30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تفسیر ِطبری میں ہے : ’’نیکی وہ عمل ہے جس کے کرنے کا اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے حکم فرمایا ہےاور پرہیزگاری یہ ہے کہ بندہ اُن تمام کاموں سے بچے جن سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے بچنے کا حکم فرمایا ہے۔ ‘‘([1])حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں کہ سنت کی اتباع کو نیکی کہتے ہیں۔ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : ’’اچھے اَخلاق کو نیکی کہتے ہیں اور گناہ وہ ہے جو تیرے دِل میں کھٹکے اور لوگوں کا اُس پر مطلع ہونا تجھے ناپسند ہو۔ ‘‘([2])
صَدرُ ا لا فاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّدمحمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیتفسیرِ خزائن العِرفان میں اِس آیت کے تحت فرماتے ہیں کہ بعض مفسِّرین نے فرمایا : ’’جس کا حکم دیا گیا اُس کا بجا لانا بِرّ (نیکی) اور جس سے منع فرمایا گیا اُس کو ترک کرنا تقویٰ اور جس کا حکم دیا گیا اُس کو نہ کرنا اِثْم (گناہ) اور جس سے منع کیا گیا اُس کو کرنا عُدْوَان (زیادتی) کہلاتا ہے۔‘‘
اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتاہے :
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳) ( پ ۳۰ ، العصر ، ۱۔ ۳)
ترجمۂ کنزالایمان : اس زمانہ محبوب کی قسم بے شک آدمی ضرور نقصان میں ہےمگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
(1)عصر سے مراد دَھَریعنی زمانہ ہے کیونکہ اس میں عجائبات اور عبرت کی چیزیں ہیں۔ حدیث پاک میں زمانے کو بُرا کہنے سے منع کیا گیا ہےکیونکہ لوگ مصیبتوں اور پریشانیوں کو زمانے کی طرف منسوب کردیتے تھے حالانکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ زمانے کا خالق ہے ، وہی اس میں تبدیلی کرنے والا ہے اور جسے جو بھی کوئی مصیبت یا پریشانی آتی ہے وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مرضی اور تقدیر سے آتی ہے۔ (2)عصر سے مراد دن اور رات ہیں کیونکہ یہ دونوں بندوں کے اعمال کے لئے خزانہ ہیں۔ (3)اس سے مراد نمازِ عصر ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کے شرف کی وجہ سے اس کی قسم ارشاد فرمائی۔ (4)عصر سےمراد حضور نبی کریم ، رَ ؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ ہے ، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس سےتنبیہ فرمائی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا زمانہ تمام زمانوں سے افضل اور اشرف ہے۔ ([3]) (اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اسی معنی کو اختیار فرمایا ہے۔ )
اِنسان اور اُس کے نقصان کی وضاحت:
انسان سے مراد اگر مطلق انسان ہو اور اس کی زندگی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں گزری تب تو نقصان بالکل ظاہر ہے اور اگر اطاعت وفرمانبرداری میں گزری تو پھر یوں نقصان میں رہا کہ اس نے ایک چھوٹی نیکی پر عمل کیاجبکہ وہ اس سے بڑی نیکی پر عمل کرسکتا تھا۔ اس طرح ہرانسان نقصان میں ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ انسان سے مراد کفار ہیں کیونکہ اگلے حصے میں مؤمنین کو نقصان والے حکم سے جدا کیا گیا ہے۔ اب معنی یہ ہوئے کہ کفار نقصان میں ہیں لیکن مؤمنین نہیں۔ البتہ مؤمنین کی عمرکا وہ حصہ جو اطاعت وفرمانبرداری میں گزرا وہ فائدے میں ہے اور جو نافرمانی میں گزرا وہ نقصان میں ہے۔ ([4])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث : 177 مُجَاہِد کی مدد کرنے والے کا اجر
عَنْ اَبِی عَبْدِ الرَّحْمٰنِ زَیْدِ بْنِ خَالِد الْجُهَنِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ نَبِیُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ’’مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ فَقَدْ غَزَا وَمَنْ خَلَفَ غَازِیًا فِي اَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا.‘‘ ([5])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُناابو عبدالرحمٰن زید بن خالدجہنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی رَحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو سازوسامان دیا تو گویا اس نےبھی جہاد کیا اور جس نے جہاد کرنے والے کے اہل وعیال کی اچھے طریقے سے دیکھ بھال کی تو اس نے بھی جہاد کیا۔ ‘‘
مذکورہ حدیث پاک سے یہ معلوم ہوتا ہے جس نے کسی بھی مسلمان کی نیکی کے کام میں مدد کی تو اس مدد کرنے والے کے لیے اس نیکی کرنے والے کے برابر اجر ہےاور تمام نیک اعمال میں یہی معاملہ ہے ، اسی طرح جس نے کسی کی گناہ والے کام میں مدد کی تو اس مدد کرنے والے کو اس گناہ کرنے والے کے برابر گناہ ملے گا اور تمام گناہوں میں مدد کرنے
[1] تفسیر طبری ، پ۶ ، المائدۃ ، تحت الایۃ : ۲ ، ۴ / ۴۰۵۔
[2] تفسیر خازن ، پ۶ ، المائدۃ ، تحت الایۃ : ۲ ، ۱ / ۴۶۱ ۔
[3] تفسیر خازن ، پ۳۰ ، العصر ، تحت الایۃ : ۱ ، ۴ / ۴۰۵ ، ملتقطا۔
[4] تفسیر خازن ، پ۳۰ ، العصر ، تحت الایۃ : ۱ ، ۴ / ۴۰۵ ، ملتقطا۔
[5] بخاری ، کتاب الجھاد ، باب فضل من جھز غازیا او خلفہ بخیر ، ۲ / ۲۶۷ ، حدیث : ۲۸۴۳۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع