30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مذکورہ حدیث پاک میں امانت کے دل میں داخل ہونے پھر نکل جانے اور اس کے بعد اندھیرا چھاجانے کو اس جلتے ہوئے انگارے سے تشبیہ دی جس کو پاؤں پر لڑھکایا جائے وہ لڑھکتا ہوا گر جاتا ہے اور پاؤں پر ا ثر چھوڑ جاتاہےاس کی شرح کرتے ہوئے اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’جس طرح ایک جلتے ہوئے انگارے کو پاؤں پر لڑھکایا جائے تو وہ لڑھکتا ہوا گر جاتا ہے اور پاؤں پر اثر چھوڑ جاتا ہے اور پھر وہ ایک چھالا بن جاتا ہےاسی طرح امانت دل میں داخل ہوگی اور پھر دل میں استقرار پکڑنے کے بعدزائل ہوجائے گی اور پھر دل میں اندھیرا چھاجائے گا اور اس کے بعد ہلکا سا نشان رہ جائے گا۔ ([1])
خریدوفروخت میں پرواہ نہ کرنے کے معنٰی:
علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ حضرت سَیِّدُناحذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے جو کہا کہ’’ پہلے میں پروا ہ نہ کرتا تھا کہ میں کس سے خرید و فروخت کررہاہوں لیکن اب میں فلاں فلاں سے ہی سودا کرتا ہوں۔ ‘‘مطلب یہ ہے کہ ’’میں جانتا تھا کہ ابھی امانت نہیں اٹھائی گئی اور لوگوں میں دیانتداری موجود ہے تو میں جانچ پڑتال کئے بغیر لوگوں سے خرید وفروخت کرلیتا تھا کیونکہ اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین اور امانتداری اسے خیانت کرنے سے روکے گی اور اسے امانت کی ادائیگی پر اُبھارے گی اوراگر وہ کافر ہےتو اس کا حاکم اس سے امانت قائم کروائے گا اور اس سے میرا حق نکلوا دے گا۔ بہرحال آج کے زمانے میں امانت اُٹھالی گئی ہے اب مجھے لوگوں پر اعتبار نہیں ہے اور نہ ہی کافروں کے والی پر کہ وہ میرا حق دلوائیں گے لہذ ا اب میں ان ہی سے خریدوفروخت کرتا ہوں جن کو میں جانتاہوں اور جن پرمیں اعتبار کرتاہوں۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتْ مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے مذکورہ بالا حدیث پاک کی شرح میں کئی مفید باتیں اور مسائل تحریر فرمائے ہیں ، چند مسائل پیش خدمت ہیں :
* حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فتنوں کے زمانوں میں امانت کے متعلق دو چیزیں ارشاد فرمائیں : نزول امانت کی بھی خبر دی اور اس امانت کے اٹھ جانے کی بھی خبر دی ۔
* ’’امانت لوگوں کے دلوں کے درمیان نازل ہوئی۔ ‘‘یہاں امانت سے مراد یاتو ایمان ہے یا شرعی احکام۔ رب تعالیٰ ارشاد فرماتاہے : ( اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ ) ممکن ہے کہ اس سے مراد دیانتداری ہو جو خیانت کی مقابل ہے۔
* ’’ لوگوں نے کچھ قراٰن سے جانا اور کچھ سنت سے۔ ‘‘اس سے معلوم ہوا کہ دلوں میں توفیق خیرپہلے ہوتی ہےقرآن وحدیث کاسیکھنا عمل کرنا بعد میں میسر ہوتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے دیکھ لیں۔
* آخرزمانہ میں روشنی ایمان دلو ں سے نکل جائے گی جس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ لو گ قر آن و سنت پڑھنا اور ان پر عمل کرنا چھو ڑدیں گے۔
* ’’آدمی سوئے گاتو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی۔ ‘‘ظاہریہ ہے کہ یہاں سو نے سے مراد علم دین سے غفلت کرنا ہے اور نومۃ سے مراد معمولی غفلت ہے۔ اس لیےکہ اس سے پہلے قرآن وسنت کے علم کا ذکر ہوا۔ یعنی لوگ علم دین سے معمولی غفلت کریں گے تو اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔ اور ہوسکتا ہے کہ’’نوم‘‘سے مراد سونا ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے انقلاب کا حال یہ ہوگا کہ ابھی سونے سے پہلے دل کا اور حال تھا اور سوتے ہی کچھ اورہوگیا۔
* “ امین آدمی کے دل سے امانت ختم ہوجائے گی مگر کچھ اثر باقی رہے گا۔ “ یعنی لوگوں کے دلوں سے امانت آہستہ آہستہ اٹھے گی ، ایک بار غفلت میں امانت جائے گی دل میں خیانت آئے گی مگر معمولی جیسے چھالا۔ دوبارہ غفلت میں یہ خیانت دل میں سخت ہوجائے گی جیسے کام کرنے والوں کے ہاتھ کے سخت آبلے۔ اگر کسی کا عضو معمولی چنگاری سے جل جائے وہاں چھالا پڑ جائے تو چھالا اُبھرا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر اس میں سِواگندے پانی کے ہوتا کچھ نہیں۔ یوں ہی اس زمانہ کے لوگ لباس و شکل میں بہت اچھے دکھائی دیں گے مگر ان کے دلوں میں خیر نہ ہوگی برائی ہی ہوگی۔
* ’’لوگ صبح کے وقت خریدوفروخت کریں گے لیکن ایک بھی شخص امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا۔ ‘‘یعنی وہ لوگ آپس میں خرید و فروخت اور دوسرے مالی معاملات کریں گے مگر امین نہ ہوں گے تجارتوں میں خیانت ملاوٹ سب ہی کچھ کریں گے اپنی زبان پر قائم نہ رہیں گے۔
* ’’یہاں تک کہ کہاجائے گا کہ فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہے۔ ‘‘یعنی امین آدمیوں کی اتنی کمی ہوجائے گی کہ اگر کسی شہر کسی قبیلہ میں کوئی ایک امین ہوگا تو لوگ دُور دُور تک اُس کا چرچہ کریں گے کہ اس علاقے میں صرف وہ شخص امین ہے۔ یعنی آخر زمانہ میں لوگوں کی چالاکی ، دنیاکمانا ، چست و چالاکی ہونے کی تو تعریف ہوگی ، مگر اس کے دین
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع