۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۷ / ۴۷۴ ملتقطاً۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع