30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
’’امام اعظم‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1)بنی اسرائیل میں بگاڑ پیدا ہونے کی ابتداء امربالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنے کی وجہ سے ہوئی۔
(2)گناہ گاروں کی صحبت اختیار کرنے کی نحوست سے گناہ نہ کرنے والوں کا دل بھی سیاہ ہوجاتا ہے۔
(3)علماء پر لازم ہے کہ استقامت کے ساتھ امربالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سر انجام دیتے رہیں تعطل کا شکار نہ ہوں۔
(4)اِس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ گناہگار شخص کو پہلے برائی سے منع کیا جائے اور اگر وہ نہ مانے تو اس کا بائیکاٹ کیا جائے تاکہ اسے گناہوں کا احساس ہواور وہ انہیں چھوڑنے پر مجبور ہوجائے۔
(5)کفار ومشرکین کبھی بھی مسلمانو ں کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے ، لہذا کفار سے دوستی کرنا ناجائز وحرام اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ غضب کا سبب ہے اور مشرکین سے دوستی کرنا علامتِ نفاق ہے۔
(6)اعلانیہ گناہ کرنا گناہوں کو عام کرنے اور دوسروں کوگناہوں پر اُبھار نے کا سبب ہے۔
(7)اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خاطر بغض رکھنے کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کی نافرمانی کرنے والوں کے ساتھ نہ کلام کیا جائے ، نہ کھایاجائے ، نہ پیاجائے اور نہ ہی ان کی صحبت اختیار کی جائے۔
(8)مسلمان جب تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے ، عذاب الٰہی سے امان میں رہیں گے اور جب اسے ترک کردیں گے تو عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجائیں گے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں دیگر تمام گناہوں سے خود بھی بچنےا ور دوسروں کو بھی بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 197 ظلم نہ روکنے پرسب پرعذاب
عَنْ اَبِیْ بَکْرٍ الصِّدِّیْقِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : یَااَیُّہَا النَّاسُ اِنَّکُمْ تَقْرَؤُوْنَ ہٰذِہِ الٰایَۃِ ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- ( وَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ النَّاسَ اِذَا رَاَوُا الظَّالِمَ فَلَمْ یاْخُذُوْا عَلٰی یَدَیْہ ِاَوْشَکَ اَنْ یَعُمَّہُمُ اللّٰہُ بِعِقَابٍ مِّنْہُ. ([1])
ترجمہ : امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے ، فرمایا : ’’اے لوگو! تم یہ آیت پڑھتے ہو : ) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْۚ-لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْؕ- ( (پ۷ ، المائدۃ : ۱۰۵) ترجمۂ کنزالایمان : ’’اے ایمان والو تم اپنی فکر رکھو تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا جو گمراہ ہوا جب کہ تم راہ پر ہو۔ “ اور میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے سنا : ’’جب لوگ ظالم کو (ظلم کرتا) دیکھ کر اس کا ہاتھ نہ پکڑیں ، تو قریب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان سب کو عذاب میں مبتلا کردے۔ ‘‘
سیدنا صدیق اکبر نے وَہم کو دُورکر دیا:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 105 سے مسلمانوں کو یہ وہم ہوا کہ انسان جب ان چیزوں پر عمل کرے جن کا اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حکم دیا ہے اور جن سے منع کیا ہے ، ان سے اجتناب کرے اور دیگر لوگوں کو اس کی مخالفت کرتا دیکھے تو انہیں بھلائی کا حکم نہ دے اور نہ برائی سے منع کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، جبکہ حقیقت میں نہ یہ گمان درست اور نہ ہی آیت کی مراد یہ ہے۔ ‘‘([2])
مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ : “ اے ایمان والو! اپنی فکر کرو ، اگر تم ہدایت پر رہو گے تو گمراہ ہونے والے تمہارا کچھ بگاڑ نہ سکیں گے۔ “ کے حوالے سے بعض لوگ سمجھتے تھے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ضرورت نہیں ، بلکہ آدمی کو اپنی اصلاح کرنا چاہیے ، دوسروں کے گناہ یا کوتاہیاں اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتیں۔ تو حضرتِ سَیِّدُنا ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اس مُغَالَطے کو دورکرتے ہوئے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس ارشاد گرامی کے حوالے سے بتایا کہ ’’جب لوگ برائی کو دیکھ کر اسے بدلنے کی کوشش نہ کریں تو وہ سب عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ‘‘([3])
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ اگر تم اس آیت کو پڑھ کر اسے عموم پر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع