30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ترجمۂ کنزالایمان : اور جس نے ایک جان کو جِلا لیا اس نے گویا سب لوگوں کو جِلالیا۔ ([1])
کمالِ توکل، قوت ایمان پر دلالت:
عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ظا لم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو افضل جہاد اس لیے کہا گیاکہ یہ فعل ا س شخص کے کمال توکل ، قوت ایمان اور شدت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ وہ اس طرح کہ اس شخص نے ایسے ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے حق بات کہی کہ جو ظلم و ستم کرنا کا عادی ہے تو اس شخص نے اس حاکم کے ظلم سے بے خوف و خطر ہوکر حق بات کہی ۔ گویا کہ اس شخص نے اپنی جان کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دستِ قدرت پر فروخت کردیا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حق اور اس کے حکم کو اپنے نفس کے حق پر فوقیت دی ۔ برخلاف اس شخص کے کہ جو اپنے ہم پلہ دشمن سے جہاد کرے کیونکہ اُسے ایسا خطرہ نہیں ہوتا جو خطرہ ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے والے کو ہوتا ہے۔ ‘‘([2])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دونوں احادیث میں ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے بہترین جہاد فرمایا گیا ہے اور حاکموں کو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والے شخص کو اللہ عَزَّ وَجَلَّ پر توکل اور کامل یقین رکھنے والوں میں شمار کیا گیا ہے ، لیکن ہر انسان اس اہم کام کو سرانجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ ہی ہر شخص اس بات پر قادر ہے کہ وہ اپنا پیغام بادشاہ اور حکام تک پہنچائےبلکہ یہ کام تو خاص طور ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جن کے حاکموں ، وزراؤں اور اہل منصب افراد سے قریبی تعلقات ہیں اور ایسے لوگ ہی حکماء اور اَمراء کو دین و شریعت کا درس دے سکتے ہیں۔ لیکن حاکموں کو نیکی کی دعوت دینے اور عام افراد کو نیکی کی دعوت دینے میں بہت فرق ہے ، کیونکہ ممکن ہے کہ اگر عوام الناس کو آپ کی کوئی بات ناگوار گزرے گی تو وہ صبر کرلیں ، لیکن اگر حکام کو کوئی بات ناپسند آئی تو آپ کو ضرر پہنچنے کا قوی امکان ہے۔ لہذا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے سے پہلے اس کے آداب جاننا ضروری ہے ، تاکہ نیک مقصد میں کامیابی کو ممکن بنایا جاسکے۔ اسی ضمن میں ہمارے اکابرین نے نہایت حکمت بھری نصیحتیں فرمائی ہیں کہ جن پر عمل پیرا ہوکر اس عظیم مقصد میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ چنانچہ ،
بادشاہ کو نصیحت کرنے کا انداز:
امام الائمہ ، سراج الامہ امام اعظم ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے شاگردِ رشید امام ابو یوسف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو بادشاہ کو نیکی کی دعوت دینے کے متعلق نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’جب تم بادشاہ کے اندر کوئی خلافِ شرع بات دیکھو تو اس کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے سامنے اس برائی کا ذکر کر دو ، کیونکہ اس کی طاقت وقوت تم سے زیادہ ہے ، اس سے یوں کہو کہ : جن باتوں میں آپ کو مجھ پر اقتدار واختیار حاصل ہے میں ان میں آپ کا فرمانبردار ہوں ، لیکن آپ کے کردار میں کچھ ایسی چیزیں دیکھ رہا ہوں جو شریعت کے موافق نہیں۔ یہ یاد رہے کہ ایک مرتبہ نصیحت کردینا ہی کافی ہے ، بار باربادشاہ کو نصیحت کروگے تو اس کے درباری تمہارا اثر ورسوخ ختم کر دیں گے ، جس کی وجہ سے دین کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ایک یا دومرتبہ نصیحت کردو تاکہ لوگ تمہاری دینی جدوجہداور نیکی کی دعوت کے جذبے کوجان لیں۔ اس کے بعداگر بادشاہ دوبارہ کسی برائی کا ارتکاب کرے ، تواس کے گھر میں تنہائی میں اسے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی ترغیب دو اور اگر وہ بد عتی ہو تو (علم ہونے کی صورت میں) اس سے مناظرہ کرو اور قرآنِ حکیم کی آیات بیِّنات ، فرامینِ رسول میں سے جس قدر تمہیں یاد ہو اسے بیان کرکے اس کی اصلاح کرنے کی کوشش کرو ، اگر وہ حق بات قبول کرلے تو ٹھیک ہے ورنہ بارگاہِ خداوندی میں عرض کروکہ وہ تمہیں ظالموں کے ظلم سے محفوظ رکھے۔ ([3])
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر امراء کو نیکی کی دعوت دینا نہایت قابل تعریف کام ہے ، لیکن اس کام کو انجام دیتے ہوئے اس امر کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ظالم بادشاہ کو نیکی کی دعوت دینے میں سختی کا راستہ اختیار کرے اور نتیجۃً حاکم رعایا پر سختی کرکے انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنائے ۔ لہٰذا ہر اس طریقے سے اجتناب کرنا لازم ہے جس سے دوسروں کو نقصان پہنچے ، ہاں اگر سخت الفاظ استعمال کرنے میں صرف اپنی ذات کو ضرر پہنچنے کا اندیشہ ہو تو یہ طریقہ اختیار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ چنانچہحُجَّۃُ الْاِسلام حضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’بادشاہ کو یوں مخاطب کرنا : اے ظالم! اے وہ شخص جواللہ عَزَّ وَجَلَّسے نہیں ڈرتا اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ تو یہ دیکھا جائے گا کہ اگر اس سے ایسا فتنہ وفساد پیدا ہوتا ہے جس کا شر دوسرے افراد تک پہنچتا ہے تو اس انداز کو اختیار کرنا اس کے لیے جائز نہیں اور اگر اس سے صرف اپنی ہی ذات کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو تو یہ صورت جائز بلکہ مستحب ہے ۔ کیونکہ ہمارے اسلاف کا طریقہ رہا ہے کہ وہ اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر حق بات ظالم بادشاہ کے سامنے وا ضح الفاظ میں کہہ دیتے تھے ، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر انہیں بادشاہ کے حکم سے حق بات کہنے کی وجہ سے قتل کردیا جائے تووہ شہید ہوں گے۔ حدیث پاک میں حضور نبی اکرم نو رِمجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع