30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدرُالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی خزائن العرفان میں اِس آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’اَصحاب امانات اور حُکاّم کو امانتیں دیانت داری کے ساتھ حق دار کو ادا کرنے اور فیصلوں میں انصاف کرنے کا حکم دیا ۔ ([1])
فرما نِ باری تعالیٰ ہے :
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲) (پ : ۲۲ ، الاحزاب : ۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اُٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اُٹھالی بے شک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔
تفسیر خازن میں ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’اس آیت مبارکہ میں امانت سے مراد عبادت اور وہ فرائض ہیں ، جنہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے بندوں پر فرض کیا ۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اُنہیں آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں پر اِس شرط پرپیش کیا کہ اگر وہ انہیں ادا کریں گے تو ثواب دیئے جائیں گے اور اگر ضائع کریں گے تو عذاب دئیے جائیں گے (تو انہوں نے اس امانت کو اُٹھانے سے معذرت کرلی )۔ ‘‘حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’نمازپڑھنا ، زکوٰۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا ، خانہ کعبہ کا حج کرنا ، سچ بولنا ، قرض ادا کرنا اورناپ تول میں عدل کرناامانت ہے۔ ‘‘ ایک قول یہ ہے کہ امانت سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کے کرنے اور نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے سب سے پہلے انسان کے فرج کو پیدا کیا اور فرمایا یہ تمہارے پاس امانت ہے پس فرج امانت ہے ، کان امانت ہے ، آنکھیں امانت ہے ، ہاتھ امانت ہے ، پاؤں امانت ہے ، اس کا ایمان ہی کیا جوامانت دار نہ ہو۔ ‘‘ حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’امانت سے مراد لوگوں کی امانتوں اور عہدوں کو پورا کرناہےتو ہر مومن پر فرض ہے کہ نہ کسی مومن کی خیانت کرے ، نہ اُس کافر کی جس کا مسلمانوں سے معاہدہ ہوچکا ہےاور یہ خیانت نہ قلیل امانت میں ہو نہ کثیر میں۔ ([2])
حدیث نمبر : 199 مُنافِق کی نشانیاں
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اٰيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ اِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اُؤْتُمِنَ خَانَ.([3]) ’’وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَ اِنْ صَامَ وَصَلَّی وَزَعَمَ اَنَّہُ مُسْلِمٌ‘‘.([4])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’منافق کی تین علامات(نشانیاں) ہیں : (1) جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ (2)جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرےاور(3) جب اسے امانت دی جائے تو خیانت کرے۔ ‘‘ایک روایت میں ہے : اگرچہ وہ روزے رکھے ، نماز پڑھےاور اپنے آپ کو مسلمان گمان کرے۔
منافق کے قول ،فعل اورنیت کی خرابی:
عمدۃ القاری میں ہے : مذکورہ حدیث میں موجود اِن تین نشانیوں سے منافق کی صفت کا پتہ چلا ، منافق کی علامتوں(نشانیوں) کو اِن تین میں منحصر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اِنسان کے اعمال کا تعلق تین چیزوں سے ہوتا ہے : قول ، فعل اور نیت۔ منافق کی یہ تینوں چیزیں خراب ہوتی ہیں۔ قول کی خرابی یہ ہے کہ جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، فعل کی خرابی یہ ہے کہ جب اُس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرتا ہے اور نیت کی خرابی یہ ہے کہ جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرتاہے۔ اور اس بات کو بھی ذہن میں رکھا جائے کہ وعدہ خلافی اس وقت قابل مذمت ہے جبکہ وعدہ کرتے وقت ہی یہ نیت ہو کہ میں اس کے خلاف کروں گا اور اگر وعدہ کرتے وقت تو اُسے پورا کرنے کی نیت تھی لیکن بعد میں کسی مجبوری یا مانع کی وجہ سے وعدہ پورا نہ کرسکا تو یہ منافق کی صفت نہیں اور اس کی دلیل طبرانی کی یہ روایت ہےجس میں فرمایا : وعدہ کرتے وقت ہی اس کے دل میں یہ ہو کہ میں اس کے خلاف ہی کروں گا(تو یہ منافق کی صفت ہے)اسی طرح باقی خصلتوں کا معاملہ ہے۔ علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : وعدہ پورا کرنا ایسا مستحب ہے جس کی تاکید کی گئی ہے اور
وعدہ خلافی کرنا مکروہ تنزیہی ہے اور مستحب ہے کہ جب کوئی شخص وعدہ کرے تو اس کے ساتھ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کہہ دےتاکہ وعدہ پورا نہ کرنے کی صورت میں وہ جھوٹ کا مرتکب نہ ہو۔ ([5])
حدیث میں نفاق عملی مراد ہے یااعتقادی؟
[1] خزائن العرفان ، پ۵ ، النساء ، تحت الآیۃ : ۵۸ ۔
[2] تفسیر خازن ، پ : ۲۲ ، الاحزاب ، تحت الایۃ : ۷۲ ، ۳ / ۵۱۴ ۔
[3] بخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، ۱ / ۲۴ ، حدیث : ۳۳ ۔
[4] مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان خصال المنافق ، ص۵۰ ، حدیث : ۵۹ ۔
[5] عمدۃ القاری ، کتاب الایمان ، باب علامات المنافق ، ۱ / ۳۲۹ ، تحت الحدیث : ۳۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع