30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
محمول کرتے ہوئے یہ سمجھتے ہو کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب نہیں تو یہ غلط ہے ، کیونکہ جب نہی عن المنکر کے تَرک یعنی برائی سے منع نہ کرنے پر وعید وارد ہے تو اب اُس کو ترک کرنا جائز ہو یہ کیسے ممکن ہے؟‘‘([1])
برائی سے منع کرنا کس پرضروری ہے؟
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’جب لوگ کسی کو ظلم کرتا ہوا یا گناہ کرتا ہوا دیکھیں اور اسے ہاتھ سے روکنے پر قدرت ہونے کے باوجود نہ روکیں یا زبان سے روکنے کی اِستطاعت ہونے کے باوجود اسے زبان سے منع نہ کریں تو قریب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سب پر عذا ب نازل فرمادے ، ظالم پر تو ظلم کرنے کی وجہ سے اور اس کے علاوہ لوگوں پر قدرت ہونے کے باوجود اسے نہ روکنے اور خطا کرنے والے کی خطا پر رضامند ہونے کی وجہ سےالبتہ جو لوگ گناہگار کو روکنے سے عاجز ہوں اس طور پر کہ انہیں اپنی جان یا مال کے ضائع ہونے کا خوف ہو یا اس بات کا خدشہ ہو کہ اگر یہ اسے منع کریں گے تو وہ رکنے کے بجائے اس سے بڑے گناہ میں پڑ جائے گا ، تو ایسے لوگوں پر نہی عن المنکر نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ معذور ہیں اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے یہ
عذاب سے محفوظ رہیں گےکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے : ) لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ-((پ۳ ، البقرۃ : ۲۸۶)ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر۔ ([2])
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر105کے مختلف معانی:
قرآن پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے :
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- (پ۷ ، المائدۃ : ۱۰۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔
(1)شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ آیت عام اور مطلق نہیں بلکہ اس بات کے ساتھ مقید اورخاص ہے کہ جب لوگ تمہاری بات نہ سنیں اور ان پر نہی عن المنکر کا کوئی اثر نہ ہو اور ہر شخص اپنے آپ میں مغرور و متکبّر ہو تو اس صورت میں تم اپنی اصلاح میں مصروف ہوجاؤ اور اس وقت لوگوں کے گناہ تم پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور یہ آخری زمانے کے لوگوں کی حالت ہے اور اس کی تائید یہ حدیث پاک بھی کرتی ہے کہ جب یہ آیت حضرتِ سَیِّدُنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس تلاوت کی گئی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے فرمایا : اس آیت میں جس زمانے کی بات ہے وہ میرا اور تمہارا زمانہ نہیں ، کیونکہ اس میں تو لوگ بات سن کر قبول کرلیتے ہیں ، لیکن آخری زمانے میں لوگ بات ہی نہیں سنیں گے ، اس آیت میں ان لوگوں کے بارے میں خبر دی گئی ہے۔ ‘‘([3])
(2)مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’مذکورہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جب تم خود ہدایت پر ہو تو تم کو دوسروں کی بدعملی سے نقصان نہ ہوگا اور ہم ہدایت پر جب ہی ہوں گے جبکہ سارے احکام خداوندی پر عمل کریں گے ان احکام میں تبلیغ (امر بالمعروف و نہی عن المنکر) بھی داخل ہے جو بقدر استطاعت بلا عذر تبلیغ نہ کرے وہ ہدایت پر ہے ہی نہیں لہٰذا وہ اس پر پکڑا جاوے گا۔ ([4])مرآۃ المناجیح میں فرماتے ہیں کہ ’’بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ’’جب تم ہدایت پر ہو۔ “ کا مطلب یہ ہے کہ تم برائی سے روکو اور وہ نہ مانیں تو اب عذاب عام نہیں ہوگا بلکہ صرف برائی کے مرتکب لوگوں کو ہوگا۔ ‘‘([5])
(3) عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’یہ آیت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے وجوب کے خلاف نہیں کیونکہ اس آیت کے معنی میں محققین کے نزدیک صحیح مذہب یہ ہے کہ تم جس کام کے مکلف کیے گئے ہو ، جب تم نے وہ ادا کردیا تو پھر کسی اور کی کوتاہی تمہیں خسارا نہیں پہنچا سکتی ، اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے : )وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىؕ- ((پ۲۲ ، فاطر : ۱۸) ترجمۂ کنزالایمان : “ اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ “ تو اسی طرح جو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا مکلف کیا گیا اور اس نے یہ فریضہ ادا کردیا تو اب اس پر کوئی عتاب نہیں ، کیونکہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اور بیشک اس پر تو بس بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا لازم ہے نہ کہ قبول کروانا۔ ‘‘([6])
[1] اشعۃ اللمعات ، کتاب الاداب ، باب الامر بالمعروف ، ۴ / ۱۹۲۔
[2] دلیل الفالحین ، باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۸۸ ، تحت الحدیث : ۱۹۸۔
[3] اشعۃ اللمعات ، کتاب الاداب ، باب الامر بالمعروف ، ۴ / ۱۹۲۔
[4] تفسیر نعیمی ، پ۷ ، المائدہ ، تحت الآیۃ : ۱۰۵ ، ۷ / ۱۱۵ملخصًا۔
[5] مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۰۷مکتبہ اسلامیہ۔
[6] شرح مسلم للنووی ، کتاب الایمان ، باب بیان کون النھی عن المنکر۔ ۔ ۔ الخ ، ۱ / ۲۲ ، الجزءالثانی ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع