دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’سب سے اچھے شہید حضرت حمزہ بن عبد المطلب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ، پھر وہ شخص جو حاکم کے پاس کھڑا ہوکر اسے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی فرمانبرداری کا حکم دے اور برائی سے روکے تو حاکم اسے اس وجہ سے قتل کروادے ۔ ‘‘([1])

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان امام غزالی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : ’’ظالم بادشاہ کو تبلیغ صرف وعظ و نصیحت سے ہوسکتی ہے ، قہر سے نہیں ۔ وہ بھی نرمی سے کیونکہ اسے ظالم جابر کہہ کر پکارنا گالیاں دینا سخت فتنے کا باعث ہے۔ شہد کی ایک بوند بہت سی مکھیوں کو جمع کرلیتی ہے مگر سرکہ کا ایک گھڑا مکھی کو نہیں بلاسکتا۔ ‘‘([2])

ظالم حکمرانوں کی تائید کرنے والے:

ظالم حکمرانوں کو نیکی کی دعوت دینا اور برے کاموں سے منع کرنا یقیناً ایک قابل تعریف عمل ہے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے معاشرے میں جہاں طرح طرح کے گناہوں کا بازار گرم ہے ، وہیں ظالم و جابر حکمرانوں کی تائید کرنے اور ان کے فسق و فجور جاننے کے باوجود ان کی حمایت کرنے کا گناہ بھی معاشرے میں تعفن کی طرح پھیلتا جارہا ہے ، صاحب منصب ، جاہ و حشمت اور حاکموں کی رفاقت اختیار کرنے کو بہت اچھا گمان کیا جانے لگا ہے۔ افسوس! صد افسوس! کہ ہم دنیا کی محبت میں اس قدر مستغر ق ہوگئے ہیں کہ دنیوی مال ودولت کی وجہ سےحق بیان کرنے سے عاجز آگئے ، آخرت کی فکر دل و دماغ سے محو ہوتی چلی جارہی ہے ، دِینِ اسلام جو کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا پسندیدہ دین ہے ، اس نے ہمیں نہ صرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا ہے ، بلکہ برے کاموں میں تعاون کرنے سے بھی منع کیا ہے ، لیکن آج کل ظالم حکمرانوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے جو کچھ کیا جاتا ہے ، وہ کسی سے مخفی نہیں ، ان کی کامیابی کے لیے دعائیں کی جاتی ہیں ، ان کی چاپلوسی کی جاتی ہےاور ان کی خلاف شرع باتوں کو بھی صحیح سمجھا جاتا ہے۔ یاد رکھیے! ظالم حکمرانوں کے لیے دعائیں کرنا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی پر رضامند ہونے کے مترادف ہے۔ چنانچہ حضور اکرم نور مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : “ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس وقت غضبناک ہوتا ہے جب کسی فاسق کی تعریف کی جائے۔ “ ([3]) ایک حدیث پاک میں ہے : “ جس نے کسی ظالم کے باقی رہنے کی دعا کی اس نے یہ پسند کیا کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی کی جائے۔“([4])

سَیِّدُناحسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی حق گوئی:

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمارے اَسلاف وبزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن اپنی حیاتِ طیبہ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت و فرمانبرداری میں صرف کیا کرتے تھے ، وہ ہر حال میں حق گوئی اور سچائی کا دامن تھامے رکھتے تھے ، عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اُمراء اور حکام کو بھی نیکی کی دعوت دیتے اور برائی سے منع کرتے اور دِین کے معاملے میں کسی حاکم کے عہدے اور منصب کا لحاظ نہ رکھتے تھے۔ ایسے واقعات سے کتب بھری پڑی ہیں ، فقط ایک واقعہ پیش خدمت ہے۔ حضرت ابن عائشہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ظالم بادشاہ حجاج بن یوسف نے حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی کو بلایا تو آپ اس کے پاس گئے ۔ اس نے آپ کو دیکھ کر کہا : ’’تم نے ہی یہ کہا ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ان اُمراء کو ہلاک کرے جنہوں نے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے بندوں کو درہم و دینار پر مار ڈالا ہے؟ ‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : ’’ہاں۔ ‘‘ حجاج بن یوسف نے پوچھا : ’’یہ بات کہنے پر آپ کو کس چیز نے ابھارا؟‘‘ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے نہایت ہی جرأت وبہادری کے ساتھ اسے منہ توڑ جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ  وَجَلَّنے علماء سے یہ عہد لیا ہے کہ لوگوں سے دِین بیان کریں گے اور اُسے چھپائیں گے نہیں۔ ‘‘ حجاج بن یوسف نے نہایت ہی بدتمیزی سے بکواس کرتے ہوئے کہا : ’’اے حسن! اپنی زبان رو کو اور آئندہ اس سے بچو کہ مجھے تمہاری طرف سے کوئی ناپسندیدہ بات پہنچے ورنہ میں تمہارا سر جسم سے جدا کردوں گا۔‘‘([5])

مدنی گلدستہ

’’بریلی ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور

اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول

   (1)ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے کیونکہ اس میں نفس کشی بھی ہے ، جان و مال ، عزت و آبرو کے تلف ہونے کا شدید خوف بھی اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر کامل یقین بھی۔

 



[1]   احیاء العلوم ، کتاب الاٰمربالمعروف والنھی عن المنکر ، الباب الرابع فی امر الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۴۲۰۔

[2]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۶۲۔

[3]   موسوعۃ الامام ابی الدنیا ،  کتاب الصمت و آداب اللسان ،  باب الغیبۃ التی یحل ۔ ۔ ۔  الخ ،  ۷ / ۱۵۴ ،  حدیث :  ۲۳۰۔

[4]   موسوعۃ الامام ابی الدنیا ،  کتاب الصمت و آداب اللسان ،  باب الغیبۃ التی یحل ۔ ۔ ۔  الخ ،  ۷ / ۱۵۴ ،  حدیث : ۲۳۱ ۔

[5]   احیاء العلوم ، کتاب الاٰمربالمعروف والنھی عن المنکر ، الباب الرابع فی امر الامراء ۔ ۔ ۔ الخ ، ۲ / ۴۲۴۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن