30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ بے عمل واعظ یا عالِم رب کو ناپسند ہے ، بہترین واعظ وہی ہے جس کا عمل قول سے زیادہ وعظ وتبلیغ کرے ، اسے دیکھ کر لوگ متقی بن جائیں۔ ‘‘([1])
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲) كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۳) (پ۲۸ ، الصف : ۲ ، ۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو کیوں کہتے ہو وہ جو نہیں کرتےکیسی سخت ناپسند ہے اللہ کو وہ بات کہ وہ کہو جو نہ کرو۔
عَلَّامَہ اَبُوْ جَعْفَرْ مُحَمَّد بِنْ جَرِیْر طَبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’اے ایمان والو!جنہوں نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تصدیق کی ، تم وہ بات کیوں کرتے ہو جس کی تصدیق اپنے عمل سے نہیں کرتے۔ پس تمہارے اعمال تمہارے قول کے مخالف ہیں۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس آیت میں بہت سی صورتیں داخل ہیں ، لوگوں کو اچھی باتیں بتائے مگر خود عمل نہ کرے ، یعنی بے عمل واعظ لوگوں کو اچھائی بتائے مگر خود برائیاں کرے جیسے بدعمل واعظ کسی سے وعدہ کرے وہ پورا نہ کرے یعنی وعدہ خلاف وعدہ کرتے وقت ہی خیال کرے کہ یہ کام کروں گا ہی نہیں ، صرف زبانی وعدہ کئے لیتا ہوں۔ یعنی دھوکہ بازی ، ان تمام باتوں سے یہاں روکا گیا ۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : ’’اس سے معلوم ہوا کہ جائز وعدہ پورا کرنا ضروری ہے ، خواہ ربّ سے کیا گیا ہو یا شیخ سے یا کسی بندے سے یابیوی سے۔ اولیاء اللہ کی نذر پورا کرنا بھی اس آیت سے ثابت ہوتا ہے ، نیز معلوم ہوا کہ عالم واعظ کو باعمل ہونا چاہیے۔ ناجائز وعدے ہرگزپورے نہ کرے ، اگر اس پر قسم بھی کھائی ہو تو توڑ دے اور کفارہ ادا کردے۔ ‘‘([3])
(3)دوسروں کو منع کرنا، خود بھی وہ کام نہ کرنا
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں حضرت سیدنا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بارے میں خبر دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُؕ- (پ۱۲ ، ھود : ۸۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اور میں نہیں چاہتا ہوں کہ جس بات سے تمہیں منع کرتا ہوں آپ اس کا خِلاف کرنے لگوں۔
اِمَام فَخْرُ الدِّیْن رَازِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : ’’مذکورہ آیت میں تحقیق کلام یہ ہے کہ حضرت سَیِّدُنَا شعیب عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی قوم نے ان کے حَلِیْمیعنی بُردبارو رشیدیعنی نیک طبیعت والا ہونے کا اعتراف کیا تھااور ان کا یہ اعتراف کرنا آپ کی کمالِ عقل پر دلالت کرتا ہے اور جو کامل عقل والا ہو عقل اس کو درست اور صحیح سمت کے اختیار کرنے پر اُبھارتی ہے۔ گویا کہ حضرت سیدنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے ان سےفرمایا کہ ’’جب تم میرے کمالِ عقل کے معترِف ہو تو تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ میری عقل نے میرے لئے جو بات پسند کی ہے وہ وہی ہو گی جو سب سے درست اور بہتر ہو اور وہ خدا کی وحدانیت کی دعوت دینا اور ناپ تول میں کمی کو ترک کرنا ہے۔ میں اللہ عَزَّ وَجَلَّکے حکم کی تعظیم کرنے اور مخلوقِ خدا پر شفقت کرنے کا پابندی سے عامل ہوں اور کسی صورت ان میں سے کسی چیز کو چھوڑنے والا نہیں۔ پس جب تم میرے حِلم ورُشد کے معترف ہو اور تم دیکھتے ہو کہ میں اُس راستے کو چھوڑنے والا نہیں تو تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہی طریقہ سب سے بہتر ، یہی دِین اور شریعت سب سے زیادہ شرف والی ہے۔ ‘‘([4])
عَلَّامَہْ جَلَالُ الدِّيْن سُيُوْطِي عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی مذکورہ آیت کے تحت فرماتے ہیں : ’’حضرت سیدنا ابنِ اَبی حاتم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاور ابو شیخ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے حضرت سیدنا قتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سےاِس آیت کے بارے میں روایت کیا ہےکہ حضرت سیدنا شعیب عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم سے فرمایا : یہ نہیں ہوسکتا کہ میں تمہیں کسی معاملے سے منع کروں اور پھر خود ہی اِس کا اِرتکاب کروں ۔ ‘‘([5])
حدیث نمبر : 198 بے عمل مبلغ کا انجام
وَعَنْ اَبِیْ زَیْدٍ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدِ بْنِ حَارِثَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : يُؤْتَى بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ اَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُوْرُ بِهَا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع