30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(4) حدیث پاک میں مذکور آیت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت اس آیت کے شان نزول سے بھی معلوم ہوتی ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’دو مسلمان مرد تھے ان میں سے ایک کا باپ اور دوسرے کا بھائی کافر تھا ، تو جب ان مسلمانوں کے دلوں میں ایمان کی حلاوت داخل ہوگئی تو انہوں نے اپنے باپ اور بھائی کو اسلام کی دعوت دی۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں وہ ہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ۔ یہ جواب سن کر مسلمانوں کو ان کے کفر پر بڑی حسرت ہوئی اور ان کے ایمان لانے کے متمنی ہوئے تو اس وقت اللہ عَزَّ وَجَلَّنے یہ آیت نازل فرمائی کہ تمہیں ان کے کفر سے کچھ نقصان نہیں جبکہ تم ہدایت پر ہو۔ ‘‘([1])
’’اجمیر‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)بُرائی سے منع کرنے کے باوجود اگر کوئی نہیں رکتا تو اب اس کا بُرائی میں مبتلا ہونا منع کرنے والے کے لیے کوئی مضر نہیں۔
(2)بلا عذرنہی عن المنکر کو ترک کرنا جائز نہیں کیونکہ اس کے ترک پر وعیدیں وارد ہیں۔
(3)نہی عن المنکر کو ترک کرنا عذاب نازل ہونے کا سبب ہے ، گناہگار پر تو گناہوں کی وجہ سے اور بقیہ لوگوں پر استطاعت کے باوجود اسے نہ روکنے اور اس کے گناہ پر رضامند ہونے کی وجہ سے۔
(4)جس شخص کو اپنی جان یا مال کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا پھر اس بات کا خدشہ ہو کہ اس کے منع کرنے کی وجہ سے خطاکار اس سے بڑے گناہ میں مبتلا ہوجائے گا تو اس کے لیے نہی عن المنکر نہ کرنا جائز ہے کیونکہ یہ معذور ہے اور معذور کی پکڑ نہیں۔
(5)اگر کچھ لوگ نیکی کی دعوت دیں اور بُرائی سے منع کریں لیکن لوگ ان کی بات نہ مانیں تو اس صورت میں وہ لوگ عذاب کے مستحق نہیں بلکہ فقط برائی کرنے والے اس کے مستحق ہوں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں خود بھی بُرائیوں سے بچنے اور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے ، ہمیں نیکی کی دعوت عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
با ب نمبر : 24 قول وفِعل میں تضادوالے کے اَنجام کا بیان
اس شخص کے بُرے اَنجام کا بیان جو نیکی کا حکم د ے ، بُرائی سے منع کرےمگر اُس کا قول وعمل ایک دوسرے کے خلاف ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اَمْرٌ بِالْمَعْرُوْف یعنی نیکی کا حکم دینا اور نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر یعنی بُرائی سے منع کرنا ایک عظیم کام ہے ، یقیناً جسے اِن دونوں کاموں کی توفیق دی گئی وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے مگر بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو دوسروں کو تو نیکی کی دعوت دے مگر خود نیکیوں سے دُور بھاگے ، دوسروں کو تو بُرائی سے منع کرے مگر خود بُرائیوں میں دن رات مصروفِ عمل رہے۔ اپنی اِصلاح کی طرف بالکل توجہ نہ دے ، ایسا شخص بے عمل مبلغ ہے اور بے عمل مبلغ کے بارے میں قرآن وسنت میں بہت سخت وعیدیں ذکر کی گئی ہیں۔ ریاض الصالحین کا یہ باب بھی ایسے ہی شخص کے بُرے انجام کے بارے میں ہے جودوسروں کو تو نیکی کا حکم دے ، بُرائی سے منع کرے مگر خود اس کےقول وفعل میں تضاد ہو۔ علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نے اِس باب میں3 آیات اور 1حدیثِ مبارکہ بیان فرمائی ہے ۔ پہلے آیات اور ان کی تفسیر ملاحظہ کیجئے۔
(1)دوسروں کوبھلائی کا حکم دینا اور خود کو بھول جانا
قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴) (پ۱ ، البقرۃ : ۴۴)
ترجمۂ کنزالایمان : کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں۔
بعض مسلمانوں نے اپنے رشتہ دار علمائے یہود سے اسلام کے متعلق پوچھا کہ یہ دِین سچا ہے یا نہیں؟ انہوں نے جواب دیا : دِین اسلام پر قائم رہوکہ اسلام سچا دِین ہے اور حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا کلام سچا ہے۔ اِس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں علمائے یہود سے فرمایاگیا کہ تم لوگوں کو تو اسلام پر قائم رہنے کی تلقین کرتے ہو مگر خود ایمان نہیں لاتے۔ ([2])
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع