30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 200 دِل سے اَمانت نکال لی جائے گی
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْیَمَانِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَيْنِ قَدْرَاَيْتُ اَحَدَهُمَاوَاَنَا اَنْتَظِرُ الْاٰخَرَ : حَدَّثَنَا اَنَّ الْاَمَانَةَ نَزَلَتْ فِي جَذْرِ قُلُوْبِ الرِّجَالِ ثُمَّ نَزَلَ الْقُرْاٰنُ فَعَلِمُوْا مِنَ الْقُرْاٰنِ وَ عَلِمُوْا مِنَ السُّنَّةِ ثُمَّ حَدَّثَنَا عَنْ رَفْعِ الْاَمَانَۃِ فقَالَ : ’’ يَنَامُ الرَّجُلُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَةُ مِنْ قَلْبِهِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ الْوَكْتِ ثُمَّ يَنَامُ النَّوْمَةَ فَتُقْبَضُ الْاَمَانَۃُ مَنْ قَلْبِہِ فَيَظَلُّ اَثَرُهَا مِثْلَ اَثْرِ الْمَجْلِ كَجَمْرٍ دَحْرَجْتَهُ عَلَى رِجْلِكَ فَنَفِطَ فَتَرَاهُ مُنْتَبِرًا وَلَيْسَ فِيْهِ شَيْءٌ‘‘ثُمَّ اَخَذَ حَصَاۃً فَدَحْرَجَھَا عَلَی رِجْلِہِ’’فَيُصْبِحُ النَّاسُ يَتَبَايَعُوْنَ فَلَا يَكَادُ اَحَدٌ يُؤَدِّي الْاَمَانَةَ حَتَّی يُقَالَ : اِنَّ فِي بَنِي فُلَانٍ رَجُلًا اَمِيْنًا حَتّٰی يُقَالَ لِلرَّجُلِ : مَا اَجْلَدَہُ مَا اَظْرَفَهُ مَا اَعْقَلَہُ !وَمَا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ اِيْمَانٍ وَلَقَدْ اَتَى عَلَيَّ زَمَانٌ وَمَا اُبَالِي اَيَّكُمْ بَايَعْتُ؟ لَئِنْ كَانَ مُسْلِمًا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ دِیْنُہُ وَلَئِنْ كَانَ نَصْرَانِيًّا اَوْیَہُوْدِیًّا لَیَرُدَّنَّهُ عَلَيَّ سَاعِيْهِ وَاَمَّا الْيَوْمَ فَمَا كُنْتُ اُبَايِعُ مِنْکُمْ اِلَّا فُلَانًا وَفُلَانًا‘‘.([1])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناحُذیفہ بن یمانرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں دوحدیثیں بیان فرمائیں ان میں سے ایک کو میں دیکھ چکا ہوں اور دوسری کا انتظار کر رہا ہوں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہم سے بیان فرمایا کہ : ’’ امانت لوگوں کے دلوں کی جڑ میں نازل ہوئی ، پھرقرآن نازل ہوا تو لوگوں نے (امانت کو)کچھ قرآن سے جانا اور کچھ سنت سے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیں امانت کے اُٹھ جانے کے بارے میں بیان فرمایا : ’’ایک آدمی تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی اور اس کا ہلکا سااثر باقی رہ جائے گا پھروہ تھوڑی دیر کے لیے سوئے گا تو اس کے دل سے امانت نکال لی جائے گی تواب اس کا اثر چھالے کی مثل رہ جائے گا جیسا کہ تو اپنے پاؤں پر انگارہ ڈالے تو اس سے چھالا پڑجائےتو تُو اسے اُبھرا ہوادیکھے گا لیکن اس کے اندر کچھ نہیں ہوتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چندکنکریاں لیں اور انہیں اپنے پاؤں مبارک پر ڈالا اورارشادفرمایا : ’’لوگ صبح کے وقت خریدو فروخت کریں گے لیکن ایک بھی شخص امانت ادا کرنے والا نہ ہوگا ، یہاں تک کہ کہاجائے گا کہ : فلاں قبیلے میں ایک امانت دار شخص ہےاور اس کے بارے میں کہاجائے گا ، کہ وہ شخص کس قدر طاقتور ، ہوشیاراورعقلمند ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ ‘‘(راوی کہتے ہیں )اورمجھ پر ایک زمانہ ایسا بھی آیا کہ میں یہ پرواہ نہ کرتا تھاکہ میں کس سے خریدوفروخت کررہاہوں ، اگر وہ مسلمان ہے تو اس کا دین ضروراسے میری طرف لوٹا دے گا اور اگر وہ عیسائی یا یہودی ہے تو اس کا والی ضروراسے میری طرف لوٹادے گا۔ بہرحال آج کل میں تم میں سے صرف فلاں فلاں سے ہی خریدوفروخت کرتا ہوں۔
حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے امانت کے اُٹھ جانے کے بارے میں بیان فرمایا کہ ’’امانت اٹھالی جائے گی۔ ‘‘عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’یعنی پہلے ایک قوم سے پھر دوسری قوم سے ، پہلے کچھ حصہ پھر کچھ حصہ ، ایک وقت میں کچھ پھر دوسرے وقت میں کچھ لوگوں کے دین میں کمی اور فساد کے حساب سے اور پھر امانت کا اثر یعنی ہلکا سا نشان رہ جائے گا۔ حاصل کلام یہ ہے کہ دل امانت سے خالی ہوجائیں گے اس طرح کہ امانت تھوڑی تھوڑی کر کے ان میں سے ختم ہوجائے گی پس جب اس کا ایک جزء زائل ہوجائے گا تو اس کا نور ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد اندھیرا رہ جائے گاجیساکہ نقطہ ہو۔ ([2])
نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی:
عَلَّامہ اِبْنِ بَطّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث پاک نبوت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے دِین کے فساد اور آخری زمانے میں اُن کی امانتوں کی کمی کے بارے میں خبر دی گئی ہےاور ان دونوں کی معرفت صرف وحی کے ذریعے حاصل ہوسکتی ہے جیسا کہ حدیث شریف میں ہے کہ اسلام ابتدامیں اجنبی تھا اور عنقریب یہ اجنبی ہوجائے گا جیسا کہ ابتدا میں تھا۔ حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ارشاد فرمایا : ’’اے عبداللہ! تمہارا اُس وقت کیا حال ہوگا جب تم بےکار لوگوں میں باقی رہ جاؤ گےجن کے عہدوپیمان اور امانتیں گڑبڑ ہوں گی اور آپس میں اختلاف کریں گےتو اس طرح ہوجائیں گے۔ ‘‘ یہ کہہ کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن عَمرو رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! اُس وقت آپ مجھے کیا حکم ارشاد فرماتے ہیں؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’تم خاص اپنی ذات کی فکر رکھو اور عوام کو چھوڑ دو۔ ‘‘([3])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع