30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَنوار سے مُسْتَفِیْض ہونے کا شرف عطا فرمایا ، بلکہ یہ تمام کے تمام سردار اور رہنما ہیں ۔ اِن کی فضیلت کے لیے تو بس آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ ارشاد ہی کافی ہے : “ اَصْحَابِیْ کَالنُّجُوْمِ بِاَیِّھُمْ اِقْتَدَیْتُمْ اِھْتَدَیْتُم یعنی میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم اِن میں سے جسکی بھی پیروی کرو گے ہدایت پاجاؤگے۔ ‘‘([1])
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلسنت ، مجدِّدِدِین وملت ، پروانہ شمعِ رسالت ، مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اسی حدیث کی ترجمانی کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
اہلسنت کا ہے بیڑا پار اَصحابِ حضور
نجم ہیں اور ناؤ ہے عترت رسولُ اللہ کی
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دِین اِسلام نے نیکی دعوت عام کرنے اور بُرائیوں سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ مذکورہ حدیث پاک میں بھی بیان ہوا کہ حضرتِ سَیِّدُنا عائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اِبن زِیاد کو رِعایا کے ساتھ نرمی اور بھلائی کا معاملہ کرنے کی نصیحت فرمائی اور اسے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد گرامی سنایا۔ ہمیں بھی اس حدیث پاک سے درس ملتا ہے کہ انسان کو ہر سطح پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنا چاہیے امیر ہو یا غریب ، حاکم ہو یا محکوم ، چھوٹا ہو یا بڑا ، بادشاہ ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت الغرض دنیا کے ہر طبقے تک دین اور شریعت کو پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ معاشرے کی بقاء اور فلاح وبہود اسی میں ہے کہ ہر جگہ اور ہر زمانے میں نیکی کی دعوت عام کی جائے اور برائیوں سے منع کیا جائے۔ کیونکہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کے یہی و ہ ذریں اصول ہیں ، جس میں انسانیت کے لیے امن و سکون ، اخوت و بھائی چارہ ، رواداری اور اعتدال و انصاف جیسے اہم انعامات پوشیدہ ہیں۔
سیدنا’’عثمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)بُرائی کو استطاعت کے مطابق روکنا چاہیے جیساکہ حضرتِ سَیِّدُناعائذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابنِ زیاد جیسے ظالم کو اپنی قدرت کے مطابق زبان سے روکا اور نیکی کی دعوت پیش کی۔
(2)بدترین حاکم وہ ہے جو اپنی رعایا پر ظلم کرے ، اُن کے حقوق تلف کرے اور ناجائز ٹیکسوں کے بوجھ اُن پر ڈال کر انہیں پریشان کرے۔
(3)امیر ہو یا غریب ، حاکم ہو یا محکوم ، چھوٹا ہو یا بڑا ، بادشاہ ہو یا غلام ، مرد ہو یا عورت ہرشخص کو اپنی طاقت وقوت کے مطابق نیکی کی دعوت عام کرنی چاہیے۔
(4)تمام صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اِس اُمَّت کی عظیم ترین اور سب سے افضل ہستیاں ہیں ، اِن کے کردار و گفتار ، عدالت و سخاوت ، عبادت و ریاضت ، شجاعت و بہادری کے حسین باب موجود ہیں۔
(5)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ادنیٰ سے گستاخی بھی دنیا وآخرت کی تباہی وبربادی کا سبب ہے ، اِس لیے ان مبارک ہستیوں کی ہمیشہ تعریف کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہردم نیکی کی دعوت دینے اور برائی سے منع کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا عشق اور محبت عطا فرمائے ، اُن کی گستاخی سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
حدیث نمبر : 193 امربالمعروف و نہی عن المنکرترک کرنے کا وبال
عَنْ حُذَیْفَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَتَاْمُرُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ وَلَتَنْہَوُنَّ عَنِِ المُنْکَرِ اَوْ لَیُوْشِکَنَّ اللّٰہُ اَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عِقَابًا مِنْہُ ثُمَّ تَدْعُوْنَہُ فَلاَ یُسْتَجَابُ لَکُمْ. ([2])
ترجمہ : حضرتِ سَیِّدُنا حذیفہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’اُس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ، تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اوربُرائی سے منع کرتے رہنا ، ورنہ قریب ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے ، پھر تم اُس کی بارگاہ میں دُعا کرو گے ، لیکن تمہاری دُعا قبول نہیں کی جائے گی۔ ‘‘
نیکی کی دعوت ترک کرنے کا نقصان:
مذکورہ حدیث پاک میں اِس بات کا بیان ہے کہ لوگ جب تک امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ سرانجام دیتے رہیں گے اس وقت تک عذابِ الٰہی سے محفوظ رہیں گے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع