دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Faizan e Riaz us Saliheen Jild 3 | فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

book_icon
فيضانِ رياضُ الصالحين جلد سوئم

عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ :  اَفْضَلُ الْجِہَادِ کَلِمَۃُ عَدْلٍ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ([1])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے۔ ‘‘

حدیث نمبر : 195                                                                  ظالِم حاکِم کے سامنے حق بات کہنا

عَنْ اَبِیْ عَبْدِ اللّٰہِ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ البَجَلِیِّ الْاَحْمَسِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَجُلاً سَاَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم وَقَدْ وَضَعَ رِجْلَہُ فِیْ الْغَرْزِ :  اَیُّ الْجِہادِ اَفْضَلُ ؟ قَالَ :  کَلِمَۃُ حَقٍّ عِنْدَ سُلْطَانٍ جَائِرٍ. ([2])

ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو عبداللہ طارق بن شہاب بَجَلی اَحْمَسِی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے اس وقت پوچھا کہ جب آپ نے اپنا پاؤں مبارک رکاب میں رکھ دیا تھا : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کون سا جہاد افضل ہے؟‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنا۔‘‘

حق بات کہنے کی صورتیں:

مذکورہ احادیث میں ظالم و جابر حکمرانوں کے سامنے حق بات کہنے کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے اور فاسق بادشاہ کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے افضل جہاد قرار دیا گیا ہے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہنا اس اعتبار سے افضل جہاد ہے کہ اس میں ثواب زیادہ ہے نیزجابر سلطان کے مقابل حق بات کہنے کی چند صورتیں ہیں ، اسے بھلائی کا حکم دے یا بُرائی سے منع کرے یا کسی کی جان ، مال اور عزت وآبرو پامال کرنے سے روکے۔‘‘([3])

مُفَسِّر شہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ظالم حاکم کے سامنے حق بات کہنے کے متعلق ارشادفرماتے ہیں : ’’اگرچہ ایک کلمہ ہی ہو جیسے ہاں یا نہیں مثلًا فاسق بادشاہ اس سے پوچھے : کیا داڑھی منڈانا اچھا ہے؟وہ کہہ دے : نہیں۔ یہ ’’نہیں‘‘ کہنا بڑا جہاد ہے۔ ‘‘([4])

سب سے افضل جہاد ہونےکی وجوہات:

مذکورہ بالا دونوں احادیث میں ظالم و جابر حاکم کے سامنے حق بات کہنے کو سب سے افضل جہاد فرمایا گیا ہے شارحین حدیث نے اس جہاد کے سب سے اعلیٰ و ارفع ہونے کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی عَلَّامَہْ خَطَّابِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِیکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ یہ جہاد کفار سے قتال کرنے کے مقابلے میں زیادہ افضل اس لیے ہے کہ جو شخص دشمن کے مدّ مقابل ہوتا ہے اسے زندہ بچنے کی اُمید بھی ہوتی ہے اور موت کا خوف بھی ، وہ نہیں جانتا کہ غالب ہوگا یا مغلوب ، لیکن جو شخص ظالم حاکم کے سامنے حق بات بیان کرتا ہے ، اسے نیکی کا حکم دیتا ہے ، وہ اس حاکم کے یہاں مجبور و مغلوب ہے ، گویا کہ ایسا شخص اپنے آپ کو اذیت میں ڈال رہا ہے اور اپنی جان کو ہلاکت پر پیش کررہاہے ، اُسے بس خوف لاحق ہے ، بچنے کی اُمید نہیں ، اسی غلبہ خوف کی بناء پر اِس جہاد کو جہاد کی تمام اقسام میں افضل قرار دیاگیا ہے۔ ‘‘([5])

مُفَسِّر شہِیر ،  مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اگر بادشاہ اس کی تبلیغ کے نتیجے میں ان لوگوں پر ظلم کرنے سے باز آجائے تو ایک مخلوق کو ظلم سے رہائی نصیب ہوجائے گی ، جبکہ قتل کافر سے ایک کافر کم ہوگا مگر اس تبلیغ سے کثیر خلقِ خدا کو فائدہ ہوگا۔ ‘‘([6])

حق گوئی جہادِ اکبرہے:

عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ظالم حاکم کے سامنے حق گوئی کرنا جہادِ اکبر ہونے کی وجہ سے سب سے افضل جہاد ہے کیونکہ اس میں مخالفتِ نفس پائی جاتی ہے ، (نفس تو بادشاہ کی خوشامد کرنا چاہتاہے تاکہ اِنعام و اِکرام سے نوازا جائے۔ ) وہ نہیں چاہتا کہ حاکم کو نیکی کی دعوت دے کر خود کو پریشانی اور تکلیف میں ڈالے باوجود یکہ اس میں حاکم اور رعایا دونوں کے لیے نصیحت ہے اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ حاکم کو نہی عن المنکر کے ذریعے کسی مسلمان کو ظلمًا قتل کرنے سے روکنا اور مسلمان کو قتل ہونے سے بچانا کافر کو قتل کرنے سے زیادہ افضل ہے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرتا ہے :

وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًاؕ- ( پ۶ ، المآ ئدۃ  : ۳۲)

 



[1]   ابو داود ،  کتاب الملاحم  ،  باب الامر و النھی ، ۴ /  ۱۶۶ ،  حدیث : ۴۳۴۴۔

[2]   نسائی ،  کتاب البیعۃ  ،  باب فضل من تکلم بالحق عند امام جائر  ،  ص۶۸۶ ،  حدیث : ۴۲۱۵۔

[3]   دلیل الفالحین ،  باب فی الامربالمعروف ، ۱ / ۴۸۴ ،  تحت الحدیث : ۱۹۶۔

[4]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۶۲۔

[5]   شرح الطیبی ،  کتاب الاٰمارۃ والقضاء ، الفصل الثانی ، ۷ / ۲۵۴ ،  تحت الحدیث : ۳۷۰۵۔

[6]   مرآۃ المناجیح ، ۵ / ۳۶۳ ملخصًا۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن