30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
عَلَّامَہ شِہَابُ الدِّیْن اَحْمَدْ قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی حدیث مذکور کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اگر تم کہو کہ جب کسی مسلمان میں یہ خصلتیں پائی جائیں تو کیا وہ منافق ہوجائے گا؟ تو میں اس کا جواب دوں گا کہ یہ منافقت کی خصلتیں ہیں منافقت نہیں ، توجس شخص میں یہ تمام صفتیں پائی جائیں اسے مجازاًمنا فق کہا گیا ہے یا پھر اس سے مراد نفاقِ عملی ہے نفاقِ اعتقادی نہیں ، یا پھر مراد یہ ہے کہ جو شخص اِن صفات سے متصف ہو اور یہ اُس کی عادت میں شامل ہو(تو وہ منافق ہے ) یا پھر مراد یہ ہے کہ جس میں یہ خصلتیں غالب آجائیں اور وہ ان کو خاطر میں نہ لائے اور اس حکم کو ہلکا جانے تو ایسا شخص بد عقیدہ اور منافق ہےیا پھر حدیث کا مقصد لوگوں کوان تین کاموں سے ڈرانااور ان کے کرنے سے بچانا ہے یا پھر یہ حدیث کسی خاص منافق کے بارے میں ہے لیکن آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اس کا نام ذکرنہیں فرمایا جیساکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ مبارکہ ہےکہ آپ کسی کا عیب صاف لفظوں میں بیان نہ فرماتے بلکہ اشارۃً گفتگو کرتے جیساکہ احادیث میں اس کی مثالیں ملتی ہیں فرمایا : ’’اس قوم کا کیا معاملہ ہے؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر اس سے مراد نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے کے منافقین ہیں۔ ‘‘([1])
شرحُ الطّیبیمیں ہے : ’’یہ حدیث مومن کو ڈرانے اور اِن خصلتوں کو اپنی عادت بنانے سے بچانے کے لئے بیان کی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ جس شخص سے یہ کام کبھی کبھار ہوجائے یا بغیر عادت کےوہ ان میں سے کوئی کام کر بیٹھے تو وہ منافق ہوگیا۔ ‘‘مزید فرماتے ہیں : ’’منافقت کی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم یہ ہےکہ کوئی شخص اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے اور دل میں کفر ہوجیسا کہ حضورنبی رحمت ، شفیع اُمَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانے کے منافقین۔ دوسری قسم یہ ہے کہ تنہائی میں دینی اُمور کی حفاظت نہ کرے اور لوگوں کی موجودگی میں ان کو بجالائےتو ایسے شخص کو منافق کہیں گے لیکن یہ نفاق ، نفاقِ اعتقادی نہیں جیساکہ حدیث میں ہے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور اسے قتل کرنا کفر ہے تو یہ کفر ، کفرِ اعتقادی نہیں (یعنی یہ کام کافروں والا ہے لیکن قتل کرنے اور گالی دینے سے وہ کافر نہیں ہوگا)۔ “ ([2])
کیا نمازی روزہ دار منافق ہوسکتا ہے؟
عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی حدیث پاک کے اس حصے : ’’اگر چہ وہ روزے رکھے ، نماز پڑھے۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’اگر چہ وہ مسلمانوں والےعمل کرے یعنی روزے رکھے نماز پڑھے اس کے علاوہ دوسری عبادت کرے۔ ایک روایت میں ہے کہ چاہے وہ روزہ رکھے نماز پڑھے حج کرے عمرہ کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ ([3])(لیکن اگر اس میں ان میں سے کوئی صفت ہے تو وہ منافق عملی ہے۔ )
’’چل مدینہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)انسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سےہوتا ہے قول ، فعل اور نیت ، منافق کی یہ تینوں چیزیں خراب ہوتی ہیں ، نہ تو اس کا قول درست ہوتاہے ، نہ فعل اور نہ ہی نیت۔
(2)مسلمان کو تمام معاملات میں امانت کی ادائیگی کا حکم دیا گیا ہے چاہے ان معاملات کا تعلق دین سے ہو یا دنیا سے ، لہذا اُسے چاہیے کہ امانت کی ادائیگی کا خصوصی خیال رکھے۔
(3)نماز پڑھنا ، رمضان کے روزے رکھنا ، زکوٰۃ دینا ، حج کرنااور دیگر اَعمال صالحہ ادا کرنا بھی امانت ہے ۔
(4)انسان کے جسم کے اعضاء مثلا ً آنکھ ، زبان ، کان ہاتھ وغیرہ یہ تمام کے تمام اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے انسان کو استعمال کے لئے بطور امانت دئیے گئے ہیں ، لہذا ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔
(5)وعدہ کرتے وقت اگر اسے پورا کرنے کی نیت ہو اور کسی وجہ سے پورا نہ کرسکے تو یہ وعدہ خلافی نہیں کہلائے گی وعدہ خلافی اسی وقت کہلائے گی کہ جب وعدہ کرتے وقت ہی اسے پورا نہ کرنے کا ارادہ ہو۔
(6)وعدہ کرتے وقت اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کہہ دینا چاہیے تاکہ وعدہ پورا نہ ہونے کی صورت میں جھوٹ بھی نہ ہواور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد شامل حال ہوجائے۔
(7)لوگوں کی موجودگی میں بُر ے کام نہ کرے اور تنہائی میں کرے یہ بھی منافقت عملی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں نفاقِ عملی و اِعتقادی دونوں سے محفوظ فرمائے اور جو علاماتِ منافق ہیں اُن سے بچنے کی بھی توفیق عطا فرمائے ، نیز امانتوں کی ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع