30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
افسوس! صدکروڑافسوس! آج کل مسلمانوں میں نیکیوں کا ذِہن بہت کم ہو گیا ہے ، بس ہر طرف گناہوں کا دَور دَورہ ہے ، نیکی کی دعوت کی طرف بھی کوئی خاص رغبت نہیں رہی۔ نیک بننے اور گناہوں سے بچنے اور ایمان کی حفاظت کیلئے فی زمانہ دعوتِ اسلامی کا مَدَنی ماحول کسی نِعمتِ غیر مُترقبہ (غیر۔ مُ۔ تَ۔ رَق۔ قَ۔ بَہ یعنی وہ دولت جس کے حصول کا گمان نہ ہو)سے کم نہیں ، آج کے گناہوں بھرے ماحول میں پلنے والے بڑے بڑے مجرِم مَدَنی ماحول میں آکر اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ سنّتوں کے سانچے میں ڈھل گئے۔ اِس ضِمن میں ایک ’’مَدَنی بہار‘‘پیش خدمت ہے :
میں گناہوں کی تاریکیوں میں گم تھا:
گجرات(پنجاب ، پاکستان)کے مقیم اسلامی بھائی کے بیان کاخلاصہ پیشِ خدمت ہے : تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک’’دعوتِ اسلامی‘‘کے مَدَنی ماحول سے وابَسۃ ہونے سے قبل میں گناہوں کی تاریکیوں میں گم تھا۔ غفلت کے اندھیروں نے مجھے دین سے عَمَلًا اِس قَدَر دُور کر رکھا تھا کہ نَماز ، روزے کی کچھ پرواہ نہ تھی۔ ایک روزجب حسبِ معمول میرے قاری صاحِب گھرمیں مجھے قراٰنِ پاک پڑھانے کے لیے آئے تواُس وقت میںT.V.پر ڈرامہ دیکھنے میں مصروف تھا ، میں نے کہا : ’’قاری صاحِب! آپ تشریف رکھئے میں ڈرامہ دیکھ کر ابھی آرہاہوں بس تھوڑاہی رہ گیا ہے۔ ‘‘ قاری صاحِب کاحوصلہ بھی کمال کا تھا ، ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے نہایت ہی شَفقَت سے اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے اُنہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ’’ٹی وی کی تباہ کاریاں‘‘ پڑھ کرسنایا۔ رسالہ سن کربے اختیارندامت و شرمندَگی مجھ پرغالِب آئی اورمیں خوفِ خدا سے سرتاپا لرزاُٹھا!قاری صاحِب کی نصیحت پرعمل کرتے ہوئے میں نے جب اپنی گزَشتہ زندگی کااِحتساب کیا تو میرا دل رونے لگاکہ آہ!صدہزار آہ!میں نے زندَگی کا اِتنا بڑا حصّہ فُضُولیات ولَغوِیات میں صَرف کردیااورمجھے اِس کا اِحساس تک نہ ہوا! اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ میں نے صِدقِ دل سے توبہ کی اورعَزمِ مُصَمَّم کرلیاکہ آیَندہ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّ گناہوں سے بچتارہوں گا ، نَمازکی پابندی کرتے ہوئے سنّتوں بھری زندَگی گزارنے کی کوشش کرتا رہوں گا ، اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ و رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی ، جھوٹ ، غیبت ، چغلی اور وعدہ خِلافی وغیرہ وغیرہ سے بچتارہوں گا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مُشکبار مَدَنی ماحول نے میری کایا پلٹ دی اورمجھ سابگڑا ہواانسان بھی سُدَھرنے پر کمر بستہ ہوگیا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعاہے کہ ہمیں مدَنی ماحول میں اِستِقامت عطا فرمائے۔ آمین
تُو نرمی کو اپنانا جھگڑے مٹانا …… رہے گا سدا خوشنما مَدَنی ماحول
تُو غصّے جھڑکنے سے بچنا وگرنہ …… یہ بدنام ہو گا ترا مَدَنی ماحول
’’نیکی‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اگر لوگ نیکی کی دعوت دینا بالکل چھوڑ دیں تو پھر اللہ عَزَّ وَجَلَّکے عذاب کو کوئی نہیں روک سکتا ، کیونکہ دو باتوں میں سے ایک ہی ہوگی یا تو لوگ نیکی کی دعوت دیتے رہیں گے یا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا عذاب ان پر نازل ہوگا۔
(2)عموماً بلائیں یا مصیبتیں دعاؤں کی برکت سے دُور ہوجاتی ہیں کہ دعا مؤمن کا ہتھیار ہے ، مگر نیکی کی دعوت کو ترک کرنے کے سبب جو عذاب نازل ہوتا ہے وہ دعاؤں سے بھی نہیں ٹلتا ، اس لیے نیکی کی دعوت کو کسی بھی صورت ترک نہیں کرنا چاہیے۔
(3)جو مصیبت نیکی کی دعوت ترک کرنے اور بُرائی سے منع نہ کرنے کی وجہ سے نازل ہوتی ہےاس کو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انسان رب تعالیٰ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر دوبارہ شروع کردے اور اب اس میں کوتاہی نہ کرے۔
(4)امر باالمعروف ونہی عن المنکر ترک کرنے کا وبال مختلف صورتوں میں ظا ہر ہوتا ہے ، بسا اوقات ظالم حکمران یا دشمن مسلط کردیا جاتا ہے ، بسا اوقات شدید مصائب وآلام میں مبتلا کردیا جاتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے جیسے اہم فریضے کی ہمیشہ ادا ئیگی کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان کے ترک سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 194 سب سے افضل جہاد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع