دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

جائے گا اور تمہارے نبی (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) پل صراط پر کھڑے دعا کر رہے ہوں گے : اے ربّ سلامتی کے ساتھ گزار ، حتی کہ بندوں کے اعمال انہیں عاجز کردیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں کے بل چلتا ہوا گزرے گا۔ پل صراط کے دونوں کناروں پر لوہے کے آنکڑے(ہُک) لٹکے ہوئے ہوں گے اور وہ اس کو پکڑ لیں گے جسے پکڑنے کا حکم ہوگا پس کچھ لوگ زخمی حالت میں نجات پاجائیں گے اور کچھ آگ میں ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں : )’’ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں ابو ہریرہ کی جان ہے! بے شک جہنم کی گہرائی ستر سال کی مَسافت کے برابر ہے۔ ‘‘

روزِ قیامت رسولُ اللہ کی شانِ محبوبی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ بالا حدیث پاک میں حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کل بروزِ قیامت ظاہر ہونے والی شانِ محبوبی کا پاکیزہ اور روشن بیان ہے ، کل بروزِ قیامت جب نفسا نفسی کا عالم ہوگا ، جب تمام انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام بھی جواب دے دیں تو فقط آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی مشکل میں مدد فرمائیں گے ، کل بروز قیامت اپنے بیگانے سب اس شان محبوبی کو دیکھ لیں گے۔ چنانچہ اعلی حضرت ، عظیم البرکت ، عظیم المرتبت ، مجدددین وملت ، پروانہ شمع رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰن ، فتاوی رضویہ ، جلد۳۰ ، صفحہ ۱۷۰ پر فرماتے ہیں : ’’اس دن (سیدنا)آدم صَفِیُّ اللہ (عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام)سے (سیدنا)عیسٰی کلمۃ اللہ(عَلَیْہِ السَّلَام)تک سب انبیاء اللہ عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نَفْسِی نَفْسِی فرمائیں گے اورحضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم اَنَا لَھَا اَنَا لَھَا میں ہوں شفاعت کےلیے ، میں ہوں شفاعت کے لیے ۔ انبیاء ومرسلین وملائکہ مقربین سب ساکت ہوں گے اوروہ متکلم ، سب سربگریبان ،  وہ ساجد وقائم ، سب محل خوف میں ، وہ آمن وناہم ، سب اپنی فکر میں ، انہیں فکر عوالم ، سب زیر حکومت ، وہ مالک وحاکم ، بارگاہِ الٰہی میں سجدہ کریں گے ۔ ان کا رب انہیں فرمائے گا : ’’یَا مُحَمَّدُ! اِرْفَعْ رَأْسَکَ وَقُلْ تُسْمَعُ وَسَلْ تُعْطَہُ وَاشْفَعْ تُشْفَعُ(یعنی )اے محمد!اپنا سراٹھاؤ اورعرض کرو کہ تمہاری عرض سنی جائے گی اورمانگو کہ تمہیں عطاہوگا اورشفاعت کرو تمہاری شفاعت قبول ہے ۔ ‘‘اس وقت اولین وآخرین میں حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی حمد وثناء کا غلغلہ (شور)پڑ جائے گااوردوست ، دشمن ، موافق ، مخالف ، ہرشخص حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)  کی افضلیتِ کبریٰ وسیادت عظمٰی پر ایمان لائے گا۔ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن۔

مقام محمود ونامت محمد                   ……                           بہ نیساں مقامے و نامے کہ دارد

یعنی آپ کا مقام محمود اورنام محمد ہے ، ایسا مقام اورنام کون رکھتاہے ؟

برادرِاعلیٰ حضرت مولاناحسن رضا خانرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے نعتیہ دیوان ’’ذوقِ نعت‘‘ میں قیامت کی مَنظر کَشی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی شانِ مَحبوبی کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی                                                      ……   کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا

کہیں گے اور نبی اِذْھَبُوْا اِلٰی غَیْرِی                                                                        ……   میرے حضور کے لب پر اَنَا لَھَا ہوگا

دعائے اُمَّت بدکار وِرد لَب ہوگی                                                                    ……   خدا کے سامنے سجدے میں سر جھکا ہوگا

غلام ان کی عنایت سے چین میں ہوں گے                 ……   عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہوگا

میں اُن کے در کا بھکاری ہوں فضل مولیٰ سے    ……   حسن فقیر کا جنت میں بسترا ہوگا

انبیائے کرام کی عاجزی وانکساری:

علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتےہیں : ’’کل بروزِ قیامت جب لوگ حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اُن سے فرمائیں گے : ’’میرا یہ مَنْصَب نہیں میں تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا دوست ہوں تم حضرت موسی کے پاس جاؤ۔ ‘‘ یہ کلمہ عاجزی و انکساری کے لئے بولا جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بلند درجے تک میری راہ نہیں ، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ جو درجات مجھے دئیے گئے ہیں جبریل کے واسطے سے دئیے گئے ہیں (بلا واسطہ نہیں ملے) تم موسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس چلے جاؤ کیونکہ انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ سے بلا واسطہ کلام کرنے کا شرف حاصل ہے۔ حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے دو مرتبہ “ وَرَاءَ وَرَاءَ “ فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے شرفِ کلام اور شرفِ زیارت بغیر کسی واسطے کے حاصل ہوا ، اسی لئے حضرت سیدنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا کہ ’’میں موسی عَلَیْہِ السَّلَام کے پیچھے ہوں اور موسی عَلَیْہِ السَّلَام حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پیچھے ہیں۔ ‘‘([1])

امانت اور رحم پل صراط پر کیوں آئیں گے؟

 



[1]    شرح مسلم للنووی  ،  کتاب االایمان  ،  باب الشفاعۃ  ، ۲ / ۷۱ ، الجز ءالثالث ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن