دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

یہ ابو داؤد کے الفاظ ہیں جبکہ ترمذی کے الفاظ یہ ہیں : ’’جب بنی اسرائیل گناہوں میں پڑے تو ان کے علماء نے انہیں منع کیا لیکن وہ باز نہ آئے پھر ان کے علماء ان کی مجالس میں شامل ہوئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے لگے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان کے دل ایک جیسے کردیے اور ان کی نافرمانیوں اور حد سے تجاوز کرنے کے سبب حضرت سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرت سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبان سے ان پر لعنت فرمائی۔ ‘‘ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بیٹھ گئے حالانکہ پہلے آپ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ، جب تک تم انہیں حق کی طرف نہ پھیرو چھٹکارا نہیں پاسکتے۔ ‘‘

گناہگاروں کی صحبت کی نحوست:

مذکورہ حدیث پاک کے دو جز ہیں : پہلے جز میں ایک آدمی کا دوسرے کو گناہ سے روکنے کا ذکر ہے جبکہ دوسرے جز میں بنی اسرائیل کے علماء کا کردار بیان کیا گیا ہے۔ عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’جب بنی اسرائیل بدکاری ، ہفتے کے دن شکار کرنے اور ان کے علاوہ دیگر گناہوں میں مبتلا ہوئے تو ان کے علماء نے ابتدا میں  انہیں روکا ، مگر جب وہ لوگ باز نہ آئے اور اپنے علماء کی بات نہ مانی اور نہ ہی ممنوع چیزوں کو ترک کیا تو وہ علماء بھی اپنی قوم کی مجلسوں کے ہم نشین ہو گئے اور ان کے ساتھ کھانے پینے میں شریک ہوگئے ، جب ان لوگوں نے ایسا کیا تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے ان کے دل آپس میں خلط ملط کردیے۔ ‘‘ ابن الملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : ’’یعنی گناہگاروں کی نحوست کے سبب اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان لوگوں کے دل بھی سیاہ کردیے جنہوں نے گناہوں کا ارتکاب نہیں کیا تھا تو ان سب کے دل گناہوں اور دل کی سیاہی کے سبب حق اور خیر قبول کرنے سے یا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی رحمت سے دور ہوگئے اور پھر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے ان تمام نافرمانوں اور ان کے ہمراہیوں پر حضرتِ سَیِّدُنا داؤد عَلَیْہِ السَّلَام اور حضرتِ سَیِّدُنا عیسیٰ بن مریم عَلَیْہِمَا السَّلَام کی زبان سے لعنت فرمائی اور ان پر یہ لعنت اعلانیہ گناہوں کا ارتکاب کرنے ، گناہوں کو حلال سمجھ کر کفر کی حد سے تجاوز کرنے ، گناہوں پر رضامند ہونے اور گناہ کرنے والوں کو اچھا سمجھنے کی وجہ سے تھی۔ ‘‘([1])

بنی اسرائیل کے علماء کا کردار:

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’اس حدیث شریف میں بنی اسرائیل کے علماء کا کردار ذکر کرنے کے بعد اُس راستے پر چلنے سے روکا گیا ، نیز یہ  بتایا گیا کہ بنی اسرائیل کے علماء نے اپنی قوم کو بُرائی سے منع کیا ، جب وہ باز نہ آئے تو بجائے اس کے کہ وہ ان کا بائیکاٹ کرکے اُن کو برائی چھوڑنے پر مجبور کرتے ، خود ان کے ہم مجلس اور ہم پیالہ وہم نوالہ ہوگئے اور ان کے دل ایک جیسے ہوگئے جس کی بنیاد پر وہ لعنت کے مستحق ہوئے۔ ‘‘([2])

گناہ گاروں کی صحبت بھی گناہ ہے:

حدیث پاک میں بیان ہوا کہ ’’جو لوگ گناہ نہیں کرتے تھے ان لوگوں کے دل بھی نافرمانوں کی طرح سیاہ کردیے گئے۔ ‘‘ یہاں گناہ نہ کرنے سے مراد ظاہری گناہ یعنی بدکاری اور ہفتے کے دن شکار نہ کرنا ہے۔ ورنہ اصلاً تو یہ لوگ بھی ایک طرح سے خطاکار تھے کہ  ان لوگوں کا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانیوں میں مبتلا لوگوں کے ساتھ بغیر کسی کراہیت اور ناپسندیدگی کے کھانا پینا اور ان کی صحبت اختیار کرنا بالکل واضح گناہ ہے کیونکہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر بغض رکھنا اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ نافرمانوں سے دور رہا جائے ، ان سے ہجرت کی جائے ، ان سے تعلق ختم کیا جائے اور ان سے میل جول نہ رکھا جائے جبکہ بنی اسرائیل نے ان تقاضوں پر عمل نہ کیا جس کی وجہ سے ان کے دل سیاہ کردیے گئے۔ ‘‘([3])

نیکی کی دعوت دینے، برائی سے منع کرنے کی نصیحت:

بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان پر عذاب نازل ہونے کا تذکرہ کرنے کے بعد حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حدیث پاک کے آخر میں اپنی امت کو تلقین فرمائی کہ تم ہرگز ان جیسے اعمال مت کرنا اور ہمیشہ نیکی کی دعوت دیتے رہنا اور برائی سے منع کرنا ، اگر تم نے یہ فریضہ صحیح طور پر ادا نہ کیا تو پھر تم پر بھی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت ہوگی اور تم برباد ہوجاؤگے لہذا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرنا۔ مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’سرکار دو عالمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی امت کے ارباب اختیار اور علماء کو متنبہ کیا کہ تمہیں اس (بنی اسرائیل کے) طریقہ کار  سے بچنا ہوگا اور  برائی  کا ارتکاب کرنے والوں کا ہاتھ روکنا ہوگا ، منافقت و مداہنت سے کام لینے کے بجائے غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرنا اور امربالمعروف و نہی عن المنکر سے متعلق اپنی ذمہ داری کو پورا کرنا ہوگا ۔ ظالم کا ہاتھ روک کر اسے راہِ حق پر لانا ہوگا ، ورنہ تم بھی بنی اسرائیل کی طرح لعنت کے مستحق ہوجاؤگے۔ ‘‘([4])

مدنی گلدستہ

 



[1]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الادب ،  باب الامربالمعروف ، ۸ / ۸۸۰ ،  تحت الحدیث : ۵۱۴۸۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۱۳مکتبہ اسلامیہ۔

[3]   مرقاۃ المفاتیح  ،  کتاب الادب ،  باب الامربالمعروف ، ۸ / ۸۸۱ ،  تحت الحدیث : ۵۱۴۸ملخصًا۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۶ / ۵۱۳مکتبہ اسلامیہ۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن